شاہ زیب قتل کیس میں ملزمان کی بریت کیخلاف ازخود نوٹس کاتفصیلی فیصلہ جاری 

103

اسلام آباد/ لاہور (خبر ایجنسیاں+ نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ نے کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان شا ہ زیب قتل کیس میں ملزمان کی بریت کے خلاف از خودنوٹس کیس کاتفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، 14صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے تحریر کیا ہے ۔ فیصلے کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے وقت عدالت عظمیٰ کے احکامات کو نظر انداز کیا ،اگرہائی کورٹ نے جان بوجھ کرعدالتی احکامات کو نظر انداز کیا تو یہ شرمناک ہے۔فیصلہ میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے احکامات کی تمام عدالتیں پابند ہیں اس لئے مصنوعی وجوہات تخلیق کرکے عدالت عظمیٰ کا حکم نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔علاوہ ازیں نقیب اللہ محسود قتل کو ہائی پروفائل مقدمے کا درجہ دے دیا گیا ہے، وٹنس پروٹیکشن ایکٹ کے تحت دونوں گواہوں کی سیکورٹی کے لیے 5 پولیس اہلکار تو تعینات کردیے گئے لیکن اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کے باوجود باقی پروٹوکول کے لیے فنڈزنہیں۔مزید برآں لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار ثمینہ بی بی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی گڑیا نامی بیٹی لاپتا ہے مگر پولیس اس کو بازیاب کرنے کے بجائے غلط بیانی سے کام لے رہی ہے،عدالتی حکم پر ڈی پی او قصور نے پیش ہو کر بتایا کہ درخواست گزار خاتون اور اس کی بیٹی کے خلاف بھیڑ بکریاں چوری کرنے کا الزام ہے،ڈی پی او نے دعویٰ کیا کہ خاتون کی بیٹی کا نام گڑیا نہیں بلکہ ساجدہ ہے۔ عدالت نے ڈی پی او کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے بچی کی بازیابی کی ہدایت کرتے ہوئے 5 یوم میں رپورٹ طلب کر لی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ