سلامتی کونسل میں ایران مخالف قراردا د ناکام

169
نیویارک: یمن اور ایرانی مداخلت سے متعلق سلامتی کونسل کا اجلاس ہو رہا ہے‘ روسی سفیر اپنا موقف پیش کر رہے ہیں
نیویارک: یمن اور ایرانی مداخلت سے متعلق سلامتی کونسل کا اجلاس ہو رہا ہے‘ روسی سفیر اپنا موقف پیش کر رہے ہیں

نیوریاک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران مخالف ایک قرارداد ناکام ہو گئی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق قرارداد میں سعودی عرب پر یمن کے حوثی باغیوں کے میزائل حملوں میں ایران کو بھی ملوث ٹھہرایا گیا تھا۔ تاہم اس موقع پر روس نے اسے ویٹو کر دیا۔ روسی سفیر واسیلی نیے بینزیا نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے تیار کردہ اس دستاویز میں پیش کی جانے والی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ یہ قرارداد برطانیہ کی طرف سے پیش کی گئی تھی، اور اسے امریکا اور فرانس کی حمایت حاصل تھی۔ قرارداد کے ویٹو کر دیے جانے کے بعد ایران کی جانب اشارہ کیے بغیر صرف ہتھیاروں کی منتقلی پر پابندی کی تجدید پر اکتفا کیا گیا۔ سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر یمن میں ماہرین کی کمیٹی کے کام کی توسیع کی منظوری دی۔ سلامتی کونسل میں کسی بھی قرار داد کی منظوری کے لیے کم از کم 9 ارکان کی موافقت کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ کسی بھی مستقل رکن کی جانب سے ویٹو کا حق استعمال نہ کیا جائے۔ پیر کے روز برطانیہ کی قرار داد کی حمایت میں 11 ارکان نے ووٹ دیا اور 2 ارکان نے مخالفت کی، جن میں ویٹو کا حق استعمال کرنے والا روس شامل ہے، جب کہ 2 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ روس کی جانب سے قرار داد کو ویٹو کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے ایک بیان میں روس پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کے سر پرست ایرانی نظام کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ ہیلی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ ہنڈوراس میں موجود امریکی سفیر نے کہا کہ اگر روس ایران کے خطرناک اور خطے کو غیر مستحکم کرنے والے برتاؤ کے خلاف کسی بھی اقدام کو روکنے کے لیے ویٹو کا حق استعمال کرے گا، تو امریکا اور اس کے شراکت دار ایران کے خلاف ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہو جائیں گے، جن کو رکنا روس کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ یمن میں اقوام متحدہ کے ماہرین کی خود مختار ٹیم کی جانب سے پیش کردہ واضح شواہد کے باوجود سلامتی کونسل ایسا کوئی بھی فیصلہ کرنے میں ناکام رہی، جس کا مقصد ایران کو اپنے افعال پر نظر ثانی کے لیے مجبور کرنا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ