زینب قتل کیس؛مجرم کو 4 بار سزائے موت ،عمر قید 32 لاکھ جرمانے کی سزا 

129
لاہور، پنجاب پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کررہے ہیں
لاہور، پنجاب پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)زینب قتل کیس میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت،عمر قید اور32لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی جبکہ مجرم 15روز کے اندر فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتا ہے ۔تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قصور کی 7 سالہ زینب سے زیادتی و قتل کے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت سنادی،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد نے زینب زیادتی و قتل کیس کا فیصلہ سنایا، جسے ملکی تاریخ کا تیز ترین ٹرائل قرار دیا جارہا ہے،سماعت کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر نے بتایا کہ مجرم عمران کو 6 الزامات کے تحت سزائیں سنائی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ مجرم عمران کو ننھی زینب کے اغوا، زیادتی اور قتل کے ساتھ ساتھ 7 اے ٹی اے کے تحت 4،4 مرتبہ سزائے موت
سنائی گئی۔دوسری جانب عمران کو زینب سے بدفعلی پر عمرقید اور 10 لاکھ روپے جرمانے جبکہ لاش کو گندگی کے ڈھیر پر پھینکنے پر7سال قید اور 10 لاکھ جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ سزائے موت کی توثیق کے لیے ریکارڈ ہائیکورٹ کو منتقل کرے گی، جہاں 2 رکنی بنچ مجرم عمران کی اپیل سنے گا۔انہوں نے بتایا کہ ہائیکورٹ آرڈر بھی مثبت آیا تو عمران سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے۔پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق مجرم کے پاس اپیل کر نے کے لیے 15 دن ہیں جبکہ اس کے پاس صدر مملکت سے رحم کی اپیل کا حق بھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تمام مراحل کے بعد عمران کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے گا۔پراسیکیوٹر جنرل نے مزید بتایا کہ عمران کے خلاف دس پندرہ دن میں دیگر واقعات کے ٹرائل مکمل ہوجائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران سے عدالت نے آخری وقت تک پوچھا تو اس نے خدا کو حاضر ناظر جان کر اعتراف جرم کیا۔پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ سائنٹیفک تحقیق کی بنیاد پر مجرم کو سزا دی جارہی ہے اور ہم اْن ممالک میں شامل ہوگئے ہیں جہاں سائنسی بنیادوں پر ثبوتوں پر سزا دی جاسکتی ہے۔واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع قصور سے اغواء کی جانے والی 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا، جس کی لاش گذشتہ ماہ 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی۔زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور قصور میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق بھی ہوئے۔ بعدازاں چیف جسٹس پاکستان نے واقعے کا از خود نوٹس لیا اور 21 جنوری کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے زینب قتل کیس میں پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات کے لیے تفتیشی اداروں کو 72 گھنٹوں کی مہلت دی ، جس کے بعد 23 جنوری کو پولیس نے زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا، جس کی تصدیق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی کی۔ملزم عمران کے خلاف کوٹ لکھپت جیل میں ٹرائل ہوا، جس پر 12 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی۔زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے خلاف جیل میں 4 دن تک روزانہ 9 سے 11 گھنٹے سماعت ہوئی، اس دوران 56 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور 36 افراد کی شہادتیں پیش کی گئیں۔ سماعت کے دوران ڈی این اے ٹیسٹ، پولی گرافک ٹیسٹ اور 4 ویڈیوز بھی ثبوت کے طور پر پیش کی گئیں۔15 فروری کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج سنایا گیا۔علاوہ ازیں پراسیکیوشن پنجاب نے قصور کی معصوم بچی زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی کے لیے پنجاب حکومت کوتجاویزبھیجنے کافیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پراسیکیوشن پنجاب کا کہنا ہے کہ سرعام پھانسی دینے کے لیے قانون میں ترمیم کی ضرورت نہیں، ا یکٹ 1997کے سیکشن 22کے مطابق سزا کے لیے جگہ تبدیل کی جاسکتی ہے اور جہاں جرم ہو وہاں مجرم کو سزا دی جا سکتی ہے ۔ پنجاب پراسکیوشن کا کہنا ہے کہ زینب کے قاتل عمران کو سر عام پھانسی دینے کے لیے پنجاب حکومت کوتحریری طورپرتجاویزبھجوائی جائیں گی۔ خصوصی عدالت کے فیصلے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زینب کے والدین کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی فیصلے پر مطمئن ہیں تاہم ایسا فیصلہ چاہتے تھے کہ جسے پوری دنیا یاد رکھے۔اس موقع پر زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کا اب بھی مطالبہ ہے کہ جس مقام پر زینب کو اغوا کیا گیا مجرم کو اسی جگہ پر سر عام سزا دی جائے ، حکومت سے اپیل ہے کہ چھوٹی بچیوں کے تحفظ کے لیے قانون بنا ئے، عمران صرف زینب کا نہیں بلکہ دیگر بچیوں کا بھی قاتل ہے۔اگر پراسیکیوشن پنجاب کی سفارشات منظور کر لی گئیں تو زینب کے قاتل کو سر عام پھانسی دی جا سکے گی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ