شاہد خاقان کی نا اہلی سے متعلق درخواست سماعت کیلیے مَنظور ،چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ تشکیل

120

اسلام آباد (آن لائن ) نواز شریف کے بعد وز یر اعظم شاہد خاقان عباسی کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بج گئی ۔عدالت عظمیٰ نے شاہد خاقان عباسی کی نااہلی اور ایل این جی معاہدے کو کالعدم قرار دینے سے متعلق شیخ رشید کی درخواست سماعت کے لیے منظورکرلی ۔ چیف جسٹس نے اپنی سربراہی میں 3رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے جو 12فروری کو کیس کی سماعت کرے گا ۔ شیخ رشید کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں ایل این جی معاہدے کو کالعدم اور شاہد خاقانان عباسی کو بدیانت قرار دے کر نااہل قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ انہوں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ا یل این جی کے معاہدے میں قوانین کو مد نظر نہیں رکھا گیا، ن لیگ کی حکومت نے ایل این جی معاہدے میں عدالت عظمیٰکی ہدایات کو مد نظر نہیں رکھا،معاہدے کے تحت نجی کمپنی کو یومیہ 27ملین ادا کرنے ہوں گے،سوئی سدرن کے ایم ڈی کو رینٹل معاہدہ کرنے کے لیے اس وقت کے وزیر پیٹرولیم پر دباؤ ڈالا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایل این جی کی خریداری کے لیے شاہد خاقان عباسی نے ایم ڈی پی ایس او پر بھی دباؤ ڈالا اور انکار پر نئے ایم ڈی شاہد اسلام کا تقرر کردیا۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ غیر قانونی معاہدے کے ذریعے پاکستان کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے ، قطری کمپنی پاکستان کو ایل این جی 2015 ء سے سپلائی کر رہی ہے،پی ایس او ویب سائٹ پر جاری معاہدے پر عمل درآمد 8 فروری 2016ء سے ہوا، سوال اٹھتا ہے جون 2015ء سے جنوری 2016ء تک قیمتیں کیا تھیں،معاہدے کے بغیر ایل این جی کی برآمد خلاف قانون ہے، خلاف قانون سپلائی پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ایمانداری پر شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عوامی منصوبوں کے ٹھیکے جاری کرتے وقت شفافیت ضروری ہے۔ عدالت اس معاملے کو بنیادی حقوق کا معاملہ قرار دیتے ہوئے سماعت کے لیے مقرر کرے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی وزیراعظم شاہد خاقان کو بددیانت قرار دے کر آرٹیکل 62,63کے تحت نا اہل کیا جائے اور معاہدے کے ذریعے لوٹی ہوئی رقم اور بنائے گئے اثاثے ضبط کیے جائیں ۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت اہل اور ایماندار شخص کو چیئرمین اوگرا تعینات کرے اور چیئرمین نیب کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ