ادارے اپنی حد میں رہیں،عوامی نمائندوں کو چور ،ڈاکو کہنا قبول نہیں،وزیراعظم 

216
لاہور، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور نواز شریف ملاقات کررہے ہیں، اس موقع پر شہباز شریف ودیگر بھی موجود ہیں
لاہور، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور نواز شریف ملاقات کررہے ہیں، اس موقع پر شہباز شریف ودیگر بھی موجود ہیں

حافظ آباد(خبر ایجنسیاں) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہرادارہ آئینی حددود میں رہ کر اپنا کام کرے اور ملک کی ترقی کو سب سے مقدم رکھے، عدالتوں کے فیصلوں پر من وعن عمل درآمد کیا جاتا ہے، منتخب نمائندوں کے ایوان سینیٹ،چاروں صوبائی اسمبلیاں کا بنایا ہوا قانون مستردیا ختم کر دیے جائیں یہ کسی بھی ملک میں قبول نہیں کیا جا سکتا ، پارلیمنٹ واحد ادارہ ہے جس کا ہر 5سال بعد احتساب کیا جاتا ہے، ذاتی عناد ، پسند نہ پسند ایک طرف ، ملکی ترقی کے لیے ادارے ایک دوسرے کی عزت کریں ۔حافظ آباد میں قومی صحت پروگرام کے اجرا کی تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ہماری جماعت نوازشریف کی قیادت میں وہ جماعت ہے جس نے عوام کے مسائل حل کیے، ترقی کی بات کی، ملک کے مسائل حل کیے، جتنے منصوبے ان 5برسوں میں مکمل یا شروع ہوئے اس کی مثال65 سال میں نہیں ملتی، یہ محض وعدہ نہیں کرتے، یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ 10 ہزار400 میگاواٹ بجلی اس دور میں شامل ہوئی، جب یہ حکومت آئی گیس نہیں تھی، بجلی کے کارخانے بند تھے، ملک میں گیس درآمد کی جاتی تھی، سی این جی اسٹیشنوں پر لمبی لائنیں تھیں ، ہم نے 6 لاکھ ٹن کھاد برآمد کی،
سی این جی کی لائنیں ختم کیں ، یہ وہ جذبہ تھا جو2013 ء میں نواز شریف لے کر آگے بڑھے، بہت سازشیں اور دھرنے ہوئے لیکن ہم نے اپنا سفر آگے جاری رکھا کیا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کام کررہی ہے اس نے کارکردگی دکھانی ہے، فیصلہ پھر ہونا ہے، وہی فیصلہ مقدم ہوتا ہے جو عوام کا فیصلہ ہوتا ہے، ہم سینیٹ کے انتخابات میں دھاندلی نہیں ہونے دیں گے، پیسے کے بل بوتے پر اقتدار میں آنے والوں کا انتخابات سے پہلے اور بعد میں بھی مقابلہ کریں گے، ضمیر خریدنے والا کبھی پاکستان کے عوام کا نمائندہ نہیں ہوسکتا۔ عدالتوں میں عوام کے نمائندوں کو کبھی چور، مافیا، ڈاکو کہا جاتا ہے یہ چیزیں قابل قبول نہیں، ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں کیونکہ یہ آئینی ادارے ہیں، 20 کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں کوایسے القابات دیے جائیں تو عوام اس کو مسترد کرتے ہیں ، سیاسی فیصلہ عوام پولنگ اسٹیشنز پر کرتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے 20کروڑ نمائندہ عوام کا بنایا ہوا قانون رد یا ختم کرنے کی باتیں کسی ملک میں بھی قابل قبول نہیں ہوتیں، یہ عوامی رائے کی نفی ہے، ہم تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں، عدالتوں کے فیصلوں پر من وعن عمل کرتے ہیں۔ ہمیں اپنا کام کرنے دیا جائے، پارلیمنٹ ملک کا واحد ادارہ ہے جس کا 5 سال بعد احتساب ہوتا ہے، کسی اور ادارے کا احتساب نہیں ہوتا، ہر 5سال بعد سیاستدانوں کا احتساب ہوتا ہے، عوام سیاست دانوں کا احتساب کرتے ہیں اور نااہلوں کوگھر بھیج دیتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہر ادارہ آئینی حدود میں رہ کر کردار ادا کرے، عوام کا مفاد مقدم رکھے، ذاتی پسند و نا پسند پر فیصلے نہ کرے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ