قادیانیوں کو اقلیت قرار دلوا کر کشمیریوں نے اپنا حق تسلیم کروایا، تنظیم تحفظ ختم نبوت

58

ٹنڈوآدم/کراچی/لاہور/سکھر/کوئٹہ/(پ ر) آزاد کشمیر میں قادیانیوں کو کافر قرار دیے جانے پر ملک بھر میں اجتماعات، مدارس، خانقاہوں، اسکولوں میں جشن کا سماں، بل پر فوری عملدر آمد کا مطالبہ۔ پاکستانی حکومت اور پی پی کی خاموشی کی مذمت، کشمیری وزیراعظم اور کابینہ کو مبارکباد۔ آزاد کشمیر میں قادیانیوں کو آئینی طور پر کافر قرار دیے جانے پر تنظیم تحفظ ختم نبوت پاکستان کی اپیل پر ملک بھر میں جمعہ کو ’’یوم دفاع ختم نبوت‘‘ کے طور پر منایا گیا۔ ٹنڈو آدم مرکزی صدر علامہ احمد میاں حمادی، مفتی محمد طاہر مکی، کنڈ یارو مفتی محمد ادریس السندھی، لاڑکانہ علامہ ناصر محمود سومرو، کراچی حافظ عبدالرحمن الحذیفی، علامہ ابوذر غفاری، حیدر آباد مولانا محفوظ الرحمن شمس، قاری محمد عارف، جامشورو کوٹری مولانا عبدالمجید ہالیجوی، مولانا محمد نذر عثمانی، لاہور ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی، جسٹس (ر) میاں نذیر اختر، ملتان مولانا بہاؤالدین ذکریا، پنوعاقل مفتی نافع مصطفےٰ انڈھڑ، سکھر مفتی شاہ سعودہالیجوی، شبان ختم نبوت سندھ کے صدر محمد محرم علی راجپوت سمیت کئی دیگر علما و رہنماؤں نے آزاد کشمیر میں قانونی طور پر قادیانیوں کو کافر قرار دیے جانے پر جمعہ کے اجتماعات سے خطاب میں کہا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دیا جانا کسی بھی قوم کا قانونی اور آئینی حق ہے، قادیانی بدترین گستاخان رسول ہیں، مسلمان کسی بھی قیمت پر انہیں مسلمان نہیں کہلوانے دیں گے۔ قادیانیوں کا خود کو اقلیت تسلیم نہ کرنا ہی ہمارے حق پر ڈاکا ہے، کشمیریوں نے اپنا حق تسلیم کروایا ہے۔ علما نے کہا کہ آزاد کشمیر میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جانا اسکا کریڈیٹ ن لیگ کو نہیں وہاں کی تمام جماعتوں کے سربراہان کو جاتا ہے، اس لیے کہ ن لیگ نے پاکستان میں تو یہ قانون ختم کرنے کے لیے بڑے پر تولے، پاکستان میں کھل کر قادیانیوں کی حمایت ن لیگ نے کی، علما و رہنماؤں نے آزاد کشمیر کے جس اجلاس میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا، میں شرکت نہ کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پی پی قیادت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی دو ٹوک وضاحت کرے کہ کیوں اس اجلاس میں شرکت نہیں کی، حالانکہ بھٹو نے پاکستان میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا تھا۔ پی پی والوں کو کیوں شرم محسوس ہوتی ہے؟ اجتماعات میں مطالبہ کیا گیا کہ اب اس منظور شدہ بل پر سیاست کرنے کے بجائے فوری طور پر عملدر آمد کے لیے پیش کیا جائے اور سرکاری کاغذات میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت لکھا جائے۔ علما وخطاب نے آزاد کشمیرکے وزیر اعظم کو ختم نبوت کے مسئلے پر اپنے مکمل اور غیر منشروط تعاون کی یقین دہانی بھی کرادی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ