مصر دہشتگردی کے نام پر ملک گیر آپریشن شروع 

50
قاہرہ: مصری حکومت کے حکم کے بعد شمالی اور وسطی سینا سمیت ملک کے شورش زدہ علاقوں میں فوج نے آپریشن شروع کردیا‘ چھوٹی تصویر (نیچے) اسکول کو ہنگامی بنیادوں پر خالی کرنے کی ہے
قاہرہ: مصری حکومت کے حکم کے بعد شمالی اور وسطی سینا سمیت ملک کے شورش زدہ علاقوں میں فوج نے آپریشن شروع کردیا‘ چھوٹی تصویر (نیچے) اسکول کو ہنگامی بنیادوں پر خالی کرنے کی ہے

قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) مصرکی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف ملک گیر بالخصوص شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سینا کے شمال مشرق میں فیصلہ کن آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ مصری فوج کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کی اعلیٰ کمان کی طرف سے جزیرہ سینا میں دہشت گردوں کے خلاف وسیع تر آپریشن’ سینا 2018ء کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ جمعہ کے روز سے مصری فوج نے شمالی اور وسطی جزیرہ نما سینا میں دہشت گرد عناصر اور جرائم پیشہ گروپوں کے خلاف حتمی اور فیصلہ کن کارروائی شروع کی ہے ۔ آپریشن میں شمالی اور وسطی جزیرہ نما سینا مصر ڈیلٹا، صحرائی پٹی اور مغربی وادی نیل میں بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تازہ آپریشن صدر جمہوریہ کی جانب سے مسلح افواج کو دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے حوالے سے سونپی گئی ذمے داری پر عمل کا حصہ ہے ۔ صدر کی طرف سے ملک کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے اور تمام ریاستی اداروں کی معاونت سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے احکامات جاری کیے تھے ۔ ترجمان نے مصری عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن میں فوج کے ساتھ تعاون کیا جائے ۔ دہشت گردی کے خاتمے ، ملک میں قانون کی عمل داری، امن استحکام اور انتہا پسندی کے خاتمے میں فوج کے ساتھ
تعاون کیا جائے ۔ دہشت گرد عناصر کی موجودگی کے بارے میں سیکورٹی اداروں کو فوری طورپر آگاہ کریں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی جزیرہ نما سینا میں دہشت گردوں کے خلاف جاری تازہ آپریشن کی وزیر دفاع براہ راست نگرانی کریں گے ۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں تمام سیکورٹی ادارے بالخصوص پولیس اور فوج مل کر کارروائیوں میں حصہ لے گی۔ قاہرہ میں العربیہ کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مصری وزیر دفاع صدقی صبحی آپریشن کنٹرول روم میں موجود رہیں گے اور جزیرہ سیناء میں ہونے والی کارروائیوں کو براہ راست مانیٹر کریں گے ۔ مصر کی ملٹری انٹیلی جنس اور دیگر خفیہ اداروں نے شمالی سینا، وسطی سینا، العریش اور دہشت گردوں کے زیراثر دوسرے علاقوں میں دہشت گردوں کے مشتبہ ٹھکانوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے ۔ ان معلومات کی روشنی میں آپریشن آگے بڑھایا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے دوران لیبیا سے متصل سرحد کو سیل کیا جا رہا ہے تاکہ آپریشن کے دوران دہشت گرد عناصر لیبیا فرار نہ ہوسکیں۔ لیبیا کی سرحد سے متصل علاقوں میں بھی دہشت گردوں کے مشتبہ ٹھکانوں کو ختم کیا جا رہا ہے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار مصری فوج نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے غیر معمولی تیاری کی ہے۔ گزشتہ روز سے جنوبی العریش اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بھاری توپ خانے سے حملے جاری ہیں۔ مصرمیں دہشت گرد عناصر کے خلاف تازہ آپریشن صدر عبدالفتاح السیسی کی طرف سے دی گئی 3 ماہ کی ڈیڈ لائن کے تناظر میں شروع کیا گیا ہے ۔ ادھر مصر کے علاقے العریش کے طبی ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کی طرف سے علاقے کے تمام اسپتالوں کو آپریشن کے دوران ہنگامی حالت نافذ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ حکومت نے العریش اور اطراف میں موجود اسپتالوں کے طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں اور چھٹیوں پر موجود اسٹاف کو حاضر کردیا گیا ہے ۔ جزیرہ سینا کے تمام اسپتالوں میں ادویات کی وافر مقدار پہنچائی گئی اور حسب ضرورت خون بھی مہیا کیا گیا ہے ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف جزیرہ نما سینا میں آپریشن میں بری فوج، بحریہ اور فضائیہ بھی حصہ لے رہے ہیں۔
مصر ؍ آپریشن

Print Friendly, PDF & Email
حصہ