قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ 

83

اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اْن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے۔ اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اْس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اْن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کر ے ۔ (سورۃ النساء:35تا36)
سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا: اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا، ان کی لمبائی ساٹھ گز کی تھی جب اللہ نے ان کو بنایا تو ان سے فرمایا جاؤ اور اس جماعت کو سلام کرو اور وہ جماعت فرشتوں کی تھی پھر سنو کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتی ہے وہ جو جواب دے گا وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا جواب ہے۔ سیدنا آدمؑ اس حکم الٰہی کی تعمیل میں فرشتوں کی اس جماعت کے پاس گئے اور کہا کہ السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا۔ السلام علیک ورحمۃ اللہ آپؐ نے فرمایا کہ گویا آدمؑ کے سلام کے جواب میں ورحمۃ اللہ کا لفظ فرشتوں نے زیادہ کیا پھر آپؐ نے فرمایا کہ پس جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ آدم کی صورت پر ہوگا۔ پھر آدمؑ کے بعد لوگوں کی ساخت برابر کم ہوتی رہی یہاں تک کہ موجودہ مقدار کو پہنچی۔ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ