جی ایس پی پلس سہولت ،پاکستان آسیہ بی بی کی سزا ختم اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دے ،یورپی یونین

265
جی ایس پی پلس سہولت ،پاکستان آسیہ بی بی کی سزا ختم اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دے ،یورپی یونین
جی ایس پی پلس سہولت ،پاکستان آسیہ بی بی کی سزا ختم اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دے ،یورپی یونین

اسلام آباد/لاہور ( آن لائن+خبر ایجنسیاں) یورپی یونین نے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی تجدید کے لیے آسیہ بی بی کی سزا ختم کرنے ،مذہبی آزادی کو یقینی بنانے اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دینا لازمی قرار دیا ہے ۔ یورپی یونین کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے نمائندے جان فیجل کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی تجدید کے لیے ملک میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کرانی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ توہین رسالت کیس میں سزائے موت کی منتظر آسیہ بی بی کو رہا کرنا ہوگا۔ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کا مطلب ہے کہ پاکستانی مصنوعات کو یورپی ممالک میں فری ٹیکس کی سہولت فراہم کی گئی ہے جس کی وجہ سے یورپی ممالک کے اندر پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان 2013ء سے اربوں ڈالر کمارہا ہے ، سال 2016ء میں جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی بدولت پاکستان نے 6ارب یورو سے زائد کمائے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کی
سہولت ختم کردی جاتی ہے تو پاکستان کومعاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان جان بوجھ کر عدالت عظمیٰ میں آسیہ بی بی کی اپیل کو ٹال رہا ہے جبکہ چیف جسٹس عدالت عظمیٰ ثاقب نثار بارہا اپنی تقاریر میں کیسز کوجلد نمٹانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ واضح رہے کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے لیے پاکستان کو 27 جنیوا کنونشن کے تحت اقوام متحدہ کی شرائط کو پورا کرنا لازمی ہے جبکہ یورپی یونین پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق جن میں خواتین کے حقوق، مذہبی اقلیتوں کے تحفظ، آزادی رائے، موسمی تبدیلی کے تغیرات اور زیرحراست ملزمان کے قتل پر تحفظات کا اظہار کرچکا ہے۔دوسری جانب وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات میں تیزی لائے گی۔احسن اقبال کی جانب سے پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں پاکستان کا نام دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کیے جانے کے ایک روز بعد یہ بیان سامنے آیا ہے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کارکردگی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر تھی لیکن امریکا کی جانب سے اب بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارا ہمسایہ ملک سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکیاں دے رہاہے لیکن ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،2013ء میں ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا لیکن ہم نے اقتدار سنبھالتے ہی تمام معاملات کو تدبیر سے حل کیا، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کی مدد سے آپریشن شروع کیا گیا اور دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ کامیابیاں حاصل کیں، اور آج بھی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کررہے ہیں۔وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف عالمی سطح پر سازشیں کی جارہی ہیں، پاکستان کے دشمن سازشیں تیار کرنے کے لیے اضافی وقت لگارہے ہیں، افغانستان کے حوالے سے پاکستان کو امریکا کی طرف سے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، پاکستان اور امریکا کا تعاون افغانستان میں امن کا ذریعہ بن سکتا ہے، دونوں ممالک میں بد اعتمادی کے فروغ سے دونوں کا نقصان اور دہشت گردوں کو فائدہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سیاسی استحکام پر بھی سرجیکل اسٹرائیک کی جارہی ہے اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سیاست میں ٹارگٹ کلنگ کا عمل شروع ہوچکا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ایسی نازک صورتحال اور پاکستان کے قومی مسائل پر سیاست دانوں میں یکجہتی کی ضرورت ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ موجود ہے، ہمیں پارلیمنٹ کی بھی مرکزی حیثیت کا احترام کرنا چاہیے اور پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ پارلیمنٹ ہی بڑا ادارہ اور جمہوریت کا اثاثہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ