افغانستان میں تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح طالبان نے حفاظت کی ضمانت دے دی

314

کابل /اسلام آباد (خبر ایجنسیاں) تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے پہلے حصے کا افتتاح کردیا گیا ہے ،منصوبے کی افتتاحی تقریب جمعہ کو افغانستان میں منعقد کی گئی جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، افغان صدر اشرف غنی، ترکمانستان کے صدر قربان گلی بردی محمد وف اور بھارت کے خارجہ امور کے ریاستی وزیر مبشر جواد اکبر نے شرکت کی،ان شخصیات کے علاوہ ناٹو اور امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس تقریب میں موجود تھے۔تقریب کے دوران پاکستان اور افغان رہنماؤں کی جانب سے 1700 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح کیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان طویل مدتی معاشی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے افغانستان کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانستان کی سیکورٹی پاکستان کی سیکورٹی ہے۔انہوں نے کہا کہ تاپی گیس پائپ لائن منصوبے سے خطے کے عوام کو متحد کرنے میں مدد ملے گی ، سماجی اور اقتصادی ترقی ہوگی اور امن کے ثمرات سے پورا خطہ مستفید ہوگا۔ وزیراعظم شاہد خاقان نے کہا ہے کہ ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت (تاپی) گیس پائپ لائن منصوبہ خطے کے قدیم روابط بحال ہونے کا تاریخی موقع ہے۔ منصوبے کو حقیقت میں بدلنے پر تاپی ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک ایک حقیقت کا روپ دھار چکی ہے اور گوادر بندرگاہ وسطی ایشیا سمیت خطے کے ملکوں کو سہولت فراہم کرے گی۔ انرجی کوریڈور میں گیس، ریل، روڈ اور مواصلات کا نظام شامل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سال جی ڈی پی میں 6فیصد اضافے کا ہدف حاصل کر لیں گے ، پاکستان عالمی سرمایہ کاری کی اہم منزل بن چکا ہے ۔ اسلام آباد دنیا بھرکے تاجروں کو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ مواقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ برسوں میں10ہزار میگا واٹ سے زیادہ بجلی سسٹم میں داخل کی گئی ہے۔ پاکستان میں گیس کی کمی پر بھی قابو پالیا گیا ہے۔افغان صدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ہر رکاوٹ کو ہٹائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ منصوبے میں تمام لوگوں کا اکٹھا ہونا آنے والی نسلوں کے لیے پیغام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں اس پائپ لائن منصوبے کو ہمارے خطے میں ایک مشترکہ پوزیشن کی بنیاد پر دیکھیں گی اس سے ہماری معیشت کو ترقی، روزگار کے مواقعے ،ہماری سلامتی اور دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں مدد ملے گی۔ اس حوالے سے گورنر ہرات کے ترجمان جیلانی فرحاد کا کہنا تھا کہ جنگ زدہ افغانستان میں اس پائپ لائن منصوبے کی تعمیر کے لیے سخت سیکورٹی کے انتظامات کیے جائیں گے۔ دوسری جانب افغان طالبان نے بھی اس منصوبے کی مخالفت نہ کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے اہم معاشی منصوبہ قرار دیا ہے۔افغان طالبان کی جانب سے ان کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ تاپی منصوبہ خطے کے لیے اہم معاشی اہمیت رکھتا ہے جسے افعان طالبان کے دور میں شروع کیا گیا تھا لیکن افغانستان میں امریکی یلغار کی وجہ سے اس منصوبے کی تکمیل تاخیر کا شکار ہے۔بیان میں طالبان کی جانب سے ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اس منصوبے کو فعال بنانے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان، افغانستان، بھارت اور ترکمانستان کے سربراہان نے 10ارب ڈالر لاگت کے توانائی کے اس منصوبے تاپی گیس پائپ لائن کا سنگ بنیاد 2015ء میں رکھا تھا۔واضح رہے کہ یہ پائپ لائن ابتدائی طور پر 27 ارب مکعب میٹر سالانہ گیس فراہم کر سکے گی جس میں سے 2 ارب افغانستان اور ساڑھے 12 ارب مکعب میٹر گیس پاکستان اور بھارت حاصل کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ