یوسی میں تمام کام یوسی فنڈ سے کروا رہے ہیںحکام بالاکا کوئی تعاون حاصل نہیں ‘چیئرمین پروفیسر عبدالقیوم

106

گزشتہ ادوار میں منتخب ہونے والے ناظمین نے علاقے کا کوئی انفرا اسٹرکچر تیار نہیں کیا نہ ہی پانی کے مسائل پر کام کیا، منتخب ناظمین نے اپنی میعاد پوری کیے بغیر استعفا دیدیا
اورنگی ٹاون میں واٹر بورڈ کا عملہ ناکام ہو چکا ہے پچھلے دورِ نظامت میں 25 سے 30ہزارروپے کے عوض پمپ میں آنے والی پائپ لائنوں سے غیر قانونی طورپر کنکشن دیے گئے
پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ٹینکروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے فی ٹینکر 4000روپے ہے اسی طرح گلی محلوں میں بچے پانی کے لیے کین سروں پر اٹھاکر دردر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں‘علاقہ مکین

ڈسٹرکٹ ویسٹ اورنگی ٹاؤن کی یوسی 21 ہریانہ کالونی میں عوامی مسائل کے بارے میں جاننے کے لیے روز نامہ جسارت کی جانب سے عوامی بیٹھک کا انعقاد کیا گیا۔ علاقہ کینوں سے گفتگو کے دوران مسائل پر بات کرتے ہوئے علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ یوسی 21ہریانہ کالونی میں مسائل موجود ہیں۔ جس میں سب سے اہم مسئلہ پینے کے صاف پانی کا ہے ۔ علاقہ میں پانی کی فراہمی پچھلے 8سالوں سے متاثر تھی لیکن 2015ء کے الیکشن میں جیتنے والے چیئر مین عبدالقیوم نے عوام کے ساتھ مل کر اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی اورکررہے ہیں۔ یوسی کے مکینوں کا کہنا تھا کہ مسقطی محلہ، ہریانہ کالونی، توحیدی محلہ ، پریشان چوک سمیت تمام یوسی میں پانی کی عدم فراہمی کا ذمے دار واٹر بورڈ ہے کیونکہ یوسی چیئر مین سے مل کر ہم نے کئی مرتبہ پانی کے لیے احتجاج کیا ہے۔ جس پر حکام بالا کی جانب سے مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کروائی جاتی ہے۔ ان یقین دہانیوں کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے۔ ہم نے چیئر مین آفس میں متعدد درخواستیں جمع کروائی ہیں یوسی چیئر مین نے کافی دفعہ واٹر بورڈ کے افسران سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ مگر آج تک مسائل جوں کے توں ہیں اسی طرح علاقے میں طبی امداد کے لیے کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ علاقے کی ڈسپنسری سابقہ چیئرمینوں اور ناظموں کی عدم توجہی کی وجہ سے کھنڈر میں بدل چکی ہے۔ ڈسپنسری میں رات کو منشیات کا استعمال کرنے والوں کا بسیرا ہوتاہے، علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ سرکاری ڈسپنسری نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ایمر جنسی صورت حال میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہمیں ٹینکر مافیا پر انحصار کرنا پڑتا ہے جبکہ پانی کے فی ٹینکر کی قیمت 4000روپے ہے۔ اسی طرح گلی محلوں میں بچے پانی کے لیے کین سروں پر اٹھاکر دردر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔
پانی کے مسائل کے حوالے سے یوسی چیئر مین عبدالقیوم سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اورنگی ٹاؤن کی یوسی 21 ہریانہ کالونی کی صورت حال ابتر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس یو سی سے گزشتہ ادوار میں منتخب ہونے والے ناظمین نے علاقے کا کوئی انفرا اسٹرکچر تیار نہیں کیا تھا۔ نہ ہی پانی کے مسائل پر کام کیا تھا بلکہ منتخب ناظمین نے اپنی مدت پوری کیے بغیر ہی استعفا دے دیا۔ اس کے بعد 8 سال تک بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے یوسی میں مسائل بتدریج بڑھتے گئے۔2015ء کے الیکشن کے بعد جب میں منتخب ہوا تو اس وقت یوسی میں پانی مسئلہ کافی گھمبیر تھا یہاں تک کہ فقیر کالونی کے پمپنگ اسٹیشن تک میں پانی کی فراہمی نہیں تھی لیکن اس مسئلے کے حل کے لیے میں نے متعدد مرتبہ حکام بالا کو آگاہ کیا اور یوسی میں پائپ لائنوں کی از سر نو تعمیرکرنے کے لیے کہا، چیئر مین کا کہنا تھا کہ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ نعمت اللہ خان صاحب کے دور میں یوسی ناظمین کے اکاؤنٹ میں ترقیاتی فنڈ ہوتے تھے۔ یوسی ناظمین کو فنڈ فراہم ہوئے تھے لیکن اب صورت حال مختلف ہے یوسی میں کوئی بھی کام کروانے کے لیے اسکیم پیش کی جاتی ہے جس کو منظوری میں بھی کئی ماہ لگ جاتے ہیں اس طرح ہم نے یوسی میں پمپنگ اسٹیشن پر آنے والی پائپ لائن جس میں سے غیر قانونی طورپر کنکشن لیے گئے تھے جس کی وجہ سے لائن جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس لائن کو تبدیل کرنے کے لیے واٹر بورڈ کو اسکیم جمع کروادی گئی ہے ۔ پچھلے دورِ نظامت میں 25 سے 30ہزارروپے کے عوض پمپ میں آنے والی پائپ لائنوں سے غیر قانونی طورپر کنکشن دیے گئے جس سے پمپ میں پانی آنا بند ہوگیا۔ ان کنکشنز کے باعث کئی علاقوں کا پانی بھی متاثر ہوچکا ہے ، جس میں پریشان چوک ، شاہ محلہ نمبر1، نمبر2، نمبر3 ملک موڑ ، بلوچ محلہ مسقطی محلہ اور شاہ جہاں چوک میں پانی کی فراہمی معطل رہتی ہے۔ پچھلے ادوار میں اگر ان مسائل پرتوجہ دی جاتی تو آج مسائل مشکل صورت اختیار نہ کرتے۔ دوسری طرف پچھلی نظامت کی جانب سے متعلقہ اداروں میں کوئی درخواست جمع ہی نہیں کروائی گئی تھی اگر اس دور میں درخواستیں جمع کروائی جاتیں تو آج ان درخواستوں کی اپروول ہوچکی ہوتی کراچی کی تمام یوسیز میں پچھلے ادوارکی اسکیمیں منظور ہورہی ہیں لیکن ہماری یوسی کی بد قسمتی یہ رہی ہے کہ یہاں کسی نے بھی مسائل پر توجہ نہیں دی۔ یوسی 21 کی پانی کی لائنوں پر بوسٹر لگاکر پانی کو دوسرے علاقوں میں تقسیم کیاجارہا ہے جو کہ واٹر بورڈ کی نا اہلی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ علاقے کی با اثر شخصیات کی مداخلت کے باعث پمپ پر پانی آنے سے پہلے ہی روک دیاجاتاہے اور پمپ پر جس لائن سے پانی آتا ہے اسی لائن میں سے غیر قانونی کنکشن دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے یوسی کا پانی متاثر ہورہا ہے پانی کی اس غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے علاقے میں کئی مرتبہ لڑائی جھگڑے ہوچکے ہیں۔ اس کے بعد علاقہ معززین نے رینجرز کی نگرانی میں کمیٹیاں بھی تشکیل دیں۔کمیٹی نے پانی کی بحالی کے لیے بھر پور کوششیں کیں اور کسی حد تک پانی کے مسائل کو حل بھی کیاگیا لیکن جب تک یوسی میں تمام لائنوں کی از سرنوتعمیر، پمپنگ اسٹیشن کی مرمت اور واٹر بورڈ کے عملے کی ڈیوٹی پر موجودگی عمل میں نہیں آئی گی اس وقت تک مسائل جوں کے توں رہیں گے۔
پانی کی بحالی کے لیے ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الحق سے ملاقاتیں کی اور اس بات پر زوردیاگیا کہ یوسی 21 کے پانی کے مسائل کو جلد از جلد حل کیاجائے، یوسی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہم اپنی طرف سے ہر ممکنہ کے اقدامات کررہے ہیں جس سے لوگوںکو فائدہ ہو، ہم نے پمپنگ اسٹیشن پر موجود پانی کی موٹروں کی مرمت خود کروائی کیوں کہ واٹر بورڈ کے عملے اور افسران نے موٹریں ٹھیک کروانے سے انکار کردیاتھا کہ ان کے پاس فنڈ نہیں ہے۔ لیکن یوسی چیئر مین اور علاقے کے لوگ آخر کب تک اپنی جیب سے پانی کی لائن ڈالتے رہیں گے۔ اس وقت یوسی میں لائنوں کی خراب صورت حال کے باوجود ہم یوسی میں کئی علاقوں کو پانی فراہم کررہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی واٹر بورڈ کا عملہ اگر دلچسپی لے تو پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے مسئلے کو بھی حل کیاجاسکتاہے۔ علاقے میں جتنے والو (Volve) ہیں تمام والو خراب ہیں جوپوری طرح آپریٹ نہیں ہوتے جس کی وجہ سے پانی کا دباؤ مزید کم ہوجاتاہے اس کے علاوہ پمپنگ اسٹیشن سے لے کر فرنٹیئر کالونی تک ایک بائی پاس پائپ لائن کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پرانی پائپ لائن غیر قانونی کنکشن کی وجہ سے مکمل طورپر تباہ ہو چکی ہے۔ اس بائی پاس پائپ لائن کے لیے کمشنرکراچی MDواٹر بورڈ اور ساتھ ہی ڈی ایم ڈی واٹر بورڈ سے بھی اس مسئلے میںملاقاتیں کی گئی ہیں، کمشنر کراچی کو ہم نے اس بات پر راضی کیا کہ DC کے پاس کمیونٹی ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت ہماری درخواستیں منظور کی جائیں تاکہ اس فنڈ سے ہماری یوسی میں ترقیاتی کام ہو سکیں۔ انہوں نے اس کی یقین دہانی کروائی کہ آپ کی اسکیم کو اس پروگرام میں شامل کریں گے۔ اس کے علاوہ یوسی کے علاقے توحید محلے میں 600فٹ پانی کی پائپ لائین پروسیس میں ہیں۔ مسقطی محلے کے لیے بھی تمام والو کی مرمت اور تبدیلی کے لیے فائل اپروول کرواچکے ہیں، عنقریب ان تمام اسکیموں پر کام شروع کردیاجائے گا۔ ان اسکیموں سے مسقطی اور توحیدی محلے کے پانی کامسئلہ حل ہوجائے گا۔ یوسی 21 کا ایک وارڈ ہریانہ کالونی پر مشتمل ہے اس وارڈ میں پانی کا کوئی شیڈول نہیں تھا ۔ الیکشن کے بعد شیڈول کے مطابق اس علاقے کے لیے 3گھنٹے پانی منظور کروایا۔ لیکن بد قسمتی سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے شیڈول خراب ہوجاتاہے ۔ دوسری جانب اس علاقے میں 3گھنٹے کاپانی منظورکروایا گیا لیکن یہاں کی پائپ لائینں بوسیدہ ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے یہاں پانی کا زیاں روکنا مشکل ہوگیا ہے ۔ ان مسائل کے حوالے سے کے الیکڑک کے اعلیٰ افسران سے ملاقاتیں کی گئی ہیں اور انہیں آگاہ کیاہے کہ وہ لوڈ شیڈنگ کی ٹائمنگ میں تبدیلی لائیں تاکہ اس کا اثر علاقے کے پانی پر نہ پڑے اسی طرح XCNکو کئی دفعہ یہ شکایت کی گئی ہے کہ ضیاء کالونی پمپنگ اسٹیشن سے لے کر بسم اللہ پمپنگ اسٹیشن تک لیکیج ہے اور والو بھی خراب ہیں ان کو ٹھیک کیاجائے تاکہ پانی کا زیاں روکاجاسکے۔ لیکن ارباب اختیار ہیں کہ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور نہ ہی کوئی دلچسپی دکھاتے ہیں۔ والو مین والو آپریٹ تک نہیں کرتے ۔ واٹر بورڈ کا عملہ غیرفعال ہوچکاہے۔ یہاں تک کہ XCN نے اپنا تبادلہ کروالیا ہے۔ XCN مقصود فنڈ نہ ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں۔ واٹر بورڈ کے اعلیٰ افسران کے پاس جب ہمارا وفد ملاقات کے لیے جاتا ہے تو جواب میں وہ کہتے ہیںکہ سندھ حکومت سے فنڈز منظور کرواکر لاؤ تب ہم آپ کاکام کریں گے۔ ہمارے پاس فنڈز نہیں ہے۔
کمشنر کراچی نے واٹر بورڈ کے MDکو فون کرکے کہا کہ یوسی 21 ہریانہ کالونی کے لیے جو اسکیم دی ہے وہ نہایت ضروری ہے ، اس پر کام کیاجائے اس کے بعد سے MDملاقات ہی نہیں کرتے۔ ہم دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں۔یوسی میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یوسی میں گیس پائپ لائین 2500 فٹ ڈالوئی گئی ہے جس سے علاقہ مکینوں کو کافی سہولت فراہم ہوئی ہے۔ جن علاقوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ تھی ان علاقوں سے گیس کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کروا دیا گیا ہے ۔اسی طرح بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے بھی یوسی میں کام جاری ہے جس میں اب تک یوسی کے علاقے شاہ محلے میں 4 پی ایم ٹیز لگائی جا چکی ہیںاورآئندہ یوسی میں جن علاقوں میں بجلی کی ناقص تاریں ہیں جو کے حادثات کا سبب بنتے ہیں ان کو تبدیل کیا جائے گا اور علاقے میں کیبل سسٹم کے لیے کے الیکٹرک سے معاملات طے پاگئے ہیں۔ جس سے علاقے میں بجلی چوری کا سسٹم ختم ہو جائے گا اور اوور لوڈ کے عذاب سے نجات مل جائے گئی۔
ہریانہ کالونی میں سیوریج کا نظام تقریباً مکمل کرلیا گیا ہے جو گلیاں رہ گئی ہین ان پر بھی جلد کام شروع کیا جا رہا ہے ۔ توحیدی محلے میں سیوریج کا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس طرح شاہ محلے میں بھی ترقیاتی کام جاری ہیں۔ یہ تمام کام ہم یوسیز فنڈز سے کر رہے ہیں کیونکہ ہمارا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے۔ ہم نعمت اللہ خان کے مشن کو لیے کر چل رہے ہیں۔ اختیارات کا رونا رونے سے بہتر ہے کہ ہم عوام کے ساتھ مل کر مسائل کا حل اپنی مدد آپ کے تحت حل کریں۔ اس کے علاوہ مسائل کے لیے حکام بالا سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ علاقے میں موجود پارک کی دوبار سے تعمیر کے لیے بھی ہم کوشاں ہیں۔ جو کام حکام بالا کی سستی کی وجہ سے نہیں ہو رہے ان کو ہم الخدمت کے پلیٹ فام پر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
علاقے میں دورے کے دوران علاقہ مکین آصف زادران کاکہنا تھا کہ 5سالوں سے پانی کا مسئلہ ہے جس کے لیے ہم نے چیئر مین سے مل کر واٹر بورڈ کے دفاتر کے چکر لگائے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس فنڈ نہیں ہے کہ ہم والو تک تبدیل کرواسکیں، سیوریج کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ فقیر کالونی توحید محلے میںکچرے کے ڈھیر پڑے ہیں پارکوں،اسکولوں اور سرکاری ڈسپنسری کے آگے کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، سرکاری ڈسپنسری جو کہ یوسی آفس میں تبدیل کردی گئی تھی آج اس کی حالت کھنڈر سے بھی بد تر ہے ، جس میں منشیات کے عادی افراد کا بسیرا رہتاہے جرائم پشہ عناصر آکر بیٹھتے ہیں علاقے میں تین پائپ کی لائنیں ہیں 4 نمبر 8 نمبر اور 10 نمبر مگر پانی کسی ایک لائن میں بھی نہیں آتا۔ پانی پر مافیا کا قبضہ ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ واٹربورڈ کا عملہ نظر نہیں آتا با اثر افراد اپنی من مانی کرتے ہیں جہاں دل کرتا ہے والو کا رخ تبدیل کردیتے ہیں۔
توحیدی محلے کا روڈ واجد شہید چوک تک بناناتھا مگر اس کو بھی مکمل نہیں کیاگیا۔
عبدالوحید نے بتایا کہ ہریانہ کالونی کی گلی نمبر4 میں چیئر مین عبدالقیوم کی جانب سے سیوریج کا نظام از سر نو تعمیر کروایاگیا سیوریج کے حوالے سے تو گلی کا نظام بہتر ہے لیکن پانی کی لائنوں کے لیے ہم علاقہ مکینوں نے 80ہزار روپے جمع کرکے 6 انچ کی لائن ڈلوائی لیکن پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ہمیں پانی نہیں ملتا، ہماری لائن پر والو کی مرمت کرنی ہے لیکن واٹر بورڈ کا عملہ ملتا ہی نہیں اس لیے اب ہم علاقہ مکینوں نے مل کر پانی کے لیے والو بھی خریدنا ہے تاکہ پانی کے عذاب سے نجات مل سکے۔
یوسی چیئر مین سے جب سوال کیاگیا کہ آخر کیوں لائنیں درست نہیں ہورہی ہیں اور تمام وال کیوں تبدیل نہیں ہورہے۔
جواب میںچیئر مین کا کہنا تھا کہ ہم نے واٹربورڈ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو بتا دیا ہے اسکیمیں دے چکے ہیں پر فنڈ نہ ہونے کا بہانہ بناتے ہیں۔ چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمیں فنڈ نہیں مل رہا جویوسی فنڈ فراہم ہوتاہے اس سے ہم سیوریج کے مسائل اور آفس کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ آج تک علاقے میں سیوریج کا جتنا کام کروایا گیا ہے وہ تمام کام ہم نے یوسی فنڈ سے کیا ہے اس میں نہ ہی DMC نے اور نہ ہی MC نے ہماری مدد کی ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے تعاون حاصل رہا۔ مین ہولوں کے کور (Cover) جن علاقوں میں لگائے تھے وہ ٹوٹ چکے ہیں۔ یہ ٹوٹے مین ہول حادثات کا سبب بھی بن رہے ہیں لیکن ڈی ایم سی، کے ایم سی کی جانب سے ہمیں آج تک مین ہول کور تک نہیں ملے ہیں۔ یوسی میں کچرے کے ڈھیرکی ذمے داری بھی انہیںاداروں پر عائد ہوتی ہے کیونکہ ہماری یوسی میں کچرا اٹھانے کے لیے کوئی گاڑی فراہم نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے کچراگلیوں کی زینت بناہواہے۔ علاقے کے پارک اور اسکولوں کے اطراف قبرستان کچرے سے بھرے پڑے ہیں۔ ہم تو متعلقہ اداروں میں روزانہ چکر لگاتے ہیں۔ خدارا یوسی سے کچرا اٹھانے کے لیے گاڑیاں فراہم کی جائیں، مگر آج تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ہفتے بعد ایڈمنسٹریٹر تبدیل ہوجاتاہے تو آخر ہمیں بھی بتایاجائے کہ ہم اپنے مسائل کہاں لے کر جائیں۔
وارڈ کونسلر حاجی کریم کا کہنا تھا کہ کچرا اٹھانے والی گاڑی بروقت نہ ملنے کی وجہ سے وارڈ مین کچرا کنڈیا ں بنی ہوئی ہیں یہ کچرا کنڈیاں بننے کی ذمہ داری ایڈمنسٹریٹر پر عائد ہوتی کیونکہ ہم کو گاڑیاں اور عملہ فراہم نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے کچرے کے ڈھیڑ میںدن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے دوسر ی جانب علاقے میں منشیات کے حوالے سے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
لیبر کونسلر راؤ محمد تقی کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کی جانب سے علاقے کے لیے کوئی تعاون نہیں کیا جا رہا۔ ہم اپنی طرف سے ترقیاتی اسکیم دیتے ہیں پر آج تک ہمارا کسی نے ساتھ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھاکہ ہمارے ہاتھ میں کوئی فنڈ نہیں ہے جس سے ہم علاقے میں کوئی کام کروا سکیں ۔یوسی میں سرکاری املاک کی تباہی کی وجہ ہی یہی ہے کہ اس کی دیکھ بھال کے لیے کوئی نظام ہی قائم نہیں۔ ڈسپنسری کی جگہ پر قبضہ کر کے گھر بنا دیے گئے ہیں اس کا نوٹس لینے کے لیے وزیر اعلیٰ تک کو درخواستیں بھیج چکے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ