مشرقی غوطہ پر ظلم کی انتہا مزید 75 شہری شہید

225
دمشق: مشرقی غوطہ پر اسدی فوج کے فضائی حملوں اور گولہ باری کے نتیجے میں کئی منزلہ عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی‘ زخمی کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے
دمشق: مشرقی غوطہ پر اسدی فوج کے فضائی حملوں اور گولہ باری کے نتیجے میں کئی منزلہ عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی‘ زخمی کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ پر روسی اور اسدی فوج کے مظالم انتہا کو پنچ گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق منگل کے روز اسدی فوج کے فضائی حملوں اور گولہ باری کے نتیجے میں مزید 75شہری شہید اور 200سے زائد زخمی ہوگئے۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ بم باری کے نتیجے میں درجنوں رہایشی اور تجارتی املاک تباہ ہوگئیں۔ جب کہ اسپتالوں اور طبی مراکز کو بھی نقصان پہنچا۔ مشرقی غوطہ پر شدید بم باری کا سلسلہ اتوا کے روز سے جاری ہے۔ 3روز سے جاری اسدی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں تقریباً 200 شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔ اسدی فوج مشرقی غوطہ کے مختلف شہروں، قصبات اور دیہات کو اندھادھند نشانہ بنا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منگل کے روز شامی حزب اختلاف نے ان وحشیانہ کارروائیوں کو جنگی نسل کشی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے شہریوں پر بم باری رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2013ء سے محصور مشرقی غوطہ میں تقریباً 4 لاکھ افراد محصور ہیں۔ شام کے بحران کے حوالے سے اقوام متحدہ کے علاقائی رابطہ کار بینوس مومیٹز کا کہنا ہے کہ محصور علاقے میں شہریوں کی انسانی صورت حال کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے۔ مقامی آبادی کے اکثر لوگوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ زیر زمین پناہ گاہوں میں ٹھہرے رہیں۔ دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر حسن روحانی سے ٹیلیفون پر رابطے میں شام کی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس دوران ادلب میں نگراں چیک پوسٹوں کے قیام پر اور عفرین میں ترک فوج کے آپریشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ