قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

93

اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں ایسے کافر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔ اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور در حقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخر پر سچ یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوا اْسے بہت ہی بری رفاقت میسر آئی ۔ آخر اِن لوگوں پر کیا آفت آ جاتی اگر یہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا ۔ اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اْسے دو چند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔ (سورۃ النساء:37تا40)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اُٹھا لے اور تمہاری جگہ ایسے لوگ پیدا کر دے جو گناہ کریں اور اللہ سے بخشش ومغفرت چاہیں اور پھر اللہ تعالیٰ انہیں بخشے۔ (مسلم) تشریح: اس ارشاد گرامی کا مقصد مغفرت اور رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کو بیان کرنا اور یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اسم پاک غفور کی شان کو ظاہر کرنے کے لیے اتنا بخشش کرنے والا ہے اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ خدانخواستہ اس حدیث کے ذریعے گناہ کی ترغیب مقصود نہیں ہے کیوں کہ گناہ سے بچنے کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور اپنے پیغمبرؐ کو اس دنیا میں اس لیے بھیجا ہے کہ آپؐ لوگوں کو گناہ ومعصیت کی زندگی سے نکال کر طاعت وعبادت کی راہ پر لگائیں۔ (مشکوٰۃ)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ