شام :کیمیائی جنگ کے اعلٰی فوجی عہدے دار کی پر اسرار موت

228
دمشق: شام میں اسدی فوج کے اعلیٰ افسر اور کیمیائی جنگ کے ذمے دار محمد احمد حسینوکی تدفین میں افسران اور سپاہی شریک ہیں
دمشق: شام میں اسدی فوج کے اعلیٰ افسر اور کیمیائی جنگ کے ذمے دار محمد احمد حسینوکی تدفین میں افسران اور سپاہی شریک ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں کیمیائی جنگ میں ملوث اہم فوجی عہدے دار پُراسرار طور پر مارا گیا۔ شام کے ذرائع ابلاغ کے مطابق اسد انتظامیہ کے ایک اہم اور اعلی فوجی عہدے دار کو پُراسرار طور پر قتل کر دیا گیا ہے، تاہم حکومت نے اس حوالے سے مکمل طور پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اسد انتظامیہ کی فوج اور کیمیائی جنگ کا حصہ سمجھے جانے والے میجر جنرل احمد محمد حسینو کو بدھ کے روز قتل کیا گیا۔ میجر جنرل حسینو اسدی فوج کے زیر انتظام ملٹری کیمیکل کالج کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہ چکا ہے۔ جنرل حسینو کے قتل کے مقام اور طریقہ واردات کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ اسد انتظامیہ کے مقرب سوشل میڈیا پر مقتول جنرل کے جنازے کی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں۔ اسے صوبہ ادلب میں آبائی شہر زقزقانیہ میں میں سپرد خاک کیا گیا۔ بعض ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں میں کہا گیا تھا کہ جنرل حسینو کو قتل کر دیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ کیمیکل ملٹری کالج کے سربراہ مراد ہیں یا انہیں کوئی دوسرا انتظامی عہدہ دیا گیا تھا۔ میجر جنرل حسینو شام کے ریپبلکن گارڈ کے فورتھ بریگیڈ کے زیر انتظام کیمیائی شعبے کا سربراہ تھا، جب کہ بریگیڈ کی کمان بشارالاسد کے بھائی ماہر الاسد کے ہاتھ میں تھی۔ دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ رواں ماہ کے دوران شام میں امریکی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 5 روسی شہریوں کی ہلاکت کا امکان ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان نے ذرائع ابلاغ پر جاری کی گئی ایسی خبریں کی تردید کی ہے، جن کے مطابق اس بمباری کی وجہ سے درجنوں روسیوں کی موت واقع ہوئی تھی۔ امریکی عسکری اتحاد کے جنگی طیاروں نے 7 فروری کو دیرالزور صوبے میں اسدی فوجی دستوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں کئی اسدی فوجیوں کی ہلاکت کو رپورٹ کیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ