مزاح اور خوش طبعی

72

ابو عبداللہ

اسلام ایک کامل ومکمل دین ہے۔ جو دنیائے انسانیت کے لیے خالق کائنات کا ایک حسین تحفہ اور بے مثال نذرانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنفس نفیس اس کے احکام و قوانین وضع فرمائے ہیں۔ اور یہ احکام و قوانین عین انسانی فطرت سے ہم آہنگ اور موافق ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ خالق انسانیت ہے۔ اسی نے انسانی فطرت اور مزاج تخلیق فرمایا ہے۔ لہٰذا اس سے زیادہ انسان کا مزاج شناش اور فطرت شناش اور کون ہوسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اسلامی احکام اور قوانین میں جو انسانی مزاج اور فطرت کی رعایت نظر آتی ہے۔ بلاشک وشبہ اس کی نظیر اور مثال دنیائے انسانیت کے کسی قانون اور دستور میں دستیاب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خود ساختہ انسانی قوانین کا ردوبدل اور ترمیم و تنسیخ کے بھینٹ چڑھنا ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ بنا ہوا ہے مگر قوانین اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی بلکہ وہ ہر ملک کے باسی اور ہر صدی کے پیدائشی انسان کے مزاج اور فطرت کے موافق ومطابق ہیں۔ فطرت سلیمہ نے کسی قانونِ شرعی میں ردوبدل کا نہ کبھی مطالبہ کیا ہے اور نہ کرے گی (ان شاء اللہ) ہاں فطرتِ خبیثہ رذیلہ اس کا مطالبہ کرتی رہتی ہے۔ مگر اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ کسی حکم شرعی میں کوئی نقص یا خامی ہے بلکہ اس کی وجہ خود مطالبہ کرنے والی فطرت کا نقص اور کجی ہے۔ الغرض اسلام نے وضع قانون میں انسانی مزاج اور فطرت کی بدرجۂ اتم رعایت برتی ہے۔ خوشی ہو یا غمی، صحت ہو یا مرض، بچپن ہو یا جوانی یا بڑھاپا۔ شریعت نے ہرحال، ہر آن اور ہر مرحلے پر انسانی مزاج کے موافق احکام وقوانین مقرر کیے ہیں۔
مزاح اور خوش طبعی
مزاح اور خوش طبعی یا مذاق اور دل لگی ایک ایسی پرکیف اور سرور آگیں کیفیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے تقریباً ہر انسان میں ودیعت فرمائی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ مادہ کسی میں کم تو کسی میں کوٹ کوٹ کر رکھا ہے سرور وانبساط کے موقع پر انسان سے بکثرت اس کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ بلاشبہ ایک ایک عظیم نعمتِ خداوندی ہے۔ جو دلوں کی پژمردگی کو دور کرکے ان کو سرور وانبساط کی کیفیت سے ہمکنار کرتا ہے۔ عقل وفہم کے تعب وتکان کو زائل کرکے نشاط اور چشتی سے معمور کرتا ہے۔ جسمانی اضمحلال کو ختم کرکے فرحت وراحت سے آشنا کرتا ہے۔ روحانی تکدر اورآلودگی کو مٹاکر آسودگی کی نعمت سے روشناس کراتا ہے۔ بارہا دیکھا گیا ہے کہ غمزدہ اور مصیبت کے مارے انسان کے سر سے غم واندوہ کے بادلوں کو ہٹانے اور چھٹانے کے لیے اسی نعمت سے کام لیا جاتا ہے۔
الغرض مزاح اور دل لگی انسانی فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے جو خود خالق ومالک نے اس میں ودیعت فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر فردِ بشر میں یہ مادہ معتد بہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ جو شخص اس عطائے الٰہی کو منجمد نہیں رہنے دیتا اس کو بروئے کار لاتا ہے وہ صحیح معنی میں فوائدِ کثیرہ اور منافعِ عظیمہ حاصل کرتا ہے۔ چنانچہ تجربہ شاہد ہے کہ جو شخص اس ودیعت الٰہی سے استفادہ نہیں کرتا بلکہ بہ تکلف اس کو دباتا ہے۔ اپنے اوپر وقار اور سنجیدگی کا خول چڑھا لیتا ہے اور اپنے آپ کو وقار اور تمکنت کا مجسم پیکر بناکر لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اسے مغرور، متکبر، بدمزاج، بدخلق، نک چڑھا جیسے القابِ بے بہا سے نوازا جاتا ہے۔ اس کے لیے افادہ اور استفادہ امرمحال بن جاتے ہیں وہ چاہے کثیر و عظیم علوم کا امین ہو اور دیگر بہت سے خواص کا حامل ہو مگر اس کے ان خواص سے اہل عالم کماحقہ استفادہ نہیں کرپاتے اس کے برخلاف جو انسان اس نعمت خداوندی کو بروئے کار لاتا ہے۔ اسے منجمد نہیں رہنے دیتا اہل دنیا اسے متواضع، منکسر المزاج، خوش اخلاق، خوش طبع، خوش مزاج جیسے القاب سے نوازتے ہیں، اپنے متعلقین ومتوسلین میں وہ بڑا ہی مقبول ومحبوب ہوتا ہے۔ دنیا میں وہ ہر دلعزیز بن کر زندگی بسر کرتا ہے کثیر تعداد میں لوگ اس سے استفادہ کرتے ہیں نتیجتاً اس کی صلاحیتوں اور استعداد کو جلاء ملتی جاتی ہے اور اس کی قابلیتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام بہ ہمہ وجوہ امت کے فکر وغم میں مستغرق ہونے کے باوجود ان میں بھی ایک فطری جذبہ ہے۔ موقع اور محل کی مناسبت سے انسان سے اس کا صدور مطلوب ہے اور محمود بھی۔ جب شریعتِ اسلامیہ عین فطرتِ انسانیہ کے موافق ہے تو اس میں اس فطری جذبے یعنی مزاح و خوش طبعی کے احکام نہ ہوں۔ یہ ناممکن ہے۔
ہماری شریعت تمام امور میں اعتدال پسند واقع ہوئی ہے، لہٰذا مزاح اور خوش طبعی میں بھی اعتدال کو ملحوظ رکھا ہے۔ چنانچہ موقع اور محل کی مناسبت سے احیاناً مزاح مباح بلکہ مستحب ہے۔ تو اس کی کثرت اور اس پر مداومت مذموم قرار دی گئی ہے۔
پھر مزاح کا مبنی برصدق و حق ہونا بھی ضروری ہے۔ ایک بار صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ بھی ہمارے ساتھ دل لگی فرماتے ہیں تو رسول اللہ نے فرمایا کہ میں صرف حق بات کہتا ہوں۔ (مشکوۃ)
یعنی اگر میں تم لوگوں سے مزاح اور دل لگی کرتا ہوں تو وہ بھی مبنی برحق و صدق ہوتا ہے۔ جھوٹ پر مبنی نہیں ہوا کرتا۔
سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسولؐ سے سواری طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا تو سائل نے عرض کیا کہ میں اونٹنی کے بچے کا کیاکروں گا تو رسولؐ نے فرمایا کیا اونٹنی اونٹ کے علاوہ بھی کسی کو جنتی ہے؟ (مشکوٰۃ)
ملاحظہ فرمائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں سائل سے مزاح بھی فرمایا اور اس میں حق اور سچائی کی رعایت بھی فرمائی سواری طلب کرنے پر آپ نے جب اونٹنی کا بچہ مرحمت فرمانے کا وعدہ فرمایا تو سائل کو تعجب ہوا کہ مجھے سواری کی ضرورت ہے اور اونٹنی کا بچہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اس پر سواری کی جائے تو آپؐ نے اس کے تعجب کو دور کرتے ہوئے اور اپنے مزاح کا انکشاف کرتے ہوئے فرمایا کہ بھائی میں تجھے سواری کے قابل اونٹ ہی دے رہا ہوں مگر وہ بھی تو اونٹنی ہی کا بچہ ہے۔
ایک انصاری صحابیہ آپؐ کی خدمت میں حاضر تھیں، آپ نے اس سے فرمایا کہ جا جلدی سے اپنے خاوند کے پاس اس کی آنکھوں میں سفیدی ہے وہ ایک دم گھبرا کرخاوند کے پاس پہنچی تو خاوند نے پوچھا کیا مصیبت ہے؟ اس طرح گھبراکر دوڑی کیوں چلی آئی؟ اس نے کہا کہ مجھے میرے نبیؐ نے خبر دی ہے کہ تمہاری آنکھوں میں سفیدی ہے اس نے کہا ٹھیک ہے مگر سیاہی بھی تو ہے تب اسے اندازہ ہوا کہ یہ مزاح تھا اور ہنس کر خوش ہوئی اور فخر محسوس کیا کہ اللہ کے رسولؐ مجھ سے اس قدر بے تکلف ہوئے کہ میرے ساتھ مزاح فرمایا۔ (لطائف علمیہ) اس کے علاوہ بھی آپؐ کے مزاح کے بہت سے واقعات کتب احادیث میں موجود ہیں جو مزاح کے سنتِ مستحبہ ہونے پر دال ہیں۔ لیکن یہ تمام واقعات اس بات پر شاہد ہیں کہ مزاح مبنی برصدق ہونا چاہیے اور اس میں ایذاء رسانی اور دل شکنی کا پہلو نہ ہونا چاہیے بلکہ مخاطب کی دلجوئی اور نشاط آوری مقصود ہونی چاہیے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ مزاح ایک فطری جذبہ ہے انسان سے اس کا صدور مذموم اور قبیح نہیں بلکہ ممدوح اور مقصود ہے اس کا صدورانبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے بھی ہوا ہے صحابہ کرام سے بھی اور اولیائے کرام سے بھی۔ یہ خیال ضرور رہے کہ ہمارا مزاح اور دل لگی کسی کی دل شکنی اور ایذاء رسانی کا سبب نہ ہو۔ اس سے آج کل کے مروجہ اپریل فول کا حکم بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ ناجائز اور حرام ہے ایک تو اس وجہ سے کہ اس میں اتباع بالغیر اور تشبہ بالغیر لازم آتا ہے اور دوم اس وجہ سے کہ اس میں جو مزاح اور مذاق ہوتا ہے اس میں ایذاء رسانی اور لوگوں کو پریشان کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح جو مزاح مبنی برحق ہو لیکن اس میں ایذاء رسانی کا خطرہ ہو تو وہ بھی ناجائز کے زمرے میں آجائے گا۔ مثلاً کوئی سائیکل یا موٹر سائیکل سوار گذر رہا ہے اس کو کہا کہ آپ کی سائیکل کے پچھلے پہیّے گوم رہے ہیں حالانکہ یہ مزاح مبنی بر حق ہے کہ واقعتا پچھلے پہیّے گھوم رہے ہیں، مگر سوار غلط فہمی میں مبتلاہوکر پیچھے مڑکر دیکھتا ہے اور نتیجتاً زمین بوس ہوجاتا ہے ایسے مزاح سے پرہیز کرنا چاہیے۔ واللہ تعالی اعلم

Print Friendly, PDF & Email
حصہ