اُمید سحر رکھتے ہیں

194

صبیحہ اقبال

پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں امریکی امداد کے تعطل کے بہت چرچے ہیں۔ امریکا میں بیرونی امداد دینے کے لیے پالیسیاں محکمہ خارجہ تشکیل دیتا ہے اور دنیا جانتی ہے کہ یہ پالیسیاں عموماً اپنے ہی ملک کے لیے فوائد کے لیے ترتیب دی جاتی ہیں۔ اس پالیسی کے تحت امریکی امداد کا 80 فی صد حصہ امریکی ساز و سامان، اشیا خورونوش اور ان کے لوگوں کی خدمات کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے۔ اس صورت میں ان کی کرنسی محفوظ رہتی ہے اور فاضل خارم، مصنوعات اور افرادی قوت اکثر و بیشتر ممالک میں اپنے ملکی مفادات کے لیے کام کررہی ہوتی ہے کے عوض میں دوسرے ملک کو اربوں ڈالر کا مقروض کردیتی ہے اور وہ سود کی شکل میں لاکھوں ڈالر وصول کرتا رہتا ہے۔ اس طرح امریکا ترقی پزیر ممالک میں اپنا معاشی و سیاسی اثر و رسوخ بڑھاتا چلا جاتا ہے اور یوں امریکی امداد کا یہ ڈھونگ درپردہ ترقی پزیر ممالک کو بے چوں و چرا امریکی احکامات کی تعمیل میں لگادیتی ہے۔
مقروض ممالک کی طرف سے ادائیگیاں امریکی ڈالرز کی صورت میں ہونے کے سبب مقامی کرنسی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکی امداد کسی بھی صورت امداد لینے والے ممالک کی ترقی وپیش رفت کو آزاد نہیں چھوڑتی بلکہ امداد کے شکنجے میں کس کر نچوڑ لیا کرتی ہے۔ یہ بھی کوئی مخفی امر نہیں کہ امریکا اپنی یہ امداد ان ترقی پزیر ممالک کو فراہم کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کے تحت اقدام کررہے ہوتے ہیں اس طرح وہ خود بخود اس راہ پر چل نکلتے ہیں جو مسلسل سفر میں رہنے کے باوجود ترقی کے زینے تک نہیں پہنچ پاتے۔ بعینہ یہی حال وطن عزیز کا بھی ہے اور بقول شاعر
نیر اس ملک میں یہ آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؟
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
بہترین محل وقوع، ایٹمی ٹیکنالوجی کا حامل اور کئی لحاظ سے ممتاز معدنی وسائل کا حامل ہونے کے باوجود بھی مسلسل قرضوں کی دلدل میں دھنسا چلا جارہا ہے۔ ایک سابق امریکی صدر فرما چکے ہیں ’’روپیہ دیتے ہیں تو اپنی بات بھی منوائیں گے‘‘ اور یہ بات منوانے کی چند مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ جن میں پاکستان نے اپنا سر، کندھے، وقار سبھی کچھ تو امریکا کے قدموں میں نچھاور کردیا۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ایسی گندم جو کسی بھی مصرف کے قابل نہیں تھی اس کی وصولی پر اونٹوں کی گردنوں میں ’’تھینک یو امریکا‘‘ کی تختیاں لٹکادی گئیں۔ صدر ایوب کے زمانے میں دریا بھارت کو دے دیے گئے، جنرل یحییٰ نے سقوط ڈھاکا کا کارنامہ سرانجام دیا، ضیا الحق نے سیاچن بھارت کے حوالے کرکے گھاس کی پتی بھی نہ اُگنے کا بہانہ بنایا۔ دوسری طرف ایم کیو ایم کی بنیاد ڈال کر پاکستانی معیشت کا بھٹا بیٹھایا اور ہانگ کانگ بنکاک کو اُبھرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ مشرف نے پورا پاکستان امریکی کالونی بنادیا۔ افغانستان جیسے برادر اسلامی ملک کی پیٹھ میں خنجر گھونپا اور بھارت کی وہاں مداخلت کی راہ ہموار کی، یہ تو بات منوانے کی محض چند مثالیں ہیں ورنہ ہماری شناخت، تہذیب و تمدن، ہماری ثقافت سب ہی اس امریکی امداد کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اور یہ بات کون نہیں جانتا کہ جو قومیں اپنی شناخت کھودیں وہ تاریخ کے اوراق میں گم ہوجایا کرتی ہیں۔
متنازع نائن الیون کے بعد جب امریکا بغیر کسی ثبوت کے افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا تو اہل بصیرت کہہ رہے تھے کہ افغانستان تو بہانہ ہے ورنہ پاکستان نشانہ ہے کیوں کہ افغانستان جزبوں اور بہادروں کی وہ سرزمین ہے جہاں اپنے وقت کی ایک سپر پاور قدم ہی نہ رکھ سکی اور دوسری جب ٹکرائی تو پاش پاش ہو کر اپنا وجود ہی 15 ریاستوں میں تقسیم کر بیٹھی، تو بھلا امریکا جو پے در پے کئی ملکوں میں اپنا ذوقِ خدائی آزما کر منہ کی کھا چکا ہے اور عراق، کویت، لیبیا، شام، ویت نام اور کیوبا جیسے ممالک میں سرخرو نہیں ہو پایا وہ بھلا افغانستان جیسا ملک کیسے سر کرے گا اور وقت نے یہ ثابت بھی کردیا کہ پاکستان ہی اصل نشانہ ہے۔ مسلسل دباؤ بڑھایا جارہا ہے اور یکے بعد دیگرے مطالبات تسبیح کے دانوں کی طرح چلے آرہے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ ان شخصیات کو جن کے کردار آئینے کی مانند شفاف ہوتا ہے بھارت کی زبان بولتے ہوئے دہشت گردی کا الزام لگا کر نظر بند کردیتا ہے لیکن الزام ثابت نہیں کرسکتا تو غصے میں آکر کولیشن سپورٹ فنڈ کے بقایا جات روک لیتا ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ سے لاکھ شکایات صحیح لیکن قوم نے اس بات کو محسوس کیا کہ اس مرتبہ امریکا کے سخت رویے کے جواب میں پارلیمنٹرین کا رویہ بھی خاصا دبنگ رہا۔ معصوم عوام نے سمجھا کہ شاید ہمارے حکمرانوں کو ہوش آہی گیا، اب ریمنڈ ڈیوس (جاسوس قاتل) کی واپسی کے بدلے میں عافیہ کی ملک واپسی کی بات کی جائے گی۔ اب 123.1 ارب ڈالر کے نقصان پر بات چیت کی جائے گی۔ اب کوئی ڈرون پاکستان پر حملہ آور نہیں ہوگا، لیکن چند ہی دنوں بعد لوگوں نے پڑھا بھی اور سنا بھی کہ پاکستان امریکا کو زمینی و فضائی راستے مفت فراہم کررہا ہے۔ نیز پاکستان نے امریکا کے ساتھ کوئی تعاون معطل نہیں کیا۔ لیجیے اوائل جنوری میں شروع ہونے والی زبانی توپ و تفنگ 19 جنوری کو خاموش ہوگئی۔
امریکا کے ساتھ تعاون پر جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ امریکا ہمارا دوست ہے، دوستوں کے ساتھ خیر خواہی اور وفاداری کا سلوک اس تعلق کو مستحکم کرتا ہے لیکن خیر خواہی تو یہ ہے کہ آپ کا دوست آپ کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو وہ اپنے لیے کرتا ہے۔ امریکا کبھی کسی کا دوست نہیں رہا اس نے اپنے جارحانہ رویے کے جواب میں مخالف قوتوں چین، ایران، ترکی، روس کو اکٹھے ہوتے دیکھا تو پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے سخت موقف اختیار کیا، ورنہ عدم تعاون کی پالیسی تو کبھی پاکستان نے اپنائی ہی نہیں۔ اس وقت واشنگٹن افغانستان میں 10 کھرب ڈالر خرچ کرکے بھی 70 فی صد حصے پر کنٹرول سے محروم ہے اور وہ اپنی اس ناکامی کا ملبہ اپنی تاریخ کے مطابق پاکستان پر ڈال کر وہاں سے نکلنا اور پاکستان کو اس بہانے گھیرنا چاہتا ہے۔ لیکن پاکستان کو پرائی جنگ میں گھسیٹنے کی یہ کوشش امریکا کو بھاری پڑے گی کیوں کہ امریکی استعماری مقاصد میں رکاوٹ کی توحیدی تصور سے آشنا طالبان کی صورت میں افغانستان میں موجود ہیں اسی توحیدی تصور کے آشنا پاکستانی افواج اور یہاں کے نظریاتی کارکن بھی ہیں۔ پھر امریکا یہ بھی سمجھ لے کہ پاکستان نہ تو سونے کی مرصع تلوار پیش کرنے والا ملک ہے اور نہ ریڈانڈینز کی طرح حدیدی تلواروں سے ناآشنا کوئی قوم پاکستان کے خیر خواہ امریکی امداد کو کسی خاطر میں نہیں لاتے وہ کہتے چلے آرہے ہیں امریکا اپنی نام نہاد امداد اپنے پاس رکھے ہم بغیر امداد کے بھلے ہیں وہ جانتے ہیں کہ خود انحصاری کی راہ پر جانے کا یہ بہترین موقع ہے۔ ان کی نظر میں امریکی پابندیوں کے سبب پاکستان خود مختار، مضبوط اور مستحکم ملک بننے جارہا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی غلط رائے بھی درست رائے پر غلبہ پاتی رہی ہے۔ امریکی دوستی اور اس کی امداد کو اثاثہ گرداننے والے جان لیں کہ جب اثاثے بوجھ میں ڈھل جائیں تو انہیں لیے لیے نہیں پھرا جاتا بلکہ انہیں زمین پر دے مارنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ورنہ اپنے ہی کندھے بوجھل ہوجاتے ہیں۔ اس وقت امریکا اور بھارت کی قطعی دو متضاد سمتیں ہیں اگر امریکا کا مقصد بھارت کو ایشیا کا اسرائیل بنادینا ہے تو پاکستان بھی ایک نیا امریکا ڈھال سکتا ہے۔ اس وقت ترکی ہمارے لیے بہترین دوست ہوسکتا ہے، ہم ایران سے سبق سیکھ سکتے ہیں جو امریکی پابندیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کررہا ہے۔ امریکا کو مسلسل کسی دشمن کی تلاش رہتی رہی ہے اس وقت امت مسلمہ کی دشمنی کو اس نے اپنا شعار بنا لیا ہے۔ لہٰذا اگر ایک طرف امریکی سازشوں کو ناکام کرنے کے لیے اتحاد امت از بس ضروری ہے تو دوسری طرف تعلقات کا ازسر نو جائزہ لے کر برابری کی بنیاد پر معاملات کو طے کیا جائے۔ پاکستان ویزوں کے بغیر آنے والے تمام غیر ملکیوں کو ملک بدر کرے۔ وی آئی پی کلچر اور اشرافیہ کے اللے تللے قرضوں کی بڑی وجہ بنتے ہیں جسے مناسب حدود میں رکھا اجائے، ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لا کر غیر ملکی قرضے اُتارے جائیں، دوہری شہریت رکھنے والے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیے جائیں، اتحاد امت کے ذریعے امریکا اور اس قماش کے ممالک کی ڈومور پر سر تسلیم خم کرنے کے بجائے نومور کا جواب دیا جائے ملک سے فرار مجرموں کو انٹرپول کے ذریعے واپس لا کر قرار واقعی سزا دی جائے، عوام اپنے معاملات افہام و تفہیم سے نمٹائیں اور عدلیہ کو یکسوئی کے ساتھ قومی معاملات کو نمٹانے کا موقع فراہم کردیا جائے تا کہ مقدمات کی طوالت مجرموں کو کھیل کھیلنے کا موقع فراہم نہ کرے۔ عدلیہ اپنی خواہش کے مطابق جلد انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے قانونی سقم کو دور کرکے قانونی اصلاحات پر کام مکمل کرے۔
سب سے اہم بات جو عوام الناس سے عرض کرنا ہے وہ یہ کہ انتخابات ہونے کو ہیں آئندہ انتخابات میں امریکا کے آگے سرنگوں ہونے والے حکمرانوں سے مسلسل طور پر ہر سطح پر نجات حاصل کی جائے۔ آئین کی دفعہ 62-63 کو ملحوظ رکھا جائے تو پھر کل کو ہمیں للکار کر تورا بورا بنادینے کی دھمکی دے گا نہ کوئی ہاتھی بدمست ہو کر اقوام عالم پر ٹوٹ پڑے گا اور نہ کوئی گدھا اپنا گدھا پن دکھاسکے گا۔
اس کے باوجود کہ اندھیرا ہے محیط
ہم ہیں وہ لوگ جو اُمید سحر رکھتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email
حصہ