زیریں سندھ میں پانی کی قلت شدت اختیار کرچکی ہے، سماجی تنظیم

25

بدین (نمائندہ جسارت) ضلع بدین سمیت زیریں سندھ میں پانی کی قلت شدت اختیار کرچکی ہے، پانی کی تقسیم کے فیصلوں میں خواتین کو شامل نہ کرنے اور پانی کی کمی کے مسائل کو کس طرح سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ بدین میں سماجی تنظیم کے زیر اہتمام ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا، ضلع بدین میں پانی کی قلت سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے، آئے دن احتجاج اور دھرنوں کے باوجود بھی یہ مسئلہ طول وعرض میں پھیلتا جارہا ہے۔ پانی کی قلت کو کس طرح سے ختم کیا جائے۔ اس سلسلے میں اویئر نامی سماجی تنظیم نے آکسفیم کے تعاون سے جیم خانہ ہال میں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں متعلقہ اداروں کے افسران، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور مختلف سماجی تنظیموں کے عہدیداران نے شرکت کی اور مسئلے کے حل کے لیے اپنی تجاوزات پیش کیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل بدین کے صدر حاجی تاج محمد ملاح، منیجر ٹرانزیشن سیڈا پرویز بابھن، افتخار احمد تالپور، شیراز چانڈیو، محمد بخش سومرو، خادم تالپور، دھنی بخش ملاح، امید علی چانگ، عابدہ جمالی اور دیگر سب کا یہی کہنا تھا کہ پانی کی قلت کا مسئلہ پورے پاکستان کا مسئلہ بن گیا ہے۔ ضلع بدین میں پانی کی قلت کی وجہ انگریزوں کے دور کے بنائے گئے قانون کو تبدیل نہ کرنا، نہروں کی عدم پختگی، پانی کی چوری، نہروں کی کھدائی نا ہونے، نہروں میں غیر قانونی بند بنانے اور پانی کی تقسیم کے فیصلوں میں خواتین کو شامل نا کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے، جس کے باعث بدین سمیت زیریں سندھ کے عوام کو اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ پروگرام میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسئلے کو ایوانوں میں اٹھانے کی ضرورت ہے، جس میں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ