قومی معیشت کے لیے زراعت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں،ہدایت اللہ چھاجرو

303
کاشت کار تنظیموں کے رہنما علی پلہہ ایڈووکیٹ، جاوید جونیجو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
کاشت کار تنظیموں کے رہنما علی پلہہ ایڈووکیٹ، جاوید جونیجو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈائریکٹر ایگری کلچر گروتھ پروجیکٹ(ایس اے جی پی) ہدایت اللہ چھاجرو نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زراعت پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یہ اس ملک کی معاشی ترقی اور فوڈ سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے لازم و ملزوم ہے ۔ زرعی اشیا کی پیدوار ، پراسیسنگ اور تقسیم کے عمل میں بلواسطہ اور بلا واسطہ 68فیصد آبادی کا دارومدار ہے۔ قومی معیشت کے لیے زراعت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں کیونکہ یہ شعبہ ہماری جی ڈی پی کا 21فیصد ہے۔ سندھ پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے اور اسی بنیاد پر ملک کی زرعی پیداوار میں اس کا وسیع حصہ ہے سندھ کی نمایاں فصلوں میں مرچیں، پیاز، کھچوریں اور چاول شامل ہیں اور ان کی پیداوار میں اضافے کے لیے سندھ کے 15اضلاع میں سندھ ایگری کلچر گروتھ پروجیکٹ(SAGP) کے تحت عالمی بینک کی مدد سے کام کیاجارہاہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ SAGP کے تحت ایسے کسانوں کو مدد کو ترجیح دی جائے گی جو ہارٹی کلچر(مرچوں، پیاز، کھچور اور چاولوں ) جوکہ مارکیٹ میں کام کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ یہ پروجیکٹ تقریبا66ہزار ایکڑ اراضی اورایک لاکھ 12ہزار کسانوں کے لیے کام کررہا ہے۔ چھاجھرو نے پروجیکٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس پروجیکٹ میں کسانوں کی استعداد میں مختلف ٹریننگ کے ذریعے اضافہ کرنا شامل ہے اور انہیں مختلف ایگری کلچر مشینری خریدنے کے لیے سبسڈی بھی فراہم کی جائے گی۔ گزشتہ سات ماہ کے دوران پروجیکٹ کی فصلوں کی ویلیو چین میں اضافے کے لیے کسانوں کو 432آٹو لوڈرز کے ساتھ20ہزار پلاسٹک بالٹیاں، 20ہزار ٹرپولین شیٹس، 2ہزار جیوٹیکس روز،400 تائیویک شیٹس،200 رائس تھریشر، 80 زیر وٹیلج اور 70روٹاویزٹرز تقسیم کیے گئے تھے۔ ان متذکرہ چار فصلوں کی پیداوار میں تقری کے لیے 15ہزار مرد و خواتین کسانوں کو تکنیکی تربیت دی گئی۔ اس تربیت کی مد میں موسمی اعتبار سے تھی۔
مختلف اکیو پئمنٹ کے مختلف سپلائرز کو ہدایت دی گئی کے کہ وہ کسانوں کو شراکت داری میں متعلقہ اکیوئپمنٹ فراہم کردیں۔SAGP نے 99کسانوں کوملک کے مختلف حصوں کا دورہ کرایا۔ جبکہ 18کسانوں کو بیرون ملک دورے پر لے جایاگیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ