مشرقی غوطہ ،جنگ بندی قرار داد کے باوجود بمباری ،20 افراد شہید 

332
دمشق: شام سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کے باوجود پیر کے روز روسی اور اسدی افواج کی بم باری کا نشانہ بننے والی رہایشی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں‘ دوما میں شہید ہونے والے شہریوں کی لاشیں رکھی ہیں‘ کیمیائی حملے سے متاثر بچہ کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے
دمشق: شام سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کے باوجود پیر کے روز روسی اور اسدی افواج کی بم باری کا نشانہ بننے والی رہایشی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں‘ دوما میں شہید ہونے والے شہریوں کی لاشیں رکھی ہیں‘ کیمیائی حملے سے متاثر بچہ کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے دمشق: شام سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کے باوجود پیر کے روز روسی اور اسدی افواج کی بم باری کا نشانہ بننے والی رہایشی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں‘ دوما میں شہید ہونے والے شہریوں کی لاشیں رکھی ہیں‘ کیمیائی حملے سے متاثر بچہ کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) سلامتی کونسل میں شام میں جنگ بندی کی قرارداد منظور ہونے کے باوجود اسد حکومت اور روس نے مشرقی غوطہ میں دوما اور حرستا شہروں کو نشانہ بنایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق پیر کے روز ہونے والی بم باری اور میزائل حملوں کے نتیجے میں دوما میں کئی بچوں سمیت کم از کم 17 شہری شہید ہوئے، جن میں 9 کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے، جب کہ 3شہری حرستا میں لقمہ اجل بنے۔ مشرقی غوطہ میں اتوار کے روز ایک اور کیمیائی حملہ بھی کیا گیا ۔ مقامی ذرائع کے مطابق بعض شہریوں کو کلورین گیس کے جیسے اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران ایک شامی بچہ شہید بھی ہوگیا۔ شامی حزب اختلاف کے مطابق مشرقی غوطہ میں ایک زور دار دھماکے کے بعد متاثرہ افراد اور ایمبولینس گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی سانسوں کے ساتھ کلورین گیس چلی گئی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم 18 افراد کو آکسیجن کی فراہمی کے ذریعے علاج مہیا کیا گیا۔ شامی مبصر نے تصدیق کی ہے کہ مشرقی غوطہ پر اسی فوج کی بم باری کے نتیجے میں دم گھٹنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوا اور کم از کم 13 شہریوں کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق متاثرہ افراد کو جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، غوطہ میں فیلڈ اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال میں مریضوں کا معاینہ کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر افراد آنکھوں میں خارش اور سانس میں دشواری کے مسائل میں مبتلا ہیں۔ شامی حزب اختلاف کے رہنما محمد علوش نے اپنی ایک ٹوئٹ میں اسد حکومت پر ذمے داری عائد کی کہ اس نے کیمیائی گیسوں کا استعمال دوبارہ شروع کرتے ہوئے شیفونیہ کے علاقے کو 2 مرتبہ کلورین گیس کے ساتھ بم باری کا نشانہ بنایا ہے۔ رواں سال کے آغاز کے بعد شام کے مختلف علاقوں بالخصوص مشرقی غوطہ اور شمال مغربی شہر سراقب میں کئی بار دم گھٹنے کی علامات سامنے آ چکی ہیں۔ امریکا اور فرانس سمیت مغربی ممالک نے رواں ماہ کے اوائل میں دھمکی دی تھی کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ناقابل تردید ثبوت دستیاب ہونے کی صورت میں وہ فوجی کارروائی کریں گے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نے پیر کے روز مطالبہ کیا کہ شام میں جنگ بندی کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قرار داد پر فوری عمل کیا جائے۔ گوٹیریس نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرار دادیں صرف اس وقت با معنی ثابت ہوتی ہیں جب انہیں عملی طور پر نافذ کیا جائے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ