شام: عالمی طاقتوں کا تختہ مشق

286

تنویر انجم

شام میں 2011ء سے جاری اس تنازع میں اب تک کئی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ دیگر لاکھوں گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔ تنازع کی ابتدا پر بشارالاسد کی حامی فورسز کو کئی مقامات پر پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی اور ملک کے ایک بڑے حصے کا قبضہ ان کے ہاتھوں سے جاتا رہا تھا، تاہم اس دوران غیرملکی طاقتیں بھی اس تنازع میں کود پڑیں اور حتمی نتیجہ شامی شہریوں کی مشکلات میں اضافے کی صورت میں نکلا اور بالآخر وہی ہوا جو ہمیشہ عالمی سازشوں کے نتیجے میں ہوتا آیا ہے کہ شامی مسلمان اپنے گھر بار، زمین اور اپنی نسلیں گنوا کر در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ہجرت پر مجبور ان بے بس و لاچار بچوں، خواتین، نوجوانوں اور بوڑھوں کو جہاں کہیں پناہ کی جگہ میسر آئی، انہوں نے وہاں رہنے کی کوشش کی۔ جن ممالک نے ان کے رہنے کے بندوبست کیے، وہ ابھی تک ان کو اچھے طریقے سے بنیادی انسانی حقوق تک فراہم نہیں کر سکے۔ مہاجر کیمپوں، فٹ پاتھوں، عارضی پناہ گاہوں، اسکولوں، سرحدوں پر زندگی بسر کرنے والے شامی آج بھی منتظر ہیں کہ ان کی زمین پر اقتدار کی جنگ ختم ہو تو وہ چین کی زندگی جی سکیں تاہم حکمرانی کے نشے میں دھت شامی صدر بشار الاسد، اسد کی حامی ملیشیائیں، ان کے حمایتی ممالک جن میں ایران اور روس سب سے آگے ہیں، ان کے علاوہ امریکا نواز جنگجو عناصر بھی اپنے آقاؤں کے مقاصد پورے کرنے اور ان کی بُنی ہوئی سازشوں کی تکمیل میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کے صفحات پر شام سے متعلق مواد تلاش کریں تو نتیجے میں جو کچھ دکھائی دیتا ہے، اس پر کوئی انسانی آنکھ ایسی نہیں جو آنسوؤں سے تر نہ ہوتی ہو۔ مگر درحقیقت ان احساسات کو سمجھنے کے لیے آنکھ کا انسانی ہونا بہت ضروری ہے۔ شقی القلب اور انسان نما درندے نہ تو میزائلوں کی بارش میں تباہ ہونے والی عمارتوں پر کوئی دکھ محسوس کرے ہیں نہ اس بمباری کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر ان کا دل بھر آتا ہے۔ ننھے لاشوں کو گود میں اٹھائے ماں باپ، ملبے تلے دبے زندہ و مردہ انسانی جسموں کو نکالتے وقت سنائی دینے والی دھاڑیں کسی بھی ذی شعور کا دل نرم کر سکتی ہیں، مگر دنیا پر حکمرانی کرنے والے نام نہاد انسانی حقوق کے علم بردار، تنظیمیں، ادارے، ان کے عہدیدار اور حکمران ہیں کہ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
شام کی تازہ ترین صورت حال پر نظر ڈالی جائے تو ہفتے کے روز دارالحکومت دمشق کے مشرق میں مزاحمت کاروں کے زیر قبضہ شہر مشرقی غوطہ میں اسدی اور روسی افواج کی بمباری کے نئے سلسلے کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد پچھلے ایک ہفتے کے دوران جاری رہنے والی مسلسل بمباری میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق 600 سے تجاوز کر چکی ہے۔ جس میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی مبصرین برائے انسانی حقوق، امدادی اداروں اور عینی شاہدین کے مطابق ہفتے کے روز کے فضائی حملے شام کی حکومت اور روس کی تازہ فضائی مہم کا حصہ ہیں اور یہ حملے اتنے شدید تھے کہ کسی کو یہ موقع ہی نہیں مل سکا کہ وہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی گنتی ہی کر سکے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ یہ بمباری شامی سرکاری فورسز اور اس کی اتحادی روسی فضائیہ کی طرف سے کی گئی ہے۔ تاہم ماسکو غوطہ پر کی جانے والی کارروائیوں میں براہ راست ملوث ہونے کے دعوؤں کو مسترد کرتا ہے جبکہ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ 22 فروری کو روس نے شامی سرزمین کو تختہ مشق بنانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے اپنے تیار کردہ 200نئے اقسام کے ہتھیاروں کو شام کی خانہ جنگی میں آزمائش کے طور پر استعمال کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی فوج کے سابق کمانڈر اور موجودہ ’ڈوما‘ کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ ولادیمیر شامانوو نے پارلیمان کو بتایا کہ ماسکو کے انجینئرز نے ملکی سطح پر تیار کردہ 200 اقسام کے نئے ہتھیاروں کو شام میں ٹیسٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرز نے اپنے ہتھیاروں کی آزمائش کے لیے شام کے شہروں اور قصبوں کو بطور تخت مشق استعمال کیا۔ شامانوو نے کہا کہ ہم نے شامی حکومت کی مدد کے لیے نئے اقسام کے ہتھیار بنائے اور انہیں استعمال کیا،ہمارے ہتھیار اس قدر کامیاب ہوئے کہ خود اسدی حکومت نے ہم سے مانگے اور ذخیرہ کیا جب کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہتھیار شامی حکومت بھی نے اپنے شہریوں پر استعمال کیے۔ ولادی میر شامانوو نے کہا کہ روس کے تیار کردہ طاقتور ہتھیار حال ہی میں مشرقی غوطہ میں استعمال ہوئے جس پر ماسکو کو فخر کرنا چاہیے،ہمارے نئے ہتھیاروں کی مانگ بڑھ چکی ہے اور مختلف سمتوں سے خریدار ہمارے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے آرہے ہیں، ان میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جو کہ ہمارے اتحادی نہیں۔
شام کے اسلحہ خانوں میں پڑے ہتھیاروں کی بڑی تعداد روس کے فراہم کردہ ہیں جنہیں جنگ کے دوران وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا حالانکہ روس عام شہریوں کونشانہ بنانے کی تردید کرتا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ ماسکو کے طیارے اُن شہری علاقوں کی فضاؤں میں گھومتے اور بمباری کرتے دیکھے گئے ہیں جو مزاحمت کاروں کے زیرقبضہ ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق رواں ہفتے روسی فضائیہ کے طیاروں جس میں راڈار میں نظر نہ آنے والا جنگی طیارہ بھی شامل تھا پہلی بار شامی صوبے لتاکیا میں دیکھا گیا۔ شام کے مغرب میں واقع ائر بیس روسی فضائیہ کے زیر استعمال ہے جب کہ طرطوس میں شامی بحریہ کے اڈے تک بھی ماسکو فوج کی رسائی ہے۔
گزشتہ پورے ہفتے شام پر مسلسل آتش و آہن برسایا جاتا رہا اس دوران کویت اور سوئیڈن کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے لیے تیار کیے گئے مسودے پر مشتمل قرار داد پیش کی گئی تاہم عالمی ادارے پر حاوی روس اور درپردہ طاقتوں کی وجہ سے سلامتی کونسل پر خاموشی چھائی رہی اور قرار داد پر مطلوبہ رائے شماری منسوخ در منسوخ کرائی جاتی جبکہ اسی دوران شامی اور روسی افواج نے مشرقی غوطہ کے شہریوں پر دن رات بمباری جاری رکھی اور بالآخر 24فروری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے جس میں شام میں 30 روزہ جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔15 ارکان پر مشتمل کونسل نے امداد کی ترسیل اور طبی بنیادوں پر انخلا کی اجازت دینے کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ قرارداد شامی حکومت کے فوجی دستوں اور فضائیہ کی جانب سے مزاحمت کاروں کے زیر قبضہ شہر مشرقی غوطہ پر مسلسل ایک ہفتے کی بمباری کے تناظر میں پیش کی گئی تھی تاہم رائے شماری کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ فضائی بمباری مسلسل جاری ہے۔ شامی مبصرین برائے انسانی حقوق نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز اس قرارداد کے منظور ہونے کے چند منٹ بعد ہی مشرقی غوطہ پر فضائی بمباری کی گئی۔
قرار داد پر ہونے والی رائے شماری میں کئی روز کی مسلسل تاخیر پر مغربی ممالک نے روس پر وقت ضائع کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جس پر روس کا کہنا تھا کہ اس نے قرارداد کے مسودے میں چند تبدیلیاں کی تھیں۔ ماسکو حکومت نے شام میں حکومت کی جانب سے مزاحمت کاروں کے علاقے پر بمباری پر بڑھتے ہوئے غصے پر اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا جس پر سلامتی کونسل کا وقت ضائع کرنے پر فرانس نے کہا کہ بروقت رائے شماری میں ناکامی سے خود اقوام متحدہ کا اختتام ہو جائے گا۔
جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق شام میں جاری خانہ جنگی میں لڑائی فقط بشارالاسد کی حامی فورسز اور مزاحمت کاروں ہی کے درمیان نہیں بلکہ کئی غیرملکی طاقتیں بھی اپنے مفادات کے لیے اس تنازع کا حصہ ہیں۔
ایران اس لڑائی میں بشارالاسد کی حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تنازع میں ایرانی فورسز بھی شامل ہیں جب کہ تہران حکومت سرمایے، ہتھیاروں اور خفیہ معلومات کے ذریعے بھی شامی فورسز کی مدد کر رہی ہے۔ شام میں ایران کے عسکری مشیر بھی موجود ہیں جب کہ تہران حکومت کی ایما پر لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ بھی شام میں بشارالاسد کے مخالفین کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
روس نے 2015ء میں صدر بشارالاسد کی افواج کی مدد کے لیے شام میں عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ماسکو حکام کے مطابق روسی طیارے شام میں دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم روسی بمباری بشارالاسد کے مخالف دیگر گروہوں (شامی مزاحمت کاروں اور شہریوں) پر بھی دیکھی گئی ہے۔ روس چاہتا ہے کہ بشارالاسد اقتدار میں رہیں اور مشرق وسطیٰ میں اس کا اثرورسوخ قائم رہے۔
رپورٹ کے مطابق ریاض حکومت شام میں اپوزیشن فورسز بہ شمول چند دیگر گروپوں کو ہتھیار اور سرمایہ فراہم کرتی رہی ہے۔ امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد میں شامل سعودی عرب نے داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں میں بھی حصہ لیا۔ سعودی عرب شام میں ایران مخالف اور اپنی حامی حکومت کا قیام چاہتا ہے، جو بشارالاسد کی جگہ قائم ہو۔
ترکی اور شام کے درمیان حکومتی سطح پر تعلقات کچھ برس قبل تک نہایت اچھے تھے، تاہم رپورٹ کے مطابق شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد ترکی نے شام میں بشارالاسد کے مخالف مزاحمت کاروں (سوائے کرد جنگجوؤں کے) ہتھیار فراہم کیے۔ ترکی نے بشارالاسد مخالف فورسز کو اپنی سرزمین پر بھی جگہ دی تاکہ وہ شامی فورسز کو نشانہ بنا سکیں۔ ترکی کی کوشش ہے کہ شام میں کرد مخالف اپوزیشن فورسز کو طاقت ور کیا جائے اور دمشق میں ترکی کی حامی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔
امی تنازع کے آغاز کے بعد سے اسرائیل وقفے وقفے سے حزب اللہ کے خلاف فضائی حملے کرتا رہا ہے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ شام میں ایرانی اثرورسوخ قائم نہ ہو۔ ایرانی رہنما اسرائیل کے خلاف سخت ترین بیانات دیتے آئے ہیں۔ اسرائیل کی یہ کوشش بھی ہے کہ شام میں حزب اللہ مضبوط نہ ہو سکے۔ اس گروہ کی جانب سے ہم سایہ ملک لبنان سے اسرائیل پر راکٹ داغے جاتے رہے ہیں۔ اسرائیل کو خوف ہے کہ یہ عسکری گروہ گولان کے پہاڑی سلسلے سے بھی اسرائیل پر ایسے ہی حملے کر سکتا ہے۔
امریکا نے 2014ء میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا۔ وہ شمالی شام میں کرد فورسز سمیت بشارالاسد کے مخالفین کو ہتھیار اور فضائی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ کرد فورسز کی یہی امداد اس وقت ترکی اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی وجہ بھی ہے۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ شام میں داعش کو شکست دی جائے، تاہم بشارالاسد کے تئیں امریکا کی پالیسی بہت زیادہ واضح نہیں ہے۔ سابق صدر اوباما بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبات کرتے رہے تاہم ٹرمپ انتظامیہ بشارالاسد کے حوالے سے کسی حد تک نرم گوشہ رکھتی ہے۔
جرمنی شامی علاقوں پر داعش کے خلاف فضائی نگرانی میں مدد دیتا رہا ہے، جب کہ برلن، روس اور ایران سے بھی مطالبات کرتا رہا ہے کہ وہ بشارالاسد کو اقتدار چھوڑنے پر آمادہ کریں۔ برلن حکومت کی خواہش ہے کہ جرمنی میں کئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث داعش کو شکست دی جائے، تاہم جرمنی اسد حکومت کا خاتمہ بھی چاہتا ہے۔ برلن حکومت کا موقف ہے کہ جب تک بشارالاسد اقتدار میں رہیں گے، شام میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔
فرانس نے ابتدا میں اپوزیشن گروپوں کو طبی امداد کے ساتھ ہتھیار فراہم کیے، تاہم 2015ء سے فرانس امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہے اور داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں کا حصہ ہے۔ فرانس نے پیرس میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ پیرس حکومت کی خواہش ہے کہ داعش کو شکست دی جائے۔ فرانس بشارالاسد کو اقتدار چھوڑنے کے مطالبات کرتا آیا ہے، تاہم پیرس حکومت کے بشارالاسد کے حوالے سے اس سخت موقف میں اب کسی حد تک نرمی دیکھی جا رہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ