پاکستان سے 7ماہ میں1ارب6کروڑڈالر کا چاول برآمد

88

کراچی (اسٹاف رپورٹر)رائس ایکسپورٹرز ایسو سی ایشن آف پاکستان REAPکے سینئر وائس چیئرمین رفیق سلیمان نے ماہ جنوری کے اختتام پر چاول کی بر آمدات کے اعداد و شمار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں موجودہ مالی سا ل جولائی تا جنوری 2018ء میں چاول کی بر آمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ موجودہ مالی سال میں ہم نے22لاکھ81ہزار میٹرک ٹن چاول بر آمد کیا ہے جس کی مالیت تقریباََ ایک ارب 6کروڑ ڈالر ہے جبکہ گذشتہ مالی سال میں اسی عرصے کے دوران ہم نے 19 لاکھ71ہزار میٹرک ٹن چاول بر آمد کیا تھا جس کی مالیت تقریباََ 820ملین ڈالر تھی یعنی اس سال چاول کی برآمدات میں مقدار کے حساب سے 15فیصد اور مالیت کے حساب سے 29فیصد ترقی ہوئی ہے ۔ رفیق سلیمان نے چاول کی بر آمدات ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں سے چاول کی بر آمدات خصوصی باسمتی چاول شدید بحران کا شکار تھی اب الحمد اللہ REAPکے ممبرز کی مسلسل اور انتھک محنت سے ہم اس بحران سے نکل چکے ہیں ۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ اس مالی سال میں ہم نے چالیس لاکھ ٹن پاکستانی چاول بر آمد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کی مالیت تقریباََ دو ارب ڈالر ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ ہم مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہم یورپی ممالک پر بھی اپنی توجہ مر کوز کر رہے ہیں کیونکہ یورپی ممالک میں چاول میں زرعی ادویات کی مقررہ حد سے زائد مقدار کی موجودگی کی وجہ سے بھارتی چاول پر متوقع پابندی کی وجہ سے بھی پاکستان کے چاول کے بر آمد کنندگان ان ممالک میں زیادہ چاول بر آمد کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے حکومت کے متعلقہ اداروں کو اس سلسلے میں فوری اقدامات کرنے کے لیے استدعا کی تاکہ پاکستان کو زیادہ سے زیاد ہ زر مبادلہ فراہم ہوسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ کینیا پاکستانی چاول کا سب سے بڑا خریدار ہے اور گزشتہ مالی سال کے سات مہینوں میں ہم تقریباََ 2 لاکھ84 ہزار ٹن چاول برآمد کرچکے ہیں جس کی مالیت تقریباََ 102ملین ڈالر ہے۔ انہوں نے چین کو چاول کی گرتی ہوئی بر آمدات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستانی چاول کا دوسرا بڑا خریدار ہے لیکن گذشتہ سات مہینوں میں صرف 1لاکھ 86ہزار ٹن چاول بر آمد ہوسکا ہے جس کی مالیت 61ملین ڈالر ہے ۔ انہوں نے حکومت پاکستان کی وزارت تجارت کی توجہ اس جانب مبذول کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین فری ٹریڈ ایگریمینٹ کے سلسلے میں دوسرے مر حلے کے مذاکرات میں وزارت تجارت پاکستانی چاول کے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنے کی کوشش کرے تاکہ چین کو چاول کی بر آمدات متاثر نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس و قت بین الاقوامی مارکیٹ میں چاول کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس سال پاکستان کی چاول کی فصل بھی مقدار اور معیار کے حساب سے بہت اچھی ہے مزید برآں پاکستانی چاول کی قیمتیں دیگر حریف ممالک تھائی لینڈ اور ویتنام کے مقابلے میں نسبتاََ کم ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی خریداروں کی توجہ پاکستان پر مرکوز ہے اور امید ہے کہ رواں مالی سال میں چاول کی بر آمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی رائس ایکسپورٹرز ملک کی معاشی ترقی کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں اور زر مبادلہ کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر سر مایہ کاری کر رہے ہیں اور چاول کی ویلیو ایڈیشن کے لیے دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ