اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد ،سعودی عرب پر امید 

100
میونخ: سعودی وزیر خارجہ انٹرنیشنل سیکورٹی کانفرنس کے دوران خطاب کر رہے ہیں
میونخ: سعودی وزیر خارجہ انٹرنیشنل سیکورٹی کانفرنس کے دوران خطاب کر رہے ہیں

میونخ (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل کے خلاف اقوام متحدہ میں امریکا اور برطانیہ کی مجوزہ قرارداد کی حمایت کرے گا۔جرمنی کے شہر میونخ میں سیکورٹی کانفرنس کے دوران ایک انٹرویو میں سعودی وزیر خارجہ عادل جبیر نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف مجوزہ قرارداد منظور ہو گئی، تو اس سے ایران کے بیلسٹک میزائل کی برآمدات روکنے میں مدد ملے گی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران یمن میں حوثی باغیوں، خطے میں انتہا پسندی اور جارحیت کے فروغ اوردہشت گرد گروہوں کی مدد کر رہا ہے۔یاد رہے کہ یمن میں ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یمن میں ایران حوثی باغیوں کے حمایت کر رہا ہے، جب کہ سعودی عرب مقامی فوج کی مدد کررہا ہے اور اس نے 2015ء سے یمن میں فضائی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ایران کا کہنا ہے کہ وہ حوثیوں کو اسلحہ فراہم نہیں کر رہا ہے۔سعودی وزیر خارجہ عادل جبیر نے کہا کہ بیلسٹک میزائل اور ایران کی جانب سے دہشت گردوں کی معاونت پر ہمیں یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ ایران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حوثی باغی ایرانی میزائل استعمال کر کے یمن اور سعودی عرب میں شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔یاد رہے کے 26 فروری کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایران کے میزائل پروگرام کے خلاف قرارداد پیش کی جا رہی ہے۔ایران کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کو منظوری کے لیے 9 ووٹ درکار ہیں، لیکن روس کا قرارداد کے حق میں ووٹ دیے جانے کا امکان کم ہے۔سعودی وزیر خارجہ نے امید کا اظہار کیا کہ روس کی جانب سے ان اقدامات کی حمایت کی جائے گی۔اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودہ میں یمن پر مزید ایک سال تک پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کے تحت سلامتی کونسل یمن میں بیلیسٹک میزائل کے استعمال سے منسلک کسی بھی اقدام پر پابندی لگا سکتا ہے۔ یمن پر عائد پابندیوں پر اقوام متحدہ کے غیر جانبدار معاینہ کاروں نے جنوری میں اپنے رپورٹ میں کہا ہے کہ استعمال کیے گئے میزائل ایران کے ہیں اور ہتھیاروں پر عائد پابندی کے بعد یہ یمن پہنچے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں داغے گئے میزائلوں کی رسد فراہم کرنے والوں کے بارے میں شواہد نہیں ہیں، لیکن ایران نے میزائل سمیت اسلحہ کی رسد روکنے کے پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔امریکا میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کا فی عرصے سے لابنگ کر رہی ہے کہ اقوام متحدہ ایران کے جارحانہ رویے کا محاسبہ کرے۔امریکا نے کئی مرتبہ ایران اور عالمی ممالک کے مابین 2015ء میں ہونے والی جوہری معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی بھی دی۔
ایران مخالف قرارداد

Print Friendly, PDF & Email
حصہ