محاذ آرائی نہیں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں،وکلا میرا ساتھ دیں،چیف جسٹس

434

اسلام آباد(آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کسی سے محاذآرائی نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ان ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے مسائل حل کرنے میں وکلا میرا ساتھ دیں۔ جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کی بقا قانون کی حکمرانی میں ہے ،ہرکام قانون کے مطابق کرتا ہوں ، منافق نہیں ہوں ،ہم نے معاشرے سے ناانصافی کے خاتمے کا آغاز کردیا ہے‘ سوسائٹی کی لعنت کے خلاف جنگ لڑرہا ہوں،یہ فرائض میں شامل ہے کسی پر احسان نہیں ہے۔ ان کے بقول میں نے انصاف کی فراہمی کا حلف لیا تھا، اپنی ذمے داری پوری کررہاہوں،باقی ذمے داری آئندہ آنے والوں کی ہوگی۔ جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اب تک 43ریفرنسز نمٹا چکے ہیں، جون تک تمام ریفرنسز کو نمٹا دیا جائے گا،ہماری ذمے داری ہے کہ ہم معاشرے کے ان مظلوم لوگوں کے لیے کیس لڑیں جن کے پاس اپنا کیس لڑنے کی استطاعت نہیں ، وکلا ججز کی جھاڑ کو دل پر نہ لیں ان کے سخت الفاظ آپ کی اصلاح کا سبب بن سکتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جج کو اپنی عزت خود کرانی ہوتی ہے،اگر وکالت میں رہنا ہے تو شاندار وکیل بنیں مجھے ہائیکورٹ اورعدالت عظمیٰمیں آنے کے لیے10 سال لگے، ہر وکیل کو اپنے ذہن میں یہ ہدف رکھ کر کام کرنا چاہیے کہ ایک روز اسے چیف جسٹس کی کرسی پر بیٹھ کر انصاف کرنا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جج کی مجبوری یہ نہیں کہ اسے کیا کہنا ہے، بلکہ یہ سوچنا ہے کیا نہیں کہنا ہے، جب کیا نہ کہنے کی صورت میں ہوں تو بہت چیزیں آپ کہہ نہیں پاتے۔ان کے مطابق کچھ چیزوں سے 100فیصد اتفاق ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی ہو کیونکہ ملک کی بقا قانون کی حکمرانی سے منسلک ہے۔ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی کارکردگی ایک سال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہے، صاف پانی اور سستا انصاف جیسے مسائل یہ سب میری کاوش اور جدوجہد ہے، بدقسمتی سے ہم اپنے مقصد سے ہٹ گئے لیکن اب بھی وقت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ