اٹلی: 10 ہزار تارکین وطن کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور

84
روم: اٹلی میں بے گھر افریقی تارکین وطن کھلے میدانوں، فٹ پاتھوں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں
روم: اٹلی میں بے گھر افریقی تارکین وطن کھلے میدانوں، فٹ پاتھوں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں

روم (انٹرنیشنل ڈیسک) اٹلی میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کم از کم 10 ہزار بے گھر تارکین وطن ایسے ہیں جو کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ یورپ میں مہاجرین کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں اٹلی سب سے نمایاں ہے۔ ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے معاہدے کے بعد سے اب تک بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے اٹلی کا رخ کرنے والے پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔ دوسری جانب یورپ میں مہاجرین کی منصفانہ تقسیم کے یورپی یونین کے منصوبے پر عمل نہ ہونے کے باعث اٹلی
آنے والے تمام غیر ملکی اسی ملک میں اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا رہے ہیں۔ مہاجرین اور ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں کی بہت زیادہ تعداد سے نمٹنے میں اطالوی حکام کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ایسی صورت حال میں رواں برس اٹلی کے عام انتخابات میں مہاجرین اور مہاجرت کے موضوعات اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اٹلی میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم عالمی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس یورپی ملک میں 10 ہزار سے زائد سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کو رہائش کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ ایسے تارکین وطن پرانی متروک عمارتوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور سیکڑوں تارکین وطن ایسے بھی ہیں جو ملک بھر میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اٹلی ؍ مہاجرین

Print Friendly, PDF & Email
حصہ