صرف دو شعبوں کے لیے بیان بازی کیوں حرام

192

وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ فوج اور عدلیہ کے خلاف بیان بازی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے دو اہم عہدیداروں طلال چودھری اور دانیال عزیز کو مشورہ دیا کہ وہ معافی مانگ لیں۔ مبادا انہیں بھی نہال ہاشمی جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے۔ وہ یہ مشورہ نواز شریف کو بھی دے ڈالیں۔ عدالت نے تو دانیال عزیز کو دس روز میں وکیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ دانیال وکیل تو کرلیں گے لیکن نہال ہاشمی تو خود بھی وکیل تھے وکالت کسی کام نہیں آئی۔ ہمیں وزیراعظم کی بات سے اتفاق ہے کہ فوج اور عدلیہ کے پیشے مقدس ہیں ان کے مناصب کا بھی احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بھی بیان کے اجرا سے پہلے نظر ثانی ضرور کرنی چاہیے۔ لیکن ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بیان بازی پر پابندی کی بات کی گئی ہے یا غلط زبان کے استعمال اور الزام تراشی پر۔ دوسری بات یہ کہ صرف فوج اور عدلیہ کیوں؟ ان دونوں سے زیادہ معزز اور معتبر تو علمائے دین ہیں۔ ان کے بارے میں بیان بازی کیونکر جائز ٹھیری۔ وزیراعظم کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ کسی کے بارے میں بھی بیان جاری کرتے وقت زبان اور حقائق کو مد نظر رکھیں۔ بیان بازی پر پابندی تو اظہار رائے پر پابندی ہے۔ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بعض علمانے مذہب کو تجارت کا ذریعہ بنالیا ہے بلکہ اس کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں تو اس کا حل یا جواب یہ ہے کہ جب بھی کوئی بیان جاری کیا جائے اور اس میں اس عالم یا مولوی کی کسی غلط کاری پر توجہ دلانی مقصود ہو یا تنقید کرنی ہو تو اس کا نام لیا جائے۔ اسی طرح جرنیلوں نے فوج کا نام استعمال کرکے ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا اور سیاسی نظام تہس نہس کردیا تو ان پر تنقید کرنے والے ان جرنیلوں کے نام لیں پوری فوج کو مطعون نہ کریں۔ اور ججوں میں اگر کوئی جسٹس منیر کا حوالہ دے تو افتخار چودھری یا جسٹس میاں ثاقب نثار کو برا نہیں ماننا چاہیے۔ اور رہے سیاست دان تو ان کا بھی اسی طرح احتساب ہونا چاہیے۔ کل تک حلیف اور فرینڈلی اپوزیشن والے آج ایک دوسرے کو درندہ اور ناسور کہہ رہے ہیں یا الزامات لگاتے وقت چور، ڈاکو وغیرہ بھی کہاجاتا ہے۔ کیا ان چیزوں پر عمل روکا نہیں جاسکتا؟ علما تو انبیا کے وارث ہوتے ہیں، مدارس تو اسلام کے قلعے ہوتے ہیں۔ یہ دو ٹکے کے اینکرز جن کو دین کا پتا نہ دنیا کا یہ لوگ علما مذہب اور دینی مدارس پر زبانیں چلاتے ہیں۔ اسی پالیسی کی وجہ سے دو روز قبل ایک ٹی وی پر مذہب کے خلاف ’’بول وبراز‘‘ کی روانی تھی۔ سوال خود ہی ڈالا کہ مشال کے قاتلوں کی حمایت مذہبی جماعتوں نے کیوں کی؟ ایسا کب ہوا، اس کا کوئی پتا نہیں۔ حقائق تو یہ ہیں کہ قاتلوں اور حملہ آوروں کا تعلق اے این پی اور پی ٹی آئی سے تھا۔ اس میں مذہبی جماعتیں کہاں سے آگئیں؟ لیکن اینکر سمیت تمام شرکا مذہبی جماعتوں کے نام پر مذہب پر برس رہے تھے۔ وزیراعظم صاحب ناشائستہ اور بے سروپا الزامات پر پابندی لگائیں۔ بیان بازی صرف دو شعبوں کے لیے حرام کیوں۔۔۔؟

Print Friendly, PDF & Email
حصہ