ووٹ کی اہمیت

643

روشن زرین

ووٹ ہماری قومی امانت ہے۔ یہ وہ قیمتی اثاثہ ہے جس کی بنیاد پر عوام و خواص پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں رقم ہوتی ہیں، حکومتوں کی پالیسیوں کے تبدیل ہونے کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ قطع نظر اس بات سے کہ ایک عام آدمی اس بات کی اہمیت سے ناآشنا ہوتا ہے کہ اس کا ووٹ اس کے ملک کی بقا اور سا لمیت کے لیے کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارا رب بھی اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرماتا ہے کہ
’اور امانتیں اس کے اہل کے سپرد کرو‘
اسی طرح کے احکامات اور بھی ملتے ہیں کہ ’ اپنے صاحب امر کی اطاعت کرو جبکہ وہ تمہیں اسلام کے مطابق چلا رہے ہوں گو کہ تمہارے حکمراں کا سر منتہیٰ کے سچ کی مانند ہوں ۔ ‘
تو یہاں ہم کو ایک سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے حکمرانوں کے انتخاب میں سوجھ بوجھ سے کام لینا ہے کہ وہ ایسے صاحب امر کو منتخب کرتا ہے جوہم کو ہمارے رب کے احکامات کے مطابق چلائے اور اسلامی نظام کا نفاذ کروائے۔ اللہ کی زمین پر اس کے رسول ؐ کا نظام نافذ ہو ۔ اللہ کے نظام کا پابند ہو ۔ وہ حکمران منتخب کریں جو ہمارے سابقون الاولون کی مانند ہوں، جو سادہ مزاج ہوں، مستحق لوگوں کا حق مارنے کے بجائے ادا کرنے والے ہوں اور ہمارا پیارا ملک پاکستان تو بنا بھی اسی بنیاد پر تھا کہ یہاں پر مسلمان اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی بسرکر سکیں ۔
اسی لیے ہمارا وطن پاکستان ایک ایسی ریاست کا خواب لیے ہے جو خالصتاً اسلامی ریاست ہے۔’ مدینے کی ریاست‘ کی طرح۔ ایک ایسی صاف شفاف اور پر سکون ریاست کہ ہر انسان کو اپنی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ لگے، کسی بھی قسم کا خوف نہ ہو ۔ا یسی فلاحی اسلامی ریاست کہ مائیں جب بچوں کو درس گاہوں میں بھیجیں تو ان کو کسی کی دہشت گردی کا نشانہ بننے کا خوف نہ ہو ۔ جہا ںکا روبار کے لیے مرد معاش کے میدان میں جائیں تو کسی تنظیم یا فرد کی جانب سے پھانسے جانے کا ڈر نہ ہو۔ ہم ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست کا تصور رکھتے ہیں کہ ’ ایک عورت سونا اچھالتی ہوئی ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں جائے مگر اسے راستے میں کسی طرح کا ڈر نہ ہو گا، سوائے بھیڑیے کے‘ لہٰذ ایسی ریاست کا خواب اسی صورت میں پورا ہو گا جب رب کے حکم کے مطابق ہم اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے ۔ قرآن میں ہے کہ
’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو انصاف کے علمبردار اور اللہ واسطے کے گواہ بنو ‘۔ (سورۃ النساء آیت135)
اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے وعدہ ہے کہ جب وہ احکامات کے مطابق زندگی گزاریں گے تو ان کے لیے زمین سے رزق اُبلے گا ۔ اور آسمان سے برسے گا۔ وہ برکت و عافیت ہو گی۔ وہ سکھ اور چین کی ایک ایسی وادی ہو گی جہاں سے نکل کر کہیں جانے کو ان کا دل نہ چاہے گا ۔ جہاں خزاں کا گزر تک نہ ہو گا، تیز و تند ہوائیں لوگوں کے گھروں کی چھتوں کو اُجاڑ نہ سکیں گی۔ پھر پاکستان میں فحاشی و عریانیت کا دور دورہ نہ رہے گا ۔
پھر انسان اپنے رب کے سامنے شکر گزار بندوں کی طرح حاضر ہو گا۔ خاکساروں کی طرح اس کا طرز گفتگو ہو گا اور شرم و حیا عورت و مرد کا زیب و زینت ہو گا۔ ہم پر فتن حالات میں بھی اپنے رب سے نا امید نہیں ہیں بلکہ دعا گو ہیں کہ ہمارے ملک کی باگ ڈور ایسے مسلمان حکمران کو بخش دے جو ہر چیز کو امانت سمجھتے ہیں۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرے ۔
پس ہم اپنے قارئین و عوام کو بس اتنی سی بات سمجھانا چاہتے ہے کہ آپ پر لازم ہے کہ کسی خوف و جبر یا لالچ کے بغیر صرف اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی رائے کا بہترین استعمال ووٹ سے کریں اور امانت دار، دیانت دار قیادت کو منتخب کریں پھر یقیناً نظام کی تبدیلی آئے گی۔ قانون ہو گا اور امن و امان بھی۔ خیال رکھیں کہ ووٹ ایک امانت ہے اور کل اس کی باز پرس ہو گی۔آپ کو اللہ کے سامنے جوابدہ ہونا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ