بچوں سے زیادتی، تعلیمی نصاب میں مضمون شامل کرنے کا فیصلہ

204

پارلیمان کی خصوصی کمیٹی نے تعلیمی نصاب میں بچوں سے زیادتی کے معاملے سے متعلق مضموں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور وزارت تعلیم سے اس حوالے سے تجاویز طلب کر لی ہیں۔ کمیٹی نے دیگر ممالک میں زیادتی کے واقعات کی روک تھام سے متعلق موجود قانون کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

کمیٹی کی نو منتخب چیئرپرسن مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ تمام تجاویز کے بعد ضرورت کے مطابق موجودہ قانون میں ترمیم کی جائیگی۔بچوں سے زیادتی کے معاملے پر قائم قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا جس میں وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کو کمیٹی کی چیئرپرسن منتخب کیا گیا۔کمیٹی نے اپنے پہلے اجلاس میں وزارت انسانی حقوق اور وزارت قانون سے بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے تجاویز طلب کی ہیں، جبکہ دیگر ممالک میں زیادتی کے واقعات کے انسداد سے متعلق موجود قانون کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ 

کمیٹی نے وفاقی قانون میں ترمیم سے متعلق تمام صوبوں سے بھی تجاویز طلب کی ہیں۔کمیٹی ارکان نے بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے مؤثر قانون بنانے کی تجویز دی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان واقعات کیلئے موجود قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔کمیٹی نے عدالتوں میں زیر سماعت ان مقدمات کی جلد پیروی کیلئے پراسکیویشن کو درپیش مشکلات کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ خصوصی کمیٹی نے تعلیمی نصاب میں بچوں سے زیادتی کے معاملے سے متعلق مضموں شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور خصوصی کمیٹی نے وزارت تعلیم سے تجاویز طلب کرلی ہیں۔

میڈیاسے گفتگو میں وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اونگزیب نے کہا کہ قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی زینب کیس میں عدالت نے جلد فیصلہ سنایا، کیس میں پنجاب حکومت نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ پنجاب حکومت نے مختصر عرصے میں زینب کیس کے تمام شواہد اکٹھے کئے۔نومنتخب چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روکتھام کے لئے موجود قانون کا جائزہ لیا جائیگا، دیکھا جائیگا کہ بچوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ کی وجوہات کیا ہیں۔ 

تمام تجاویز کے بعد ضرورت کے مطابق قانون میں ترمیم کی جائیگی۔انسانی حقوق کی وفاقی وزارت کی جانب سے گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران بچوں سے زیادتی کے 17 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ان واقعات میں ملوث صرف 112 مجرموں کو سزائیں ہوئیں۔

Print Friendly, PDF & Email