روسی دفاعی نظام کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے ، سعودی سفیر

131
روسی دفاعی نظام ایس 400جس کی خریداری کے معاہدے پر سعودی عرب مذاکرات کررہا ہے
روسی دفاعی نظام ایس 400جس کی خریداری کے معاہدے پر سعودی عرب مذاکرات کررہا ہے

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس میں متعین سعودی سفیر راعد بن خالد قرملی نے کہا ہے کہ روس سے ایس 400 میزائل دفاعی نظام کی سعودی عرب کو ترسیل کے لیے بات چیت حتمی مراحل میں ہے۔ روس کی خبررساں ایجنسی تاس کے مطابق سعودی سفیر نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایس 400 میزائل دفاعی نظام اور اس کی ٹیکنالوجی کی سعودی مملکت کو منتقلی کے لیے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ تاس نے صدر ولادیمیر پیوٹن کے مشیر برائے فنی تعاون ولادی میر کوزن کے روسی اخبار کمر سانت کو ایک انٹرویو کا بھی حوالہ دیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایس 400 نظام سعودی عرب بھیجنے کے بارے میں دستاویزات پر فریقین نے دستخط کر دیے ہیں اور اس ضمن میں تمام معیارات کی منظوری دے دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ 5 اکتوبر 2017ء کو روس کے فوجی اور فنی تعاون سے متعلق ایک سرکاری ادارے کی ترجمان ماریا وروبیوفا نے سعودی عرب کے ساتھ ایس 400 نظام کی فروخت کا معاہدہ طے پانے کی اطلاع دی تھی۔ یہ روس کا طویل فاصلے تک مار کرنے والا جدید ترین طیارہ شکن میزائل نظام ہے۔ روس اور سعودی عرب کے درمیان تب شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورے کے موقع پر ٹینک شکن راکٹ نظام کورنیٹ ای ایم، راکٹ لانچر نظام ٹی او ایس ون اے، خودکار گرینیڈ لانچر اے جی ایس 30 اور کلاشنکوف اے کے107 رائفلوں کی خریداری کے بھی سمجھوتے طے پائے تھے۔ سعودی عرب گزشتہ کئی دہائیوں سے سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا قریبی اتحادی چلا آرہا ہے، لیکن روس کے ساتھ ان دفاعی معاہدوں اور مختلف النوع اسلحہ کی خریداری کے لیے سمجھوتوں کے بعد سے واشنگٹن میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ