حکومت سی پیک کے بارے میں بخی شعبے کے تحفظات دور کرے رفیق رجوانہ

90

اسلام آباد (کامرس نیوز ) گورنر پنجاب ملک محمد رفیق راجوانہ نے کہا کہ سی پیک کو پاکستان میں لانا موجودہ حکومت کا ایک بڑا کارنامہ ہے کیونکہ چین ایسے وقت میں پاکستان میں سی پیک میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ ہوا جب پاکستان کو مشکل حالات کا سامنا تھا۔تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت سی پیک کے بارے میں پاکستان کے نجی شعبے کے تمام تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے تا کہ یہ تاریخی منصوبہ پاکستان کی مقامی صنعت کی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کا باعث بنے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورہ کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے سفیر کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے سی پیک کے بارے میں تاجر براری کے تحفظات سے ان کو آگاہ کیا تھا اور کہا کہ چیمبر بھی چینی سفیر کے ساتھ ملاقات کر کے اس بارے میں ان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان میں ٹیکسٹائل، اسٹیل اور زراعت کے شعبے میں جوائنٹ وینچرز اور سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے۔رفیق راجوانہ نے کہا کہ تاجر برادری معیشت کی ترقی میں ریڈھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کے تمام اہم مسائل حل کرنے پر توجہ دے تا کہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں سہولت ہو۔ چیمبر کی طرف سے اسلام آباد میں انڈسٹریل زون کے قیام کے مطالبے پر انہوں نے کہا کہ چیمبر تحریری طور پر اس منصوبے کی تجویز وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجے جس کی کاپی ان کو بھی بھیجی جائے تاکہ وہ یہ معاملہ اعلیٰ حکومتی حکام کے ساتھ اٹھا سکیں۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ٹیکس ادا کر کے ملک کی ٹیکس آمدن میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے لہذا ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ ٹیکس دہندگان میں عدم اعتماد کو ختم کرنے اور بہتر تعلقات کے قیام کے بارے میں فوری ضروری اقدامات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں کاروباری سرگرمیوں کے بہتر فروغ کے لیے کاروبار کی لاگت کو بھی نیچے لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تاجر برادری کو یقین دلایا کہ وہ ا ن کے وکیل کا کردار ادا کریں گے اور جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ان کو وزیر اعظم سمیت متعلقہ حکومتی حکام کے ساتھ اٹھائیں گے۔اپنے استقبالیہ خطاب میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے کہا کہ سی پیک کے تحت اسلام آباد میں ایک اسپیشل اکنامک زون قائم کیا جانا ہے تاہم سی ڈی اے ابھی تک اس کے لیے مناسب زمین تلاش نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اسلام آباد کے گردونواح میں مذکورہ زون کے لیے زمین تلاش کرنے میں تعاون کرے جس سے جڑواں شہروں میں صنعتی سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک میں چین کے سرمایہ کاروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے صنعتی شعبے کو اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت صنعتی مشینری کی درآمد پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیاں ختم کرے تا کہ صنعتی شعبہ جدید مشینری حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پیداواری لاگت کو نیچے لانے کے لیے بجلی کی قیمت اور ٹیکسوں کے ریٹ کو بھی کم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے افرادی قوت کی برآمد پر مجموعی طور پر تقریبا 28فیصد ٹیکس عائد کیا ہوا ہے جس کو ختم کیا جائے جس سے مین پاور ایکسپورٹ کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ خریداری کے مرحلے پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے کیونکہ دیگر ممالک خریداری پر ٹیکسوں کے نفاذ سے گریز کرتے ہیں۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد نوید، نائب صدر نثار مرزا، فاؤنڈر گروپ کے چیئرمین زبیر احمد ملک، میاں اکرم فرید، خالد اقبال ملک، میاں شوکت مسعود، باصر داؤد، شیخ پرویز احمد، خالدچوہدری اور نعیم صدیقی سمیت دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہاکہ پاکستان کی برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوا ہے جس سے تجارتی خسارہ بڑھ گیا ہے اور ترسیلات زر میں بھی کمی واقع ہوئی ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ان مسائل کی طرف فوری توجہ دے تا کہ معیشت کو بہتر کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تجارتی ملک بنانے کی بجائے حکومت صنعتکاری کے فروغ پر زیادہ توجہ دے اور اس مقصد کے لیے سازگار پالیسیاں بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسائل سمیت دیگر شعبوں کے صنعتکار چین اور دیگر ممالک کی طرف جا رہے ہیں لہذا حکومت کاروبار کے لیے بہتر ماحول پیدا کرے تا کہ سرمایہ ملک سے باہر منتقل ہونے کی بجائے ملک میں سرمایہ کاری کو بہتر فروغ ملے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ