کرپٹ مافیا گرفتاری سے بچنے کیلیے ملک کے مستقبل سے کھیل رہاہے ،سراج الحق

89
کرپٹ مافیا گرفتاری سے بچنے کیلیے ملک کے مستقبل سے کھیل رہاہے ،سراج الحق
کرپٹ مافیا گرفتاری سے بچنے کیلیے ملک کے مستقبل سے کھیل رہاہے ،سراج الحق

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ عدلیہ کی توہین اور احتساب کے اداروں کے کام میں رکاوٹیں ڈالناجمہوری رویہ نہیں ،عدلیہ کی بالادستی تسلیم نہ کی گئی اور اداروں کو آزادی سے کام کرنے سے روکا جاتا رہا تو ملک میں انتشار اور انارکی پھیلے گی ۔کرپٹ مافیا قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے ملک کے مستقبل سے کھیل رہا ہے ۔ احتساب کے راستے میں روڑے اٹکانے والوں کو اس بارلوٹی دولت ہضم کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔قوم عدلیہ اور احتساب کے اداروں کے ساتھ ہے ،لٹیروں کو پکڑنے اور ان سے قومی دولت واپس لینے والوں کو عوام کندھوں پر اٹھائیں گے ۔ایمنسٹی اسکیمیں احتساب سے بچنے اور چوری کی دولت کو تحفظ دینے کے لیے متعارف کرائی جارہی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ گونگا بہرہ اور اندھا نظام ،ظلم کا نظام ہے جسے مسلط رکھنے کے لیے حکمران ٹولہ اداروں پر کیچڑ اچھال رہا ہے ۔ عدالتوں اور احتساب کے اداروں کی طرف سے بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالنے سے عوام کے اندر خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے ۔خود کو قانون اور احتساب سے ماورا اور آسمانی مخلوق سمجھنے والے اداروں کو متنازع بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام بجا طور پر کرپٹ اور بددیانت حکمرانوں کو اپنے تمام مسائل کا ذمے دار سمجھتے ہیں جنہوں نے عوام کو غربت اور مہنگائی میں پیس کررکھ دیا ہے اور قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک منتقل کی اور اپنے لیے لندن ،دبئی اور نیویارک میں عالی شان محلات بنوائے ۔انہوں نے کہا کہ حکمران خود کو مغل شہزادے سمجھتے ہیں لیکن یہ ان سے بھی 4 ہاتھ آگے ہیں ،مغلوں نے اپنے لیے محلات اپنے ملک میں ہی تعمیر کرائے تھے لیکن یہ بے حس اشرافیہ دنیا کے تمام ممالک میں اپنے لیے عشرت کدے حاصل کرنا چاہتی ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عوام ملک پر مسلط یزیدی نظام کے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ ظلم کے خلاف اٹھنا اور ظالم کا ہاتھ روکنا ہمارے ایمان کا تقاضا ہے اور جو ظالم کا ساتھ اور اسے ووٹ اور سپورٹ دیتا ہے اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنے اور اپنے خاندان کے72نفوس قدسیہ جن میں معصوم بچے اور بزرگ بھی شامل تھے کے خون سے کربلا کی ریت کو تر کردیا تھا مگر یزید کی بیعت نہیں کی۔ حق و باطل کی کشمکش قیامت تک جاری رہے گی اور کامیاب وہی ہوگا جو مشکلات اور مصیبتوں کے باوجود حق کا پرچم اٹھائے رکھے گا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے مالا مال کیا مگر کرپٹ حکمرانوں نے ان وسائل سے فائدہ نہیں اٹھایا، وسائل کو عوام پر خرچ کرنے کے بجائے ان کو لوٹ کر اپنی تجوریاں بھریں اور ملک کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں کی ہتھکڑیوں میں جکڑ دیا ۔انہوں نے کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوتی تو عوام غربت ، مہنگائی، بے روز گاری اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا نہ ہوتے ۔ لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں مل رہا ، خوراک اور ادویات میں ملاوٹ سے لوگ موت کے منہ میں جارہے ہیں،غریب کو تعلیم ،علاج اور انصاف کی سہولتیں میسر نہیں۔ ان حالات میں ضروری ہوگیا ہے کہ بیرون ملک پڑی ہوئی 500 ارب ڈالرز کی خطیررقم ملک میں واپس لائی جائے اور اس دولت کو عوام پر خرچ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوٹی ہوئی قومی دولت ملکی خزانے میں آجائے تو نہ صرف بیرونی قرضے واپس کیے جاسکتے ہیں بلکہ عوام کو تعلیم علاج اور چھت جیسی بنیادی سہولتیں مفت فراہم کی جاسکتی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ پیر اعجاز ہاشمی سے ملاقات کررہے ہیں، لیاقت بلوچ بھی موجود ہیں

Print Friendly, PDF & Email
حصہ