شام میں 300 روسی جنگجو ہلاک اور لاپتا

130
ماسکو: شام میں دوران جنگ مارے گئے روسی جنگجو کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں
ماسکو: شام میں دوران جنگ مارے گئے روسی جنگجو کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں گزشتہ ہفتے ہلاک یا زخمی ہونے والے روسی شہریوں کی تعداد تقریباً 300 ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق روسی حکومت سے تعلق رکھنے والی نجی سیکورٹی کمپنی سے وابستہ تقریباً 300 روسی گزشتہ ہفتے شام میں ہلاک یا زخمی ہو ئے۔ معاملے سے تعلق رکھنے والے ذرائع کے مطابق ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد شام میں سرگرم روسی نجی سیکورٹی کمپنی کے جنگجو تھے۔ ان ہلاکتوں اور گمشدگیوں کی تصدیق ایک روسی فوجی ڈاکٹر نے بھی کی ہے۔ جب کہ ایک اور ذریعے نے ان ہلاکتوں کی تعداد 80 سے زائد بتائی ہے۔ مارے جانے والوں کے ساتھیوں نے بتایا ہے کہ وہ اس بشارالاسد کی حلیف قوتوں کے ساتھ لڑائی میں شریک تھے اور اس دوران ان کے ساتھی مارے گئے۔رائٹرز کے مطابق زخمیوں کو گزشتہ چند روز کے دوران روس کے 4فوجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ماسکو کے ایک فوجی اسپتال میں ان زخمیوں کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ ہفتے کے روز شام سے 50زخمیوں کو منتقل کیا گیا، جن میں سے 30فیصد کی حالت تشویش ناک ہے۔زخمیوں کا کہنا ہے کہ پہلے ان پر گولہ باری کی گئی، پھر اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیا۔ اتنی بڑی تعداد میں ان ہلاکتوں کی اطلاعات ایک ایسے وقت پر سامنے آرہی ہیں، جب اتفاقیہ طور پر قریب اسی وقت 7 فروری کو شامی شہر دیرالزور میں امریکی فوج کی جانب سے اسدی فوج کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں شاید 5 روسی شہری ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان کا تعلق روسی مسلح افواج سے نہیں تھا۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اگر یہ روسی ہلاکتیں امریکا کی جانب سے اسدی فوج کے خلاف کارروائی کے دوران ہوئی ہیں، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روس شامی تنازع میں کس شدت کے ساتھ موجود ہے، اور یہ خطرات بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے کہ روس اور امریکا شام میں ایک دوسرے کے براہ راست مدمقابل آ جائیں۔ شام میں یہ تازہ روسی ہلاکتیں 2014ء میں یوکرائن کے مشرقی حصے میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ اس وقت 100 سے زائد روسی جنگجو مشرقی یوکرائن میں مارے گئے تھے۔ ماسکو حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے کہ اس کے فوجی یا رضاکار یوکرائن میں موجود ہیں، اور اس حوالے سے سامنے آنے والے اعدادشمار کی بھی ماسکو حکومت نے کبھی تصدیق نہیں کی۔
روسی جنگجو

Print Friendly, PDF & Email
حصہ