اچھی طرزحکمرانی۔۔۔!

103

جلال نُورزئی

در حقیقت ملک میں جمہوری اداروں کا کردار بہت ہی مایوس کن رہا ہے۔ اس ناکامی کی کئی وجوہ ہیں۔ بدعنوانی، بدنظمی، اداروں کی نشوونما کا نہ ہونا اور ماضی میں آمروں کی سیاست میں دلچسپی اور اقتدار ہتھیانا اس کے محرکات ہیں۔ ایسے سیاست دانوں اور عوامی نمائندوں کی کمی نہیں جو جمہوریت کی ضد رہے ہیں۔ بلوچستان میں گزشتہ دنوں جو کچھ ہوا وہ بھی ایک نظیر ہے۔ جہاں عدم اعتماد کی تحریک کو جمہوری روایات کہا گیا، کہ یہ جمہوریت کا حسن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ق لیگ، ن لیگ کے باغی ارکان جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل اور بی این پی عوامی نے جمہوری روایات کو پامال کیا ہے۔ ان کا یہ اقدام جمہوریت کے حسن کو بگاڑنے کے مترادف ہے۔ یہ جماعتیں کہتی ہیں کہ اسمبلی کے خلاف کسی غیر آئینی اقدام کا حصہ نہیں بنیں گی۔ دیکھا جائے تو ان جماعتوں نے اسمبلی کو غیر یقینی کی حالت سے دو چار کردیا ہے۔ اب بلوچستان اسمبلی تنکے کے سہارے پر کھڑی ہے۔ عوام کے مینڈیٹ کو اپنی خواہشات اور انتقامی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ بالخصوص جے یو آئی ف، اے این پی اور دونوں بی این پی غیر جمہوری اور تخریبی سوچ کی آلہ کار بن گئیں۔
نواب زہری، پشتون خوا میپ اور نیشنل پارٹی اقتدار سے بے دخل تو کردی گئیں مگر شرمندگی کا سامنا بہت جلد ان جماعتوں کو بھی کرنا پڑے گا۔ ایسا ممکن نہیں کہ نواب زہری نے تمام اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کر رکھے ہوں۔ یقیناًحکومت میں شامل جماعتوں اور دوسرے ارکان برابر حکومت میں اپنا حصہ لیتے رہے۔ ارکان کی مرضی سے کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کی ان کے اضلاع میں تعیناتی ہوتی تھی۔ وزیروں اور مشیروں کی خواہش پر محکموں میں سیکرٹریز، ایڈیشنل سیکرٹریز اور ڈپٹی سیکرٹریز کا تبادلہ ہوتا تھا۔ فنڈز کا استعمال ان کی صوابدید پر تھا۔ گویا ہر ایک اپنے حلقوں اور اضلاع کا بادشاہ تھا۔ اگر بات اچھی حکمرانی اور شفافیت کی جائے تو اس سے ہماری ساری ہی حکومتیں عاری رہی ہیں اور نہ یہ خوبیاں تحریک عدم اعتماد لانے والوں میں پائی جاتی ہیں۔
علم سیاسیاست میں گڈ گورننس یعنی اچھی طرز حکمرانی ترقی کا معیار تصور کیا جاتا ہے۔ شفاف نظام، غیرجانبدار فیصلوں، جوابداہی اور قانون کی حکمرانی اچھی طرز حکمرانی کے نمایاں پہلو ہیں۔ یعنی جمہوریت اور اچھی طرز حکمرانی لازم و ملزوم ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری فوجی و عوامی حکو متوں یا سیاست دانوں نے اس معیار اور صفت کو اپنایا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ الٹا اسے پامال کیا ہے۔ اگر کوئی حکومت ماورائے آئین و قانون بنتی ہے تو وہ جبر کی حکومت ہی کہلاتی ہے۔ یقیناًعدم شفافیت، غیر جمہوری رویوں، سیاسی و گروہی اجارہ داری اسی طرح ریاستی امور میں سرائیت و مداخلت سے اچھی طرز حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ اگر اعتراض یہ تھا کہ نواب ثناء اللہ زہری کی حکومت ہدف اور مقصد پانے میں ناکام ہوئی ہے تو کیا یہ اس ناکامی میں عدم اعتماد کی تحریک لانے والے شامل نہیں ہیں؟۔ سچی بات یہ ہے کہ جے یو آئی اور سردار اختر مینگل نے اس آئینی و جمہوری تخریب میں حصہ ڈال کر آئندہ کی حکومت میں اپنے لیے ہمدردیاں اور تعاون حاصل کرنے کی سعی کی ہے۔ اور یہ فیصلہ ان جماعتوں نے بڑی سوچ سمجھ کے ساتھ کیا ہے۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ نواب زہری کی حکومت کو گزند کہاں سے پہنچی ہے۔
بلوچستان میں کھیلی جانے والی اس بازی سے وفاق پائیداری کے بجائے مزید ضعف کا شکار ہوا ہے۔ اس صورت حال میں صوبے کے سیاسی سوچ رکھنے والے عوام، سیاسی کارکن، طلبہ اور دانشور بجا طور پر یہ سمجھیں گے کہ ملک میں حکومتیں بنانے اور توڑنے پر قادر عناصر و قوتوں کے پیش نظر اپنی ہی ترجیحات ہیں۔ چناں چہ یہ طرز عمل یقینی طور پر مرکز گریز رجحانات کو تقویت دینے کا موجب بنے گا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نواب ثناء اللہ زہری کی حکومتیں اپنی اصل میں آزاد تھی ہی نہیں۔ جلد یا بدیر یہ سابق وزراء اعلیٰ اپنا منہ ضرور کھولیں گے۔ نواب زہری کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو 6 جنوری 2018 کو ضلع پشین کے جلسہ میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹر عثمان کاکڑ نے جہاں یہ سنگین الزام لگایا کہ ان کے پارٹی کے ارکان اسمبلی سردار مصطفی ترین اور لیاقت آغا کو پوشیدہ نمبروں سے دھمکی آمیز فون آئے محمود خان اچکزئی کا الزام یہ بھی تھا کہ 2دسمبر 2017ء کو ان کے والد عبدالصمد خان اچکزئی کی برسی کی مناسبت سے ایواب اسٹیڈیم کوئٹہ میں پشتون خوا میپ کے جلسہ عام میں نواز شریف کی شرکت پر ناراضی کا اظہار ہوا ہے۔ اور نواب زہری کو طلب کیا گیا تھا کہ وہ (نواب زہری) کیوں اس جلسے میں شریک ہوئے تھے۔ مجھے محمود خان اچکزئی اور اس کی جماعت کی بیش تر پالیسیوں سے اختلاف ہے۔ جب صوبے میں عوام کے ووٹوں سے بنی حکومت کو تہہ بالا کرنے کی سازشیں ہوئیں تو محمود خان اچکزئی نے مذکورہ جلسہ کے اختتام پر شرکاء سے ’’پشتونستان زندہ باد‘‘ اور ’’استقلال افغانستان زندہ باد‘‘ کے معنی خیز نعرے لگوائے۔ یقیناًمحمود
خان اچکزئی کا یہ ردعمل یا اشتعال غیر ضروری تھا۔ مجھے اس میں کوئی معقولیت دکھائی نہیں دی۔ نیز مجھ کو محمود خان اچکزئی کی افغان پالیسی سے بالکل اتفاق نہیں۔ میں افغانستان میں امارات اسلامیہ (طالبان) کی مسلح مزاحمت اور گلبدین حکمتیار کی سیاسی جدوجہد سے متفق ہوں۔ بلکہ اس کا پرزور حامی ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ افغانوں کی سرزمین پر امریکا قابض ہے۔ جس کے خلاف افغان عوام کی مزاحمت تاریخ کے اہم موڑ میں داخل ہو چکی ہے۔ میں اس بات پر کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں کہ بھارت پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں پال رہا ہے اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔ تاہم محمود خان اچکزئی کے اس اشتعال پر کھلے دل کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اور کہیں ایسا نہ ہو کہ نیشنل پارٹی پھر سے بلوچ شدت پسند سیاست کے حوالے سے مبہم رائے اپنائے۔ سردار اختر مینگل تو ہنوز ’’نیمے دروں نیمے بروں‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ان کا بھائی جاوید مینگل مسلح مزاحمت اور آزاد بلوچستان کا پرچارک ہے۔ اور حق خود ارادیت تو بی این پی مینگل کا مطالبہ ہے ہی۔ قصہ یہ کہ جمعیت علماء اسلام ف بڑی سستی بکی ہے۔اگر بات موجودہ صوبائی یعنی عبد القدوس بزنجو کی حکومت کی،کی جائے تو یہ بھی اپنی نہاد میں کنڑولڈ ہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ