احتساب عدالت سے نواز شریف کو انصاف نہیں ملے گا ،وزیر اعظم

75
اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کی نیب عدالت میں پیشی کے موقع پر کارکنان نے گاڑی کو گھیرے میں لیا ہو ا ہے
اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کی نیب عدالت میں پیشی کے موقع پر کارکنان نے گاڑی کو گھیرے میں لیا ہو ا ہے

اسلام آباد/نیویارک(خبر ایجنسیاں/مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ احتساب عدالت سے نوازشریف کو کسی قسم کا انصاف نہیں ملے گا جبکہ نوازشریف کے خلاف کرپشن کا کوئی چارج نہیں ہے، جو فیصلے عوام اور تاریخ قبول نہ کرے تو ان فیصلوں پر نظر رکھنا عدلیہ کا کام ہے، پارٹی صدارت سے متعلق عدالتی فیصلہ قبول کرلیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اور نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کیاآج پاکستان کا سب سے بڑا ملزم نوازشریف ہے جس کی ہفتے میں 2 سے 3 پیشیاں ہوتی ہیں اور ہر بار نئے چارجز لگاتے ہیں حالانکہ یہ واضح ہے کہ نوازشریف کے خلاف کرپشن کا کوئی چارج نہیں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ عدالتوں میں پیشی کے ڈر اور بے عزتی کے خوف سے وزرااور سرکاری ملازمین کام کرنا چھوڑ دیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان ملک کا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالتی عمل سے ملک کو نقصان ہورہا ہے تو عدلیہ کو خود نوٹس لینا چاہیے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جمہوریت کا تسلسل نہیں ہورہا جب آمریت آئی تو انہوں نے بھی اپنی سپورٹ پیدا کرنے کے لیے عدلیہ میں جگہ ڈھونڈ لی ۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئین نے ہر ادارے کی جگہ اور ذمے داری متعین کی ہے اب اگر کوئی ادارہ حدسے تجاوز کرے گا تو ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ میں کوئی تصادم نہیں ہونے جارہا ،عدلیہ پر کوئی چیک ہے اور نہ ہونا چاہیے،عدلیہ آزاد ہے ہم نے ججز کے کنڈیکٹ پرنہیں بلکہ پارلیمنٹ کی حدود پر بات کی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نوازشریف کے خلاف عدالت عظمیٰ اور جے آئی ٹی میں کوئی ثبوت نہیں نکلے اب نیب کہاں سے ثبوت لائے گی،نوازشریف سے 30 سال پہلے والدین کے اثاثوں پر سوال کیے جاتے ہیں اور پوچھا جاتا ہے کہ پیسے کا لین دین کیسے ہوا جبکہ ملک میں 2 شخصیات ایسی ہیں جن پر 500 ارب روپے کرپشن کے الزامات ہیں اور یہ الزامات خودعدلیہ نے لگائے لیکن ان میں ایک کیس کو 7سال اور دوسرے کے 2 سال ہوگئے جن پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔دوسری جانب وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے بلوم برگ نیوزایجنسی کوانٹرویودیتے کہاہے کہ سابق وزیراعظم محمدنوازشریف کی پارٹی صدارت سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے کوقبول کرلیا گیا ہے تاہم پارٹی نے اپنامؤقف پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ نوازشریف ہمارے قائدہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام انتخابات یا ان سے بھی پہلے اپنا جواب خوددیں گے۔وزیراعظم نے کہاکہ سینیٹ کے انتخابات مقررہ وقت پرمنعقد کرنے یا اس میں تاخیر کے حوالے سے فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔علاوہ ازیں مسلم لیگ ضیا کے سربراہ اعجازالحق سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت پر ایسا وقت پہلے بھی آتا رہا ہے، اس صورتحال سے سرخرو ہوکر نکلیں گیاور یہ نواز شریف کو عوام کے دلوں سے کیسے نکالیں گے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر مشاورت کی گئی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جمہوریت کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں اور عام انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے۔شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ ملک کو صرف جمہوریت کے ذریعے ترقی سے ہمکنار کیا جاسکتا ہے، جمہوریت کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں تاہم اعجازالحق نے وزیراعظم کو بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ