عوامی مسائل کا حل جماعت اسلامی کی دیانت دار قیادت ہی کر سکتی ہے، سابق ایم این اے محمد لئیق خان

50

عوام سے جھوٹے وعدے کرکے ووٹ حاصل کرنے و الے آج اختیارات کا رونا رو رہے ہیں
سابق ایم این اے محمد لئیق خان نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان مسائل کے حوالے سارا شہر ہی پریشان ہے ۔جنہوں نے عوام سے جھوٹے وعدے کرکے ووٹ حاصل کیے وہ آج اختیارات کا رونا رو رہے ہیں۔عوام مسلسل پس رہے ہیں۔ اسکولوں کا نظام درہم برہم ہے۔ نعمت اللہ خان صاحب کے دور میں بننے والے تمام پارک بلدیاتی حکومتوں کی نا اہلی کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے حلقے کی یوسی 21 ہریانہ کالونی این اے کا وہ حصہ ہے جو تمام بنیادی مسائل سے دوچارہے۔ 2002ء کے الیکشن میں جب وہ کامیاب ہوئے تو اس دور میں پورے این اے کے لیے مختلف پروجیکٹ تشکیل دیے گئے۔ جن میں سڑکوں کی تعمیر، پانی کے مسائل، سیوریج کے مسائل، اورنگی ٹاون کے لیے اولڈ ہاوس کا قیام جس میں بز رگ افراد کی خدمات حا صل کرکے غریب طلبہ کے لیے اسکولنگ کا نظام قائم کرنا تھا جس کے لیے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا گیا لیکن اس دور کی حکومت نے اس کو پاس ہونے نہیں دیا۔
یوسی 21 ہریانہ کالونی میں نعمت اللہ خان کے دور میں سٹی گورنمنٹ سے مل کر فقیر کا لونی پریشان چوک سے لے کر اورنگی ٹائون تک کی مرکزی شاہراہ بنائی گئی تمام گلیوں کی سی سی فلورنگ کا کام کروایا۔ یوسی 21 ہریانہ کالونی کا سب سے اہم مسئلہ منشیات فروشی کا ہے جہاں پر منشیات کی روک تھام کے لیے ہم نے پولیس کی مد د سے کئی آپریشن کروائے جس کی وجہ سے جو منشیات گلیوں اور چوراہوں میں کھلے عام فروخت ہوتی تھی اس کا خاتمہ کروایا۔ منشیات فروشی کی وجہ سے اس علاقے کے نوجوان تباہی کی جانب گامزن تھے لیکن ہما ری کوششوں کے نتیجے میں اس برائی کا مکمل خاتمہ کردیا گیا تھا۔
آئندہ 2018ء میں ہونے والے الیکشن کے بارے میں سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس حلقہ میں الیکشن کے اعتبار سے گزشتہ الیکشن سے صورت حال قدرے مختلف ہے کیوں کہ کراچی کی سیاست میں روز بروز ہونے والی تبدیلی کا اس حلقہ پر گہرا اثر ہے۔ایک جانب ایم کیو ایم کی تقسیم، پی ایس پی کا وجود میں آنا اور ایم ایم کی بحالی سمیت نئی حلقہ بندیوں کے نتیجے میں ووٹوں کی تقسیم بھی ایک مسئلہ ہے۔ 2002ء کے الیکشن میں اس حلقے سے جماعت اسلامی کا مقابلہ ایم کیو ایم سے رہا لیکن اب پی ایس پی کے وجود میں آنے کے بعد ایم کیوایم کی پوزیشن اتنی مضبوط نہیں رہی ہے ۔الیکشن میں کامیابی کے لیے اس حلقے سے تمام جماعتیں پر امید نظر آتی ہیں۔ایم ایم اے کی بحالی کے بعد اس حلقہ میں ایم ایم اے کے بھی کا فی ووٹر ہیں جو کہ الیکشن پر بھر پور اثر رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ پختون آبادیوں کے ووٹ بھی ٖفیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ