نیپال میں چین نواز رہنما وزیر اعظم کے منصب پر آٗآآٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖفائز

161
نیپال کے نئے وزیراعظم کے پی شرما کی چینی ہم منصب لی کی چیانگ کے ساتھ فائل فوٹو
نیپال کے نئے وزیراعظم کے پی شرما کی چینی ہم منصب لی کی چیانگ کے ساتھ فائل فوٹو

کٹھ منڈو (انٹرنیشنل ڈیسک) نیپال کی خاتون صدر بدھیا دیوی بھنڈاری نے چین نواز اعتدال پسند کمیونسٹ لیڈر کو ملک کا نیا وزیراعظم مقرر کر دیا، جس کے بعد انہوں نے حلف اٹھا لیا۔ نیپال میں سیاسی اثر و رسوخ کے حوالے سے بھارت کے لیے یہ بات باعث تشویش ہے۔ اس تعیناتی کا اعلاننیپال کے صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا۔ کھڑگا پرشاد اولی نے حالیہ انتخابات میں سابق ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے واضح کامیابی حاصل کی تھی۔ 70ء اور 80ء کی دہائی میں بادشاہت کی مخالفت میں تحریک چلانے کی وجہ سے پرشاد اولی کو 14 برس جیل میں بھی رہنا پڑا تھا۔ حالیہ انتخابات میں شکست کے باعث شیر بہادر دؤبے مستعفی ہو گئے تھے اور ان کے بعد اب پرشاد اولی یہ عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ پرشاد اولی 2015ء میں موجودہ ملکی آئین کی تشکیل کے فوری بعد وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے تھے، لیکن ایک سال بعد ہی انہیں اس عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ پرشاد اولی کی جماعت کے بائیں بازو پر مشتمل سیاسی اتحاد کو چین کے قریب تر سمجھا جاتا ہے، جب کہ شیر بہادر کی جماعت واضح طور پر بھارت کی حامی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس پیش رفت کو علاقائی سطح پر چین کی کامیابی اور بھارت کی ناکامی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ ایشیا کی یہ دو بڑی طاقتیں نیپال میں ایک دوسرے سے بڑھ کر سرمایہ کاری کر رہی ہیں، تاکہ اس جیوپولیٹیکل اہمیت کے اتحادی کو اپنے ساتھ رکھا جائے۔ اس حوالے سے ہفتہ وار میگزین نیپالی ٹائمز کے ایڈیٹر کنڈا ڈکشٹ کا نیوز ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اولی ایک عملی وزیراعظم ثابت ہوں گے، اور وہ بھارت اور چین میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ نیپال میں پارلیمانی انتخابات کا انعقاد گزشتہ برس نومبر اور دسمبر میں ہوا تھا، لیکن حکومت سازی نہ ہونے کی وجہ نتائج کے اعلان میں تاخیر تھی۔ الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ نتائج کا اعلان اس وقت تک نہیں کیا جائے گا، جب تک ایوان بالا کے انتخابات مکمل نہیں ہو جاتے۔ نیپال میں ایوان بالا کا الیکشن گزشتہ ہفتے ہوا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ