مزدور اللہ کا دوست ہے،دنیاوی اعزازات کی کوئی حیثیت نہیں‘ کنیز فاطمہ

192

سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والی 80 سالہ انتہائی متحرک اور جواں عزم و حوصلہ رکھنے والی خاتون کے احوال زندگی پر ایک نظر
مظلوم و بے کسوں کے حقوق کی علم برداراور براعظم ایشیا کی واحد خاتون مزدور رہنما سے جسارت کی خصوصی بات چیت

1
گفتگو: سلمان علی
سوال: اپنے بچپن،گھرانے اور ابتدائی زندگی کے حالات کے بارے میں کچھ بتائیں؟
کنیز فاطمہ: میری پیدائش گجرانوالہ کی ہے اور وہیں پر میری ابتدائی پرورش بھی ہوئی۔ گجرانوالہ میں کانگریس خاصی مضبوط تھی۔ وہاں سکھ بھی تھے، ہندو اور مسلمان بھی۔ میرے والد کا چھوٹا سا ہوٹل تھا اور میرے بھائی اپنا کام کرتے تھے۔ ہمارا گھرانہ بنیادی طور پر سیاسی تھا۔ قیام پاکستان سے قبل ہی میرے والد کانگریس کے سرگرم اور نظریاتی کارکن تھے اور عملی طور پرسیاست میں تھے۔ میں نے بچپن ہی سے سیاسی ماحول میں پرورش پائی۔ میرا بڑا بھائی جماعت احرار میں تھا۔ والد صاحب سے میری انسیت بہت زیادہ تھی۔ گھر میں مختلف سیاسی اجلاس ہوتے تھے تو میں جا کر اُن کے بیچ بیٹھ جاتی تھی۔ کوئی جلسہ ہوتا تھا تو میں کہتی تھی کہ مجھے ساتھ لے کر چلیں۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ ایک جلسہ تھا گجرانوالہ میں، جس میں حضرت عطا اللہ شاہ بخاری ؒکا خطاب ہونا تھا۔ میرے بھائی مجھے ساتھ لے گئے۔ کانفرنس کا آغاز ہوا تو انہوں نے کہا کہ یہ بچی تلاوت کلام پاک سنائے گی۔ میں نے وہاں سورۃ فیل پڑھی تو بخاری صاحب نے مجھے بہت پیار کیا۔ اس وقت میری عمر 5 سال تھی۔ یہ میرا عوامی جلسے میں پہلی مرتبہ مائیک سے سامنا ہوا تھا۔ کانگریس کے فارورڈ بلاک والے سب عوامی مسائل کو حل کرنے میں کوشاں رہتے، جس کے نتیجے میں حکومتی ناراضگیاں اور وڈیرہ شاہی انہیں راستے سے ہٹانے کے لیے جیل کا سہارا لیتے تھے۔ میں بچپن سے دیکھتی تھی کہ گھر میں لوگ آتے ہیں، بیٹھتے ہیں، اجلاس ہوتا ہے، کئی مرتبہ مجھے کہا گیا کہ تم جاؤ۔ یہاں تمہارا کیا کام؟ تم کیا سنتی ہو۔ مگر میں وہیں بیٹھنا پسند کرتی تھی۔ ایک لفظ وہ بار بار بولتے تھے استیصال۔

5مجھے بچپن میں نہیں سمجھ آتا تھا کہ استیصال کیا ہوتا ہے۔ کبھی ذکر ہوتا مزدوروں کا استیصال، کبھی کسانوں کا استیصال کا ذکر ہوتا۔ پھر میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ استیصال کیا ہوتا ہے؟ تو ابو نے کہا کہ کسی سے چھین لینا، کسی کو لوٹنا۔ تو اس طرح ذہن بننا شروع ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد حکومت نے کانگریسی ہونے کے جرم میں ہمیں خاصا تنگ کیا۔
ہم نے تو بچپن ہی سے اپنے گھر میں سیاسی ماحول دیکھا۔ کبھی بھائی جیل میں چلا گیا تو کبھی باپ کو قید کیا گیا۔ میرے باپ نے مجموعی طور پر جتنی جیل کاٹی اُس کا دورانیہ 14 برس بنتا ہے۔ میری ماں نے اس حوالے سے بڑی قربانیاں دیں۔ آئے دن والد صاحب جیل میں ہوتے تھے لیکن ماں نے ہماری بڑی اچھی طرح پرورش کی۔

6کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ ہمارے والد جیل میں ہیںاور کبھی بھی ہمیں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانے دیا۔ میرے والد پر اوتار سنگھ کے قتل کاجھوٹا مقدمہ بنا دیا گیا تھالیکن اس میں میرے والد باعزت بری ہو گئے۔ میں چھوٹی سی تھی تو جیل میں ملنے جاتی تھی تو پوچھتی تھی کہ آپ کیوں جیل میں ہیں تو ابو کہتے تھے کہ میں یہاں آرام کرنے کے لیے آیا ہوں۔ پاکستان ہمارے سامنے بنا۔ پاکستان بننے کے بعدبھی میرے والد کام کرتے رہے لیکن وہاں کی انتظامیہ نے ہمارے والد کوبہت تنگ کیا۔ پھر ہم لوگ سب کچھ بیچ کر کراچی آگئے۔ وہ کہتے تھے کہ آپ پارٹی چھوڑ دو۔ میں نے اس دوران تعلیمی سفر جاری رکھا۔ گجرانوالہ سے میٹرک کیا۔ فرسٹ ائیر لاہور سے کیا، سیکنڈ ائیر میں آئی تو حالات ایسے ہو گئے کہ ہمیں لاہور چھوڑ کر کراچی آنا پڑا۔ 1956ء میں ہم کراچی آئے۔ اس وقت کراچی بہت چھوٹا سا اور صاف ستھرا شہر تھا۔ کراچی میں ہم ناظم آباد میں منتقل ہوئے۔ پھر میں آگے تعلیمی سفر جاری نہیں رکھ سکی کیونکہ ہمارے ماں باپ نے بیٹیوں کی شادیاں بھی بہت جلدی کر دیں تھیں۔ میری شادی کراچی میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ میرے مرحوم شوہر نے ہمیشہ میرا بہت ساتھ دیا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھے۔

2
سوال: مزدوروں کے لیے آواز بلند کرنے کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟
کنیز فاطمہ: مزدوروں کے لیے جدوجہد کا آغاز غالباً 1963ء سے یوں ہو اکہ ناظم آبا دمیں میرے پڑوس میں ایک عثمان صاحب رہتے تھے جو سائٹ والی رشید ٹیکسٹائل مل میں ملازم تھے۔ وہ آئے دن آکر روتے تھے کہ آپا مل والے بڑا تنگ کرتے ہیں، آپ کچھ کریں۔ میں کہتی تھی کہ مجھے کیوں گھسیٹ رہے ہو اس میں، مجھے اس کی الف،ب کا نہیں پتا۔مگر ان کا اصرار جاری رہاکہ آپ نکلو گی تو ہمارے مسئلے حل ہوں گے۔ اس کے بعد شوہر کی اجازت سے میں نے پہلی مرتبہ رشید ٹیکسٹائل مل کی ایک گیٹ میٹنگ کال کی، اس میں اور بھی بہت لوگ آگئے کہ ایک نوجوان لڑکی مزدوروں میں آکر جلسہ کر رہی ہے اور میٹنگ کر رہی ہے۔ اس کے بعد مجھ پر 144کی خلاف ورزی کا مقدمہ بن گیا۔ جب میں ایس ڈی ایم کے سامنے پیش ہوئی تو اُس وقت میری چھوٹی سی بچی گود میں تھی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کو پتا ہے کہ آپ کو جیل بھیج دیا جائے گا ۔میں نے کہا کہ جیلیں تو میں نے بہت دیکھی ہیں۔ مجھے جیل سے کوئی ڈر نہیں۔ کہنے لگے آپ مزدوروں کے معاملات سے دستبر داری کااعلان کردیں۔ میں نے کہا کہ یہ میں کسی طور نہیں کروں گی۔

3

اس لیے کہ جب میں نے ان بے چارے مظلوم ،کچلے ہوئے لوگوں کے حقوق کے لیے قدم اٹھایا ہے، جن کی کوئی سننے والا نہیں تھا۔ اب میں ان کو حقوق دلائے بغیر واپس نہیں جاؤں گی۔ یہاں سے میرے سفر کاآغاز ہوا اور بالآخر رشید ٹیکسٹائل مل کے مزدوروں کے مطالبات مان لیے گئے۔ اس کے بعد مزدوروں میں یہ بات پھیلی تو لانڈھی وکورنگی کے مزدور میرے پاس آئے۔ وہ بھی مالکان کے ظلم سے بہت پریشان تھے۔ میں نے انہیں کہا کہ تم سب سیاسی جماعتوں کے پاس جاؤ تو اُن کا کہنا تھا کسی سیاسی جماعت نے اِن کی بات نہیں سنی۔ تو پھر وہ لوگ دوبارہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ پہلے قائد اعظم کے مزار کے قریب جو جھگیاں تھیں، ہمیں اس میں سے نکال کر لانڈھی میں پھینک دیا گیا ہے اور وہاں کوارٹر دیے گئے ہیں۔ پھر چندماہ کے بعد ہمیں اُن کوارٹرز سے بھی باہر کر دیا گیا ہے۔ اس طرح نوجوان بچیاں، بچے سب بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے موجود ہیں، کوئی سننے والا نہیں۔ میں نے پہلے خود وہاں جا کر دیکھا جوان بچیاں، چھوٹے بچے بڑے بچے بزرگ سب سڑک پر پڑے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ ان کے لیے تو کچھ کرنا چاہیے۔ میں نے اُن کی خواتین کو ساتھ لیااور 10 دن تک شہرمیں گشتی مظاہرے کیے۔ اس میں مہر سلطانہ بھی ہمارے ساتھ تھیں جو اخبار میں لکھتی تھیں۔ اس کا حکومت پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ ایوب خان کا دور تھا ،بھوک ہڑتال پر پابندی تھی، ہم سوچ رہے تھے کہ اب کیا کیا جائے تو میں نے حل پیش کرتے ہوئے فیصلہ کیاکہ ہم احتجاجی روزہ رکھتے ہیں۔ اس پر کوئی ہمیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ صبح لیموں کے پانی سے روزہ رکھیں گے شام کو لیموںپانی سے روزہ کھول لیں گے۔ ہم جا کر کوآپریٹو مارکیٹ پر بیٹھ گئے۔ صبح لیموں سے روزہ رکھا شام کو لیمو ںسے کھولا۔ نماز پڑھی لوگ آتے رہے۔ اخباروں میں بھی ذکر شروع ہو گیا۔ 2دن روزہ چلا، پھر تیسرے دن ہمارے مطالبات مان لیے گئے اور شیخ عبدالمجید سندھی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بیٹا سارے مطالبات مان لیے گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ پہلے مجھے الاٹمنٹ دکھاؤ تاکہ میں ان لوگوں کو دوں جو باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔وہ کہنے لگے کہ ہمیں پتا تھا کہ تم سب سے پہلا سوال یہی کرو گی تو ہم لے کر آئے ہیں۔ تم ساتھ چلو اور لوگوں کے ہاتھ میں دے دو۔ میں اٹھی اور ان کے ساتھ جا کر لوگوں کو الاٹمنٹ دیے تو یہ مسئلہ حل ہوا۔
سوال: پاکستان میں کونسا دور ، کونسی حکومت کی پالیسی کو آپ مزدوروں کے لیے بہتر قرار دیتی ہیں؟
کنیز فاطمہ: حکومت نے پہلی مزدور پالیسی کا1955ء میں اعلان کیا۔ اس سے قبل ٹریڈ یونین پر مختلف جبری قوانین کے ذریعے حکومتیں پابندیاں لگاتی رہی تھیں۔ کچھ عرصے میں وہ پالیسی بھی مزدوروں سے زیادہ سرمایہ دار وں اور مل مالکان کے حق میں نظر آگئی۔ 1959ء میں دوسری لیبر پالیسی آئی وہ بھی اسی کا نمونہ ثابت ہوئی۔ 1965ء کے بعد حکومت نے فوجی قوانین کے ساتھ ٹریڈ یونین کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ 1969ء میں آئی آر او آیا ( صنعتی تعلقات آرڈیننس) جس نے سی بی اے کا تصور دیا۔ کراچی میں ولیکا ٹیکسٹائل میں مزدوروں کی ہڑتال نے حکومتی آئی آر او کے کمزور اور عدم نفوذ کا ثبوت دیا۔ میں سیاسی طور پر مولانا بھاشانی کے ساتھ نیشنل عوامی پارٹی کے پرچم تلے کام کر رہی تھی جبکہ مزدوروں کے پلیٹ فارم کے لیے میں مرزا محمد ابرہیم کی صدارت میں بطور جنرل سیکرٹری پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کا حصہ بن چکی تھی۔ پیپلز پارٹی نے نعرہ لگایا روٹی، کپڑا، مکان مگر مزدور کو کیا دیا یہ سب کے سامنے ہے۔ کم سیاسی سوجھ بوجھ والے لوگ بھٹو صاحب کے ساتھ چلے گئے۔ 1972ء میں بھٹو صاحب پالیسی لائے، تب تک بے شمار ادارے قومیائے جا چکے تھے ۔ ضیا دور میں سب پر پابندی لگ گئی اور ایک کڑا وقت آیا۔ آج غور کروں تو سب سے بہتر دور ہر حوالے سے مجھے تو صدرمشرف کا لگتا ہے۔ مزدوروں کے بنیادی مسائل میں انتہائی کم تنخواہ کا ہونا، سماجی تحفظ کا کوئی نظام نہیںتھا۔ میڈیکل کی کوئی سہولت نہیں تھی، کوئی کینٹین نہیں ، ٹرانسپورٹ نہیں ، ٹھیکیداری نظام تھا ، جب چاہا نکال دیا ، کوئی نوکری کا تحفظ نہیں ،کچھ جگہوں پر تو پینے کے لیے پانی کا کولر بھی نہیں تھا۔ گریجویٹی، بونس، نوکری کا تحفظ ہی نہیں تھا۔ ڈیوٹی کے دوران کسی حادثے کی صورت میں کوئی والی وارث نہیں تھا۔ ان مالکان کی جانب سے مزدوروں کے لیے کوئی معاوضہ دینے کا تصور نہیں تھا۔ جب میں نے آواز بلند کی تو مزدوروں نے میرا ساتھ دیا اور ہم نے بے شمار اداروں میں کامیابی حاصل کی۔ غریب آدمی کی کوئی سنوائی نہیں تھی۔ عدالتیں تو غریبوں کے لیے نہیں تھیں، وہ تو وکیل کا خرچہ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ جن اداروں میں سی بی اے ہوتی وہاں حکومت کی خواہش ہوتی کہ اُن کی اپنی سی بی اے، مزدوروں کا ریفرنڈم جیت کر آئے اور وہ اُن ہی کے حساب کتاب سے چلے ۔
سوال: آپ نے کس طر ح اس کام کے لیے تحرک حاصل کیا؟
کنیز فاطمہ: مجھے شروع سے ہی ہر چیز کی جستجو رہتی تھی۔ مجھ میں اس حوالے سے نابینا افراد کو دیکھ کر حوصلہ پیدا ہوا۔ کراچی میں مس فائفن ایک انگریز عورت تھی،وہ نابینا لوگوں کو بریل زبان سکھاتی تھیں۔ میں ایک دفعہ اُن کے اسکول گئی تو حیران رہ گئی کہ کوئی کرسیاں بُن رہا ہے ،کوئی کپڑے سی رہا ہے ،تو کوئی کھیل رہا ہے ۔میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب سے ملی، میں نے اُن سے کہا کہ یہ نابینا ہیں، ان کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں یہ لوگ سرونٹ کوارٹر میں جاتے ہیں، وہ اتنے گرم ہو جاتے ہیں کہ انسان کا رہنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ تو خان صاحب نے میری بات سنی اور ان کے لیے اقبال مارکیٹ کے پاس زمینیں الاٹ کیں۔ میرے سامنے ہر مظلوم ،چاہے وہ لنگڑا ہے ،نابینا ہے ،سب برابر ہیں۔ میرے ذہن میں یہ کرنے کا خیال اس لیے آیا تھا کہ اُس وقت تنخواہ 40یا 60روپے ملتی تھی اور 40روپے میں لوگوں کا گزارا نہیں ہوتا تھا۔ شادی شدہ آدمی ہو، بچے ہوں ،گھر کا راشن وغیرہ یہ کوئی آسان بات نہیں تھی، کام مزدوروں سے بیگار کا لیا جاتا۔ مزدور کو انسان تو سمجھتے ہی نہیں تھے۔ میرے دل میں خود یہ خیال آیا کہ ان کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔
میرے شوہر نے اس پورے عمل میں مجھ سے بہت تعاون کیا۔ میرے ماں باپ نے بھی مجھے بہت سپورٹ کیا ۔ میرے شوہر سیاسی شخصیت نہیں تھے لیکن پھر بھی انہوں نے میرا بہت ساتھ دیا۔ میری ایک ہی بیٹی ہے، جو ڈاکٹر ہے۔ وہ بھی انسانوں کی خدمت ہی کر رہی ہے لیکن اُس کا انداز مختلف ہے۔
سوال: آپ کو کئی مرتبہ مزدوروں کے حق میں آواز بلند کرنے پرشہر بدر کیا گیا۔ اُن حالات کے بارے میں کچھ بتائیں؟
کنیز فاطمہ: کراچی میں ہمارے پشتون بھائیوں کا کلچر ہے کہ وہ خواتین کو گھر سے باہر نہیں نکالتے تھے۔ ہم پورے شہر میں خواتین کو منظم و یکجا کر رہے تھے ۔ مزدور خواتین نے پہلی مرتبہ ہماری آواز میں آواز ملائی۔ ہماری جدو جہد کو سمجھا اور اپنے مردوں کو احساس دلایا کہ یہ جدو جہد ہمارے خاندان کے بہتر مستقبل اور حقوق کے لیے ہے۔پہلی مرتبہ خواتین کا وہ بھی برقع پوش خواتین کا احتجاج ہوا ، جس میں پشتون خواتین کی بڑی تعداد تھی۔ سر چھپانے کے لیے مکانات، روزگار کی فراہمی اور حقوق کے لیے احتجاج تو کامیاب رہا لیکن وہاں دوران مظاہرہ ڈی سی صاحب کا بلاوا آیا۔ میں نے جواب دیا کہ مظاہرہ ختم کرکے آؤں گی۔ پھر میں ڈی سی صاحب کے پاس گئی،کہنے لگے کہ تم نے عورتوں کو نکالا ہے ، یہ اسلام میں جائز نہیں۔ میں نے کہا کہ تم کس اسلام کی بات کر رہے ہو، کیا ہمارے اسلام میں مزدوروں کے حقوق غصب کرنے کا حکم ہے؟ میرے اسلام میں تو سب کو برابری کے حقوق ہیں۔ سب کے لیے روٹی روزگار کے مواقع یکساں ہیں ۔اُس نے کہا کہ میں بہت طاقتور ہوں، تم جانتی ہو۔ میں نے کہا کہ میرے ساتھ عوام ہیں، میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں۔ خیر میں واپس آگئی۔ صبح میں اٹھی، ناشتے کی تیاری کا وقت تھا، دھوبی کو کپڑے دے رہی تھی کہ دروازے پرایک جیپ میں ایس ڈی ایم صاحب اپنی نفری کے ساتھ پہنچے۔اُنہوں نے گزشتہ ملاقات کا فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ مجھے غیر معینہ مدت کے لیے شہر بدر کر دیا گیا ہے۔ اُسی وقت گھر سے لے گئے اور شہر سے باہر ٹھٹھہ لے جا کر چھوڑ دیا۔ نہ میرے پاس کپڑے ، نہ پیسے نہ کوئی سامان۔
اُس وقت شیخ عبد المجید سندھی کا بیٹا انور شیخ ٹھٹھہ میں ایس ڈی ایم تھا۔ اُس کو پتا چلا تو وہ دوڑا ہوا آیا۔ میں نے کہا بھی کہ تو جا تیری سرکاری نوکری ہے۔ اُس نے جواب دیا تو میری بہن ہے، ایسی 100نوکریاں تجھ پہ قربان ہیں۔ وہ مجھے اپنے گھر لے آیا۔ پھرفون وغیرہ پر رابطہ کیا تو میرے شوہر میرا سامان وغیرہ لے کر آئے۔ میں نے انور کو کہہ دیا کہ بھائی، میں یہاں چین سے نہیں بیٹھوں گی اور میں نے ٹھٹھہ میں مزدوروں کو جمع کرنا شروع کر دیا۔ وہاں فیکٹریوں میں، ملوں میں اجلاس شروع کیے تو پھر اگلا حکم نامہ آیا کہ یہاں سے بھی شہر بدر کرو اور پھر مجھے حیدر آباد بھیج دیا گیا۔ میں نے حیدرآباد میں بھی یہی کام شروع کر دیاتو حیدرآباد کی انتظامیہ نے کانوں کو ہاتھ لگا لیا۔ وہاں بھی مزدور کا لہو پیا جا رہا تھااور سرمایہ دار ، جاگیر دار ، وڈیرہ شاہی نے ظلم و استیصال کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ پھر مجھے لاہور منتقل کر دیا گیا ، وہاں سے پنڈی اور پھر پنجاب بھر میں میرا نام مشہور ہوتا چلا گیا۔
سوال: خاتون ہو کر آپ مزدور تحریک میں اتنا فرنٹ کردار ادا کرتی رہیں تو کیا خطرات سے کبھی خوف نہیں آیا؟
کنیز فاطمہ: ایک مرتبہ ہڑتال رکھی گئی تھی پورے سائٹ میں ، میں رات کو نکلی کہ دیکھوں کہ لوگ پریشان تو نہیں۔ ایک مل کے مالک نے مجھے مارنے کے لیے میرے پیچھے سلیم سبزواری کو لگایا۔ میں نے دیکھا کہ وہ میرا پیچھا کر رہا ہے ،میں اُس کے پاس گئی اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ کیوں میرا پیچھا کر رہے ہو؟ وہ گھبرا گیا اور خود تفصیل بتا کر کہنے لگا کہ اگر میرے ملک کی عورتیں اتنی بہادر ہو جائیں توملک کی قسمت بدل جائے گی۔ اُس نے خود بتایا کہ مجھے آپ کو مارنے کے لیے بھیجا گیا تھا ،مگر اب یہ کام مجھ سے نہیں ہوگا۔ اسی طرح ایک اور شخص کو مجھے مارنے کے لیے کسی سرمایہ دار مل مالک نے بھیجا، وہ شیر شاہ کے ایک معروف بدمعاش کے پاس رقم سے نذرانہ دینے چلا گیا اور اُس کو بتایا کہ مجھے کنیز فاطمہ کو مارنے کے لیے پیسے ملے ہیں ۔ یہ سن کر وہ غصے میں آگئے اور کہاکہ خبر دار تو نے اُس کو ہاتھ بھی لگایا، وہ اکیلی عورت ، ہمارے غریب مزدوروںکے حق کے لیے لڑ رہی ہے۔ پھر وہ میرے پاس یہ بات بتانے کے لیے آئے۔ میں نے اُن سے کہا کہ میری موت ایک دن آنی ہے، وہ آ کر رہے گی۔ موت سے میں ڈرتی نہیں ، وہ جس صورت آئے گی میں سامنا کروں گی۔ بڑی کوششیں کی گئیں مجھے راستے سے ہٹانے کی لیکن اللہ کو جو مجھ سے کام لینا تھا وہ لیتا رہا۔
سوال:زندگی میں کون سا لمحہ سب سے زیادہ دکھ کا آیا؟
کنیز فاطمہ : سچ پوچھیں تو مجھے مشرقی پاکستان کی علاحدگی پر سب سے زیادہ دکھ ہوا ۔ساری رات نہیں سو سکی تھی۔
کنیز فاطمہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب کیسے آئیں؟
کنیز فاطمہ : میری شروع سے یہ سوچ تھی کہ سیاستدانوں نے بڑے نعرے لگائے مگر غریبوں کودیا کچھ نہیں، تو میں نے سوچا کہ کم از کم میں مکان تو دوں غریبوں کو ۔ایک موقع پر میں نے درخواست ڈال دی اسکیم 33 کے لیے۔ ایک دن مجھے قطب علی شاہ صاحب ملے انہوں نے کہا کہ مبارک ہو تمہاری 100 ایکڑ زمین نکل آئی ہے۔ بنیادی طور پر عورت کو سر چھپانے کے لیے گھر کی ضرورت ہوتی ہے ،عورتیں کرایے کے مکان میں رہتی تھیں۔ کے ایم سی کی 2 اساتذہ تھیں، انہیں واجبات دیے بغیر اُن کے کوارٹر سے باہر نکال کر کھڑا کر دیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے۔ انہوں نے داستان سنائی ۔میں نے اُن کو ساتھ لیا، تالے توڑے اور اُن کو اندر بٹھایا۔ وہاں سے میں کمشنر کراچی کے پاس گئی اور اُس کو کہا کہ تمہاری ماں بہن کو سڑک پر کھڑا کر دیا جائے تو کیسا لگے گا۔ یہ استاد ہیں ، تم نے ان کی سروس کے بدلے کے واجبات دیے نہیں اور گھر سے باہر نکال کھڑا کیا۔ میں نے وہیں 2 سال کا اسٹے لیا کمشنر سے اور خواتین کو جا کر مطمئن کیا۔ بس پھر میں نے سوچ لیا کہ اب بے گھرمزدوروں کو گھر دلانے ہیں۔ مجھ سے کمشنر نے پھر کہاکہ آپ سوسائٹی بنائیں اور مزدوروں کو آباد کریں ، کیونکہ ہم نے جن کو زمین دی وہ تو بیچ کر کھا گئے، آپ ایسا نہیں کریں گی۔ یہ میرا بھی مشن تھا کہ غریب مزدوروں کو گھر کی سہولت دوں۔ میرا تواس معاملے میں کوئی تجربہ نہیں تھا، میرے شوہر نے اس میں میری بہت مدد کی۔میں نے مزدور بھائیوں کے ساتھ میٹنگ کی تو یہ طے ہواکہ اس کے نتیجے میں مزدوروں کو فائدہ ہی ہوگا۔ ہم نے فارم چھپوائے اور پھر 48 ایکڑ کی جگہ نئی کراچی میں خریدی۔ افتتاح ہم نے کرایا غلام مصطفیٰ جتوئی صاحب سے ، اس موقع پر انہوں نے ہمیں مزید زمین دے دی ، پھر ہم نے مزید 28 ایکڑ اوقاف سے خریدی اور اس طرح کل 228 ایکڑ زمین ہو گئی اور ہم نے یہ مزدوروں کو بانٹ دی۔ جس نے 500 روپے مہینہ کی درخواست دی اُس کو بھی دیا ، جس نے 200 روپیہ مہینے کی درخواست دی اُس کو بھی ہم نے زمین دی۔ میں نے سب سے کہا تھا کہ اس کو بیچنا نہیں۔ یہ تمہارے لیے ہے، مگر وہ اپنے مسائل میں گھر کر سنبھال کر نہ رکھ سکے اور بڑھتی قیمتوں کے جال میں آ کر زمینیں بیچ گئے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ