سیکورٹی آپریشن کیلیے بھیک نہیں مانگی ،امریکا سے مذاکرات کرینگے ،احسن اقبال

106
سیکورٹی آپریشن کیلیے بھیک نہیں مانگی ،امریکا سے مذاکرات کرینگے ،احسن اقبال
سیکورٹی آپریشن کیلیے بھیک نہیں مانگی ،امریکا سے مذاکرات کرینگے ،احسن اقبال

واشنگٹن (صباح نیوز) وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا جلد اسٹرکچر ڈائیلاگ کا آغاز کریں گے ، امریکا پر واضح کر دیا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ امریکا کے سیکورٹی تقاضے یکطرفہ پورے ہوں اور پاکستان نظر انداز ہو ،دہشت گردوں کے خلاف معلومات ہیں تو شےئر کی جائیں،ہم کارروائی کریں گے ، پاکستان کی علاقائی خود مختاری کا احترام کیا جانا چاہیے، بااعتماد اور باہمی احترام کی بنیاد پر علاقائی اور عالمی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں ،پاکستان اور امریکا مل کر افغانستان میں اچھا کردار ادا کر سکتے ہیں ،جو قوتیں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ان پر نظر ہے ،پاکستان نے سیکورٹی آپریشن کے لیے بھیک نہیں مانگی، پاکستان کو دباؤ میں لانے کی پالیسی کامیاب نہیں ہو گی ، بھارت افغانستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، توہین عدالت تب ہوتی جب برطرفی کے فیصلہ پر عمل نہ کرتے ۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اعزاز احمد چودھری کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اسٹرکچر ڈائیلاگ کا آغاز دوبارہ ہونا چاہیے تاکہ دو طرفہ تحفظات کا حل بات چیت کے ذریعہ نکالا جا سکے ۔ ہم نے امریکی وزیر خارجہ اور امریکی وزیر دفاع کے دورہ پاکستان کے دوران انہیں کہا تھا کہ ہمیں اپنے تمام تنازعات کو میڈیا میں بحث کرنے کے بجائے ہمیں اسٹرکچر ڈائیلاگ کے پیرائے میں بات چیت کرنی چاہیے ۔ میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان اور امریکا جلد اسٹرکچر ڈائیلاگ کے عمل کا دوبارہ آغاز کریں گے تاکہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جو شکایات اور خدشات ہیں ان کو بات چیت کے ذریعے دور کیا جا سکے۔ احسن اقبال نے حالیہ ڈرون حملے پر ایک بار پھر احتجاج کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے مگر کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت کا احترام لازمی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی علاقائی خود مختاری کا احترام کیا جانا چاہیے ہمارا یہ مؤقف رہا ہے کہ قابل عمل معلومات پاکستان کی ایجنسیز کو دی جائیں تاکہ ہم اس پر خود عمل کریں اور دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی پیدا نہیں ہو گی ۔ احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی مقاصد کا اہم ستون خطے کا امن ہے اور اس کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری ہیں۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستانی عزت نفس والی قوم ہے سیکورٹی آپریشن کے لیے کسی سے بھیک نہیں مانگی ہم امریکا سے امداد نہیں آبرومندانہ اور دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں ۔ پاکستان کو دباؤ میں لانے کی پالیسی کامیاب نہیں ہو گی ۔ ہم نے بدترین امریکی پابندیوں کا سامنا کیا ۔ ان پابندیوں کا نقصان پاکستان کے ساتھ امریکا کو بھی ہوا ۔ پاکستان اور امریکا بہت سے معاملات میں مل کر کام کر سکتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت افغانستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے ۔ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور رہیں گے ۔ افغانستان کا امن ہمارے لیے اہم ہے ، پاک افغان بات چیت کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔
واشنگٹن: وزیر داخلہ احسن اقبال سی پیک کے حوالے سے پاکستانی سفارتخانے میں تقریب سے خطاب کررہے ہیں

Print Friendly, PDF & Email
حصہ