فیصل آباد دھرنا:آرمی چیف کا نام کیوں آیا؟سیکرٹری دفاع اسلام آباد ہائیکورٹ طلب

187

اسلام آباد (خبرایجنسیاں)اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنا مظاہرین سے معاہدے میں آرمی چیف کا نام استعمال ہونے پرسیکرٹری دفاع کو طلب کرلیا ہے۔عدالت عالیہ نے فیض آباد دھرنا کیس میں راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر حکام پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔آئندہ سماعت پر حکومت سے ختم نبوت قانون میں تبدیلی سے متعلق راجا ظفر الحق کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ، وزارت دفاع سے دھرنا مظاہرین سے ہونے والے معاہدے میں آرمی چیف کا نام استعمال کرنے اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) سے وائرل آڈیو کا پتا چلانے والے آلات سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔جمعہ کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کی، اس موقع پر چیف کمشنر ، آئی جی اسلام آباد اور ڈی جی آئی بی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔عدالت نے سیکرٹری دفاع، داخلہ اور سیکرٹری قانون کو بھی رپورٹ سمیت طلب کر رکھا تھا۔جسٹس شوکت نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے کو کارپیٹ کے نیچے دبانے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سیکرٹری دفاع تحریری رپورٹ میں بتائیں کہ دھرنا مظاہرین سے معاہدے میں آرمی چیف کا نام کیوں استعمال ہوا؟عدالت میں رپورٹس جمع نہ کرانے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی ہو گی۔ دورانِ سماعت ڈی جی آئی بی دھرنے سے متعلق وائرل ہونے والی آڈیو ریکارڈنگ کے بارے میں رپورٹ پیش نہ کر سکے جس پر عدالت نے ان کی سخت سرزنش بھی کی ۔آئی بی سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے پاس ایسے کوئی آلات نہیں جس سے یہ پتا چلایا جا سکے اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ سہولت کس ادارے کے پاس ہے۔اس پر جسٹس شوکت نے کہا آپ کیسے انٹیلی جنس سربراہ ہیں؟ آپ کو وہ بات بھی معلوم نہیں جو عام آدمی بھی جانتا ہے۔،اگر آپ کو یہ بات معلوم نہیں تو آپ کس بات کے انٹیلی جنس سربراہ ہیں؟ کیا آپ اہم شخصیات کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے کا کام کرتے ہیں؟انہوں نے ڈی جی آئی بی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی دہشت گرد کی آواز کا موازنہ کرانے کی ضرورت پیش آئے تو کیا کرتے ہیں؟ اس پر ڈی جی آئی بی نے استدعا کی کہ آپ حکم دے دیں کہ آئی بی کو آواز کا موازنہ کرنے کے جدید آلات لے کر دیے جائیں تاہم جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیے کہ میں یہ حکم کیوں نہ دوں کہ قومی خزانے پر بوجھ محکمے کو بند کر دیں؟ انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی (آئی ایس آئی) تو پہلے ہی چاہتی ہے کہ آئی بی کو ان کے ساتھ ضم کر دیا جائے۔انہوں نے دھرنا دینے والے تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم رضوی کا نام لیے بغیر ریمارکسدیے کہ موصوف نے فیض آباد میں بیٹھ کر عدلیہ کی تضحیک اور چیف جسٹس آف پاکستان کا نام لے کر بکواس کی اور آپ بس راضی نامہ کر کے بیٹھ گئے کہ جنرل صاحب نے دستخط بھی کر دیے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد پولیس کا ازالہ نہیں کیا جاتا تو مقدمہ نہیں ختم ہونے دوں گا۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ زخمی میں ہوا ہوں توریاست کو کیا حق ہے میری جگہ راضی نامہ کرے ، اسلام آباد پولیس کو4ماہ کی اضافی تنخواہ دینی چاہیے۔ کیس کی سماعت 12 فروری کو دوبارہ ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ