پنگریو، ضلع کی نہروں سے پانی کٹوتی کی سمری وزیراعلیٰ کو بھیجنے کا انکشاف

32

پنگریو (نمائندہ جسارت) محکمہ آبپاشی کی جانب سے اکرم واہ سے فراہم کیے جانے والے ضلع بدین کی تحصیلوں ٹنڈو باگو اور بدین کے حصے کے پانی میں کٹوتی کر کے گولارچی کی ششماہی نہروں کو دائمی نہریں قرار دے کر یہ پانی گولارچی کی نہروں میں مستقل طور پر فراہم کرنے کے لیے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیجے جانے کا انکشاف ہوا ہے اور بہت جلد یہ سمری منظور ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد ضلع بدین کی مذکورہ دو تحصیلیں صحرا میں تبدیل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس صورتحال پر ان تحصیلوں کے کاشت کاروں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور کاشت کاروں نے فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گولارچی کی ششماہی نہروں کو سالانہ نہریں قرار دینے کا مقصد سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی (سیڈا) سندھ کے موجودہ چیئرمین علی نواز چانڈیو اور دیگر انتہائی با اثر حکومتی شخصیات کی زمینوں کے لیے مستقل طور پر نہری پانی فراہم کرنا ہے، جس کے لیے کوٹری بیراج سے نکلنے والی اکرم واہ اور پھلیلی کینال سے پانی کی کٹوتی کر کے سالانہ بنیادوں پر گولارچی کی ششماہی نہروں میں فراہم کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ آبپاشی کی جانب سے تیار کی جانے والی سمری میں ان کینالوں میں دریائے سندھ سے اضافی پانی حاصل کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے، اس لیے گولارچی کی ششماہی نہروں کو ضلع بدین کے وسیع حصے میں پانی فراہم کرنے والی اکرم واہ اور پھلیلی کینالوں سے کٹوتی کر کے دیا جائے گا، جس کے بعد ضلع بدین میں زیریں حصے کی دو تحصیلیں بدین اور ٹنڈو باگو میں پانی کا خوفناک بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جس پر ان تحصیلوں کے ہزاروں کاشت کاروں میں زبردست غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور کاشت کاروں نے پنگریو کے قریب ایک زرعی فارم پر منعقدہ اجلاس میں محکمہ آبپاشی کے اس منصوبے کی ہر فورم پر مخالفت کر نے اور سمری منظور ہونے کی صورت میں احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں تحصیل ٹنڈو باگو اور تحصیل بدین کے کاشت کار رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں کاشت کار رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں اس منصوبے کو ضلع بدین کے زیریں حصے کے لیے زرعی اور معاشی لحاظ سے قاتل منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت سندھ نے اکرم واہ کے پانی میں اضافہ کیے بغیر موجودہ پانی سے کٹوتی کر کے اگر چند حکومتی شخصیات کے لیے فراہم کیا تو اس کیخلاف نہ صرف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی بلکہ زبردست احتجاجی تحریک بھی چلائی جائے گی۔ کاشت کار رہنماؤں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ معاملے کا از خود نوٹس لے کر دونوں تحصیلوں کو مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ