فاروق ستار رابطہ کمیٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلاف شدیدتر، اختیار سربراہ کے پاس ہے ،الیکشن کمیشن

94

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ اور رابطہ کمیتی کے درمیان سینیٹ کی ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات شدید تر ہوگئے ہیں، بہادر آباد میں موجود رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار سے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کے اختیارات واپس لے کرڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو دیدیے ہیں۔ جبکہ الیکشن کمیشن کے حکام نے کہا ہے کہ پارٹی سربراہ ہی ٹکٹ جاری کرنے کا مجاز ہے۔ تفصیلات کے مطابق رابطہ کمیٹی نے پارٹی آئین کے آرٹیکل 19۔اے کے تحت ڈاکٹر فاروق ستار سے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کے اختیارات واپس لے کر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو دیدیے ہیں۔ بہادر آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنمافیصل سبزواری نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں پارٹی کارکنان اور ہزاروں شہیدوں کے اہلخانہ اذیت اور کرب میں مبتلا ہیں۔پارٹی کے کارکنان کامران ٹیسوری کی اتنی اہمیت سمجھنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فاروق ستار کی مرضی پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر پارٹی کنوینر کی مرضی پارٹی اصولوں ، میرٹ اور منطق کے منافی ہو گی تو ہم اسے ماننے سے قاصر ہیں۔ ہم نے باربار فاروق ستار سے ملاقات کی کوشش کی، فاروق ستارکو مشورے کون دے رہا ہے،ابھی تک سمجھ نہیں آئی، فاروق ستار نے کل آنے کا کہنا لیکن نہیں آئے اور آج بھی نہیں آئے، ہم نے ایک چھوٹا سا قدم محض سینیٹ انتخابات کے لیے اٹھایا ہے، فاروق ستار پارٹی کنوینر ہیں بہادر آباد آئیں اور رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں۔قبل ازیں پی آئی بی میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ ایم کیو ایم کے ارکان پارلیمنٹ اور پھر رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوگا اور مشاورت کے بعد امیدواروں کو سینیٹ کے ٹکٹ دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے تدبر اور تجربے پر بھروسا کرنا چاہیے، پارٹی کا منتخب اور آئینی سربراہ ہوں،امیدواروں کو ٹکٹ میں ہی دوں گا۔ اگر سربراہ کی ذمے داریاں بڑی ہیں تو اختیارات بھی بڑے ہونے چاہئیں، جس کے اختیارات ہوتے ہیں اس کے فیصلے ہوتے ہیں اور میں ایم کیو ایم پاکستان کا منتخب سربراہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی جب اختلاف ہوا تو میری طرف سے رضاکارانہ طور پر پیچھے ہٹنے کی آفر تھی۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ فروغ نسیم نے کنوینر کو فارغ کرنے کی بات پتا نہیں کس کیفیت میں کی اور وہ اپنی بات کا خود جواب دیں گے۔علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کے حکام نے کہا ہے کہ پارٹی سربراہ ہی ٹکٹ جاری کرنے کا مجاز ہے،لیکن پارٹی سربراہ کا نامزد کردہ شخص بھی امیدوار کو ٹکٹ دے سکتا ہے۔رابطہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے نام اپنے خط میں لکھا تھاکہ ہر طرح کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا اختیار صرف رابطہ کمیٹی کو ہے۔خط میں یہ بھی کہا گیا تھاکہ پارٹی سربراہ کو امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا اختیار نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ