پاکستان اردن:تجارت تعلیم اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر متفق

78
اسلام آباد: اردن کے شاہ عبداللہ دوئم ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین سے ملاقات کررہے ہیں
اسلام آباد: اردن کے شاہ عبداللہ دوئم ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین سے ملاقات کررہے ہیں

اسلام آباد (اے پی پی)صدر مملکت ممنون حسین اور اردن کے شاہ عبداللہ نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، تعلیم اور ثقافتی شعبوں میں تعاون میں اضافے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اردن مختلف شعبوں میں اپنے خصوصی تجربے سے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ اتفاق رائے ایوان صدر میں جمعہ کو ہونے والی ملاقات میں پایا گیا۔اس موقع پر صدر مملکت کی معاونت وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان، سیکرٹری خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے کی جبکہ شاہ عبداللہ کی معاونت اردن کے وزیر خارجہ ایمن سفادی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمود فریحات اور دیگر اعلیٰ حکام نے کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ امریکا کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے معاملے میں اردن نے جرأت مندانہ مؤقف اختیار کیا، پاکستان اس کی قدر کرتا ہے۔اس موقع پر اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے مسلم امہ کے مسائل کے حل کے لیے جو مؤقف اختیار کیا گیا ہے وہ ہمارے لیے باعث تقویت ہے۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ مسائل کا حل عالمی امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور اردن انتہائی گہرے سیاسی، ثقافتی اور تاریخی رشتوں میں منسلک ہیں۔انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت دونوں ملکوں کے انتہائی گہرے اور برادرانہ تعلقات کی درست عکاسی نہیں کرتی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان اور اردن کے درمیان زیادہ سے زیادہ تجارتی وفود کا تبادلہ ہوناچاہیے۔شاہ عبداللہ نے صدر مملکت کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی معیشت کے استحکام کے لیے باہمی تجارت میں اضافہ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں مارچ میں مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں غور ہوگا۔علاوہ ازیں صدر مملکت ممنون حسین سے جمعہ کو ایوان صدر میںیورپی برادری کی عسکری کمیٹی کے چیئرمین جنرل میخائل کو ستاراکوس نے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزارت دفاع اور ایوان صدر کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان میں عسکریت پسندی اور عسکریت پسندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں،پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے پورے خلوص کے ساتھ کام کر رہا ہے، پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان کی سرزمین کے استعمال کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین سے اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور ان کے اس دورے سے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دفاع میں مزید تعاون کی راہیں کھلیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری خطے میں اقتصادی ترقی،استحکام اور خوشحالی کا منصوبہ ہے، اس کی مکمل فعالی کے نتیجے میں خطے سے بدامنی کا خاتمہ ہو گا۔ صدر مملکت نے افغانستان میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے تعمیری کردار کی تعریف کی اور کہا کہ یورپی یونین نے پاکستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے میں قابل قدر تعاون کیا ہے، توقع ہے کہ مستقبل میں بھی تعاون کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر معمولی جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کنٹرول لائن اورورکنگ باؤنڈری پر بھارتی خلاف ورزی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ عالمی برادری اس کے سدباب کے لیے کردار ادا کرے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ