عوام کی سہولت کیلیے صاف پانی کی فراہمی اور صفائی کے نظام کو بہتر کیا جائے ، عنایت اللہ خان

49

پشاور( آئی این پی )خیبر پختو نخوا کے سینئر وزیر بلدیا ت و دیہی تر قی عنا یت اللہ نے ملاکنڈ ڈویژن کی تحصیل میونسپل آفیسر کی مجموعی کارکردگی پر اطمیان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ لوگوں کو پینے کی صاف پانی کی فراہمی ، صفائی ، نکاسی آب، سیاحت کے فروغ، ریونیو میں اضافہ ،بلڈنگ بائی لاز اور ڈسٹرکٹ فنڈز کے بہترین استعمال کے لیے مزید کوششیں تیز کریں ۔ یہ ہدایت انہوں نے جمعہ کو پشاور میں ملاکنڈ ڈویژن ٹی ایم ایز کی کارکردگی سے متعلق اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے جاری کیں ۔ اس موقع پر سیکرٹری بلدیات سید جمال الدین شاہ، سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ حضر حیات کے علاوہ ملاکنڈ ڈویژن تحصیل میونسپل آفیسرز نے بھی شر کت کی۔اجلاس میں ٹی ایم اوز کی کارکردگی ، مشکلات اور مسائل کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی ۔ اجلاس میں اپر دیر، بحرین اور مدین کے ٹی ایم ایز نے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بتایا کہ شہریوں کو معیاری میونسپل خدمات فراہم کرکے 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اجلاس میں بعض ٹی ایم ایز کی صفائی کی بہتری کیلیے کیے گئے اہداف مکمل کرنے کو سراہا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو انعام و اسناد سے نواز ا جائے گا۔ صفائی نصف ایمان اور ہمارا دینی و اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ سینئر وزیر بلدیات نے کہا کہ اپنے گھروں کے علاوہ گلی محلوں کو صاف کرنا مہذب معاشرے کی نشانی ہے ،تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ کے علاوہ اسکول و کالجز علما اور طلبہ کے ساتھ انتہائی قریبی رابطہ رکھیں اور صفائی و حفظان صحت اصولوں کی آگاہی کیلیے بھر پور مہم چلائیں۔عنایت اللہ نے کہا کہ گندگی جگہ جگہ پھینکنے کے بجائے کوڑا دان میں ڈالیں اورمعیاری کوڑا دان مقررہ مقامات پر رکھے جائیں، مخصوص کوڑا دان گاڑیاں گند اٹھاتے وقت ڈھانپی ہوئی ہونی چاہییں تاکہ محفوظ طریقے سے کوڑا کرکٹ مقررہ جگہ تک پہنچایا جا سکے۔صوبائی وزیرنے محکمہ بلدیات کے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ دریا کے پانی کو آلودہ نہ ہونے دے اور اس مقصد کے لیے گندے پانی کی نکاسی کیلیے علیحدہ انتظام کریں ۔انہوں نے مزید کہا کہ آبنوشی کے زنگ آلود ، فرسودہ اور ٹوٹے ہوئے پائپوں کو بھی جلد از جلد تبدیل کریں تا کہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی ہو، ملاکنڈ ڈویژن قدرتی وسائل و نظاروں سے مالا مال ہے لہٰذا متعلقہ حکام سیاحت کے فروغ کیلیے تما م دستیاب وسائل بروئے کار لائیں تا کہ سیاح بحرین، مدین ، کالام ، کلاکوٹ اور براول کے سیاحتی مقامات پرزیادہ سے زیادہ آئیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ