مشرقی غوطہ ،بچے کی نعش سے لپٹے والد نے دنیا کو ہلا دیا 

402
دمشق: شام کے علاقے مشرقی غوطہ پر فضائی حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے‘ چھوٹی تصاویر اسدی فوج کے داغے گئے میزائل کے خول اور نعش سے لپٹے باپ کی ہیں
دمشق: شام کے علاقے مشرقی غوطہ پر فضائی حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے‘ چھوٹی تصاویر اسدی فوج کے داغے گئے میزائل کے خول اور نعش سے لپٹے باپ کی ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں قیامت برپا ہے۔ محصور علاقے پر اسدی فوج کے مظالم، معصوم بچوں کے وحشیانہ قتل عام اور جنگی جرائم پر ہر اشک بار ہے۔ اتوار کے روز فضائی حملوں اور گولہ باری میں شدت کے باعث 370 شہری جاں بحق اور 1500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی انسانی لاشیں اور معصوم بچوں کے ٹوٹے پھوٹے ڈھانچے وہاں کی قیامت خیز کیفیت کا کسی حد تک اظہار کرتے ہیں۔ بہت سے دل دہلا دینے والی تصاویر کے درمیان ایک تصویر میں ایک شامی شہری کو دیکھا جا سکتا ہے، جو وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں مارے جانے والے اپنے بچے کی نعش
سے لپٹا ہوا اسے الوداع کہہ رہا ہے۔ اس کا بچہ جاں بحق ہونے والے کئی دوسرے بچوں کے درمیان موجود ہے۔ اپنے لخت جگر کے لاشے سے لپٹے شخص کی آہ وبکا پتھر دلوں کو بھی موم کر رہی ہے۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ’میرے لخت جگر میں تجھے الوداع کہہ رہا ہوں۔ یا اللہ! یا اللہ!‘ اس صورتحال میں اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے کے رابطہ کار پانوس مومٹزس نے کہا ہے کہ مشرقی غوطہ میں خونریز بمباری کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ مشرقی غوطہ میں جنگ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی غوطہ کی صورت حال پر بظاہر کسی جانب سے کوئی بڑی عملی کارروائی سامنے نہیں آئی ہے اور یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ مومٹزس نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ 72 گھنٹے کے دوران مشرقی غوطہ میں اسدی فوج کے زمینی و فضائی حملوں سے سیکڑوں افراد زخمی اور کم از کم 370 جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مشرقی غوطہ کی صورت حال پر جمعرات کے روز سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی، جس میں فریقین سے 30 دن تک حملے روکنے اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم روس کے اعتراضات کے بعد اس پر رائے شماری نہیں کی گئی۔ کویت کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد پر جمعہ کے روز رائے شماری دو بار مؤخر کی گئی۔ اقوام متحدہ میں کویت کے مندوب نے بتایا کہ سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کے مسودے میں شام میں 30 دن کی جنگ بندی، متاثرین تک خوراک اور ادیات کی فراہمی اور زخمیوں کو وہاں سے اسپتالوں میں لائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ادھر امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوئرٹ نے کہا ہے کہ مشرقی غوطہ پر کی جانے والی بمباری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذمے دار روس ہے۔ نوئرٹ نے یہ بھی کہا کہ روس کی حمایت و تائید سے ہی اسدی فوج نے ایسی کارروائی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس کے دوران اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہیتھر نوئرٹ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ روس ایک مرتبہ پھر جنگبندی کی کاوشوں کو روکنے کی کوشش میں ہے۔ جب کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ماسکو حکومت سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی پیش کردہ قرارداد کی حمایت کر سکتی ہے۔
بچے کی نعش

Print Friendly, PDF & Email
حصہ