اسرائیل کا چپراسی ۔ مودی

60

صابر کربلائی

گزشتہ دنوں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے فلسطین سمیت اُردن، عرب امارات اور مسقط کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے کا وقت انتہائی اہم ہے کہ جب کچھ ماہ قبل مودی اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں۔ کچھ دن قبل ہی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے بھارت کا دورہ کیا تھا اور اب مودی کا یہ 4 ملکی دورہ بہت سے سوالات اٹھانے کے ساتھ کئی سوالات سے پردہ اٹھا بھی رہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ مودی عرب امارات سے ہوتے ہوئے اُردن پہنچے جہاں سے پھر فلسطین آئے اور محمود عباس سے ملاقات بھی کی۔ اس ملاقات میں مودی نے بھارت کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق کی بات کی اور وعدہ کیا کہ بھارت فلسطینیوں کے مفادات کو فراموش نہیں کرے گا۔
حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ مودی کے پڑوس میں ہی ایک خطہ وادی کشمیر کہلاتا ہے کہ جہاں روزانہ کی بنیادوں پر کشمیریوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں اور ابھی چند ماہ پہلے ہی تو مودی اور نیتن یاہو کی مسلسل 2 ملاقاتوں میں فلسطین کو فراموش کیا گیا تھا تو اب آخر مودی فلسطین کے کمزور صدر محمود عباس کو کیا یقین دلانا چاہتے ہیں؟ یا پھر یہ کہ وہ دنیا بھر میں اور بالخصوص بھارت میں فلسطین کے معاملے پر عوامی غم و غصہ کم کرنا چاہتے ہیں یا شاید یہ کہ اس دورے میں مودی نے اسرائیل کا ایک سچا اور پکا نمک خوار ہونے کا یقین دلوایا ہے۔

2-1
اب ذرا ان ممالک کی صورتحال کا جائزہ لیجیے کہ جہاں سے ہوتے ہوئے اسرائیلی نمک خوار مودی فلسطین جا پہنچے تھے۔
عرب امارات: جی ہاں آج کل عرب امارات کھلم کھلا خلیج دنیا میں ایک ایسا پولیس مین بنا ہوا ہے کہ جس نے نہ صرف بحرین بلکہ یمن میں بھی جاری فوجی حملوں کی کمان سنبھال رکھی ہے۔ اب مودی نے یقیناً یہاں پر اسرائیل کی خیرخواہی میں ان کو یہی پیغام دیا ہوگا کہ اسرائیل کے تحفظ کی خاطر اس جنگ کو جاری رکھو۔ یہ خیال نہ کرنا کہ یمن میں مارے جانے والے ہزاروں معصوم انسان مسلمان ہیں یا انسان بھی ہیں۔ یقیناً مودی نے اپنے کشمیر کے تجربات یہاں اماراتی شاہوں کے ساتھ شیئر کیے ہوں گے تاکہ انہیں حوصلہ ملے کہ دنیا چاہے جتنی ہی مخالفت کرتی رہے لیکن کیونکہ اسرائیل کا تحفظ سب پر مقدم ہے اس لیے یمن میں جو جنگ مسلط کر رکھی ہے اسے روکنا نہیں، کیونکہ یمن کے عوام کا پہلا نعرہ تکبیر، دوسرا رسالت اور پھر مردہ باد امریکا اور مردہ باد اسرائیل ہے۔
اسی طرح اب ذرا اُردن کی با ت کریں۔ گزشتہ دنوں ہی جب مودی اردن کے دورے پر تھے، اردن میں اسرائیلی سفارتخانے کو ازسرنو کھولا گیا اور نیا اسرائیلی سفیر بھی متعین کیا گیا ہے۔ یہاں بھی یقیناً مودی نے اسرائیل کی زبان بولتے ہوئے سمجھایا ہوگا کہ دیکھو نہ تو فلسطین کے مظلوموں کی بات کرنا اور نہ ہی کشمیر کی طرف آنکھ اٹھانا۔ اگر پاکستان سے کوئی تمہیں کشمیر پر حمایت کرنے کے لیے کہہ دے تو آنکھیں اور کان بند کرلینا۔
عرب امارات اور اردن میں اسرائیلی لوری سنانے کے بعد مودی فلسطین پہنچے اور فلسطینی صدر محمود عباس سے گرمجوشی کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھارت، فلسطینی عوام کے مفادات کو فراموش نہیں کرے گا۔ اس موقع پر انہوں نے بھرپور تاکید کی کہ اسرائیل کے ساتھ تمام معاملات کو گفتگو و مذاکرات کے ساتھ حل کرلیں۔ یہ ایک اور واضح دلیل ہے کہ مودی کا دورہ درا صل اسرائیل کے لیے تھا نہ کہ بھارت کے لیے۔ مودی کے اس فعل سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ایک ارب سے زائد آبادی رکھنے والا ملک اور اس کا وزیراعظم ایک جعلی ریاست اسرائیل کا چپراسی بن کر خطے میں پیغام رسانی کرتا پھر رہا ہے۔ دراصل حقیقت تو یہی ہے کہ بھارت کے وزیراعظم مودی کا درجہ کسی چپراسی کم نہیں۔
مودی نے حالیہ دنوں میں ان 4 ممالک کا دورہ کرکے اسرائیل کے چپراسی کا کردار شاید اس لیے بھی ادا کیا ہے کہ اسرائیل کی طرف امریکی صدر کے القدس سے متعلق آنے والے بیان کے بعد سے شدید دباؤ تھا، کیونکہ اس بیان کے بعد پوری دنیا نے جہاں امریکا و اسرائیل کی مذمت کی وہاں القدس کی تاریخی حیثیت کو بھی فلسطین ہی قرار دیا جس کے بعد جعلی ریاست اسرائیل میں شدید خوف و ہیجان کی کیفیت ہے اور اس کیفیت کی وجہ فلسطینیوں کی تیسری تحریک انتفاضہ ہے جو مسلسل جاری ہے اور مغربی کنارے میں اسرائیل کو اب شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فلسطینیوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اب کسی بھی قسم کے مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے اور بالخصوص امریکا کو فلسطین سے متعلق کسی بھی قسم کے مذاکرات کا مینڈیٹ نہیں دینے دیں گے جو ماضی میں فلسطینی اتھارٹی یا محمود عباس دے چکے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ مودی نے بھی بارہا فلسطینی صدر سے کہا کہ وہ تمام مسائل کو مل بیٹھ کر حل کرلیں۔ اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کا دورہ فلسطین، بھارت و فلسطین تعلقات کم بلکہ اسرائیلی چمچہ گیری پر زیادہ مبنی تھا۔
بہرحال عرب امارات، اردن اور فلسطین سے نکلنے کے بعد اسرائیلی چپراسی مودی مسقط گئے۔ مسقط اس وقت خلیج دنیا کا واحد عرب ملک ہے کہ جس نے فلسطین سے متعلق کوئی خیانت نہیں اور وہ یمن میں جاری جنگ کا حصہ بھی نہیں ہے۔
مودی کا یہاں آنے کا مقصد بھی واضح ہے کہ شاید ان کو ڈرایا دھمکایا جائے یا پھر یہ کہ اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدوں کا لالچ دے کر مسقط کو بھی اسرائیلی نمک خوار بنانے کی کوشش کی جائے لیکن یقین قوی ہے کہ مسقط کی حکومت کسی بھی ایسے فیصلے یا اقدام میں شامل نہیں ہوگی جس کا براہ راست نقصان مسلم امہ کو پہنچتا ہو یا مسلمانوں کے درمیان تفریق کا سبب بنے۔
مختصراً یہ ہے کہ ایشیا کا ایک قاتل دوسرے غاصب اور قاتل کی بقا کے لیے مسلمان ممالک اور ان کے حکمرانوں سے ملتا پھر رہا ہے اور کوشش میں مصروف ہے کہ کسی طرح اسرائیل کا تحفظ یقینی ہوجائے۔ جبکہ حقیقت میں یہ قاتل تو خود ہزاروں مظلوم انسانوں کا مجرم ہے، جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ