دبئی میں پاکستانیوں کی 12ارب ڈالرز جائداد کا معاملہ نیب کو بھیجنے کی سفارش

69

اسلام آباد (آن لائن)قومی اسمبلی کی خزانہ کی قائمہ کمیٹی نے جمعہ کو سب کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی طرف سے 12ارب ڈالر سے زائد کی جائدادوں کی خریداری پر رپورٹ کے بعد ا س مسئلے کو مزید تفتیش کے لیے نیب کو بھیجنے کی سفارش کر دی۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس قیصر احمد شیخ کی صدارت میں ہوا اور کمیٹی کو میڈیا کے نمائندوں نے بتایا کہ دبئی میں 33ہزار غیر ملکیوں کی ایک فہرست ہے جو ایف بی آر سے حاصل کی گئی ہے جس کے مطابق ، اس فہرست میں 5ہزار سے زائد پاکستانی بھی شامل ہیں ، جنہوں نے منی لانڈرنگ کرکے دبئی میں جائدادیں خریدی ہیں اور یہ لوگ پاکستان میں ٹیکس بھی اد ا نہیں کر رہے اور ایف بی آر ان کی تمام معلومات ہوتے ہوئے بھی ان کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہا، کیونکہ ان میں بے شمار سیاست دان اور اہم بیوروکریٹس بھی شامل ہیں۔ سب کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ، 8 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری پاکستانیوں نے یو اے ای میں جائدادیں خریدنے پر کی ہے۔ کمیٹی نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین کے مطابق اگر کوئی بھی پاکستانی ، ملک سے باہر جائداد میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، تو اسے اسٹیٹ بینک کو آگاہ کرنا پڑتا ہے لیکن دبئی میں جائدادیں خریدنے والے کسی بھی پاکستانی نے آج تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو دنیا کے کسی بھی ملک میں جائداد کے بارے میں اطلاع نہیں دی اور کسی بھی جائداد کی تفصیل اسٹیٹ بینک کے پاس نہیں ہے۔پاکستان سے باہر جائدادوں کی خریداری میں سرمایہ کاری غیر قانونی ہے، اور اس میں کالا دھن استعمال کیا گیا ہے، جس پر پاکستان میں ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔ اس لیے کمیٹی نے اس کیس کی مزید تفتیش نیب کے سپرد کر دی۔ کمیٹی کو میڈیا کے ارکان نے بتایا کہ ان کوسی بی آر کی جانب سے ایک فہرست ملی ہے، جو سی بی آر کے پاس 2015ء سے ہے، اس فہرست کے مطابق 33ہزار سے زائد غیر ملکیوں نے دبئی میں جائدادیں خریدی ہوئی ہیں اور ان میں 5 ہزار سے زیادہ پاکستانی بھی شامل ہیں۔ میڈیا کی طرف سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر اور چند دوسرے محکموں نے اس فہرست کو تبدیل بھی کیا ہے اور اس میں سے چند اہم نام نکال دیے ہیں تاکہ ان کو نیب کی جانب سے ہونے والی کیس کی تفتیش سے بچایا جا سکے جبکہ سب کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایف آئی اے نے 100 پاکستانیوں کی ایک فہرست حاصل کی ہے، جنہوں نے 8 ارب ڈالر سے زائد یو اے ای میں جائدادیں خریدنے پر خرچ کیے ہیں، لیکن یو اے ای کی حکومت اس مسئلے پر پاکستان سے تعاون نہیں کر رہی اس لیے وزیر اعظم یا وزیر خارجہ سے کہا جائے کہ وہ براہِ راست یو اے ای کی حکومت سے رابطہ کرکے اس معاملے میں تعاون حاصل کریں۔نیب کے نمائندے نے سب کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت پاکستان قانونی طور پر ایسے تمام پاکستانیوں کا ریکارڈ یو اے ای سے حاصل کر سکتا ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق صرف 4پاکستانیوں کے خلاف معلومات مل سکیں ہیں جبکہ ان کو ابھی تک کسی اور پاکستانی کا ریکارڈ ابھی تک نہیں مل سکا۔ کمیٹی نے اسٹیٹ بینک سے رپورٹ طلب کرلی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ