ملک میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان طوالت پکڑگیا

32

کراچی (اسٹاف رپورٹر )یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر(یو ایس ڈی اے)کی جانب سے دنیا بھر میں کپاس کی مجموعی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں زیادہ جبکہ کھپت کم ہونے سے متعلق رپورٹ جاری ہونے کے بعد پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان مزید طوالت اختیار کر گیا اورروئی کی قیمتیں 150روپے فی من مزید مندی کے بعدسات ہزار50 روپے فی من تک گر گئیں جبکہ دھاگے کی قیمتوں میں بھی شدید مندی کے رجحان کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان اور کاٹن جنرز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں مسلسل مندی کے رجحان اور روئی کی درآمد ڈیوٹی فری ہونے کے باعث پاکستان میں پچھلے دو ہفتوں کے دوران روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ ایک ہزار روپے فی من تک کمی واقع ہو چکی ہے جبکہ مزید مندی کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یو ایس ڈی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق کاٹن ائر2017-18کے دوران دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں چار لاکھ بیلز زیادہ جبکہ کھپت تین لاکھ ساٹھ ہزار بیلز کم ہوں گی۔ جبکہ قبل ازیں رواں سال دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار پچھلے سال کے مقابلے میں کم جبکہ کھپت زیادہ ہونے سے متعلق رپورٹس جاری کی گئی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ روئی اور سوتی دھاگے کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے باعث پورے پاکستانی سیکٹر میں تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بھار ت سے بڑے پیمانے پر ہونے والے سوتی دھاگے کی درآمد محدود کی جائے تاکہ پاکستانی کاٹن سیکٹر میں پائی جانے والی تشویش ختم ہو سکے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ