یہ بتاؤ کہ مسلمان بھی ہو

162

اسما سید عبدالقادر

ہم نبی اکرمؐ کے اُمتی ہیں، ہم کو اللہ نے بڑے اعزاز سے نوازا ہے، مسلم امت دُنیا کی امام ہے، اس کا کام تمام انسانیت تک اللہ کا دین پہچانا اور سب سے پہلے قرآن کے احکامات اور رسول کریمؐ کی سنتوں پر اور شریعت مطہرہ پر عمل کرنا ہے۔ پاکستان اللہ کے نام پر بنا اور لاکھوں افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ اس زمین کے لیے پیش کردیا۔ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے والے شرپسند عناصر کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ آج پاکستان قعرومذلت کے گڑھے میں گرتا جارہا ہے اور یہاں کے رہنے والے اسفل السافلین میں اپنا شمار کروارہے ہیں۔ چند سال پہلے اتنی برائیاں پاکستان میں تھیں اور نہ ہی اس قدر شرمناک واقعات ظہور پزیر ہوا کرتے تھے۔ لیکن تقریباً دس سال پہلے سے فحاشی، عریانی اور بے حیائی نے یہاں جنم لیا، یہاں تک اپنوں کا پاس نہ رہا۔ غیر مسلم دنیا اپنی ثقافت سے بیزار ہوگئی اور وہ چاہتی ہے کہ اسلام کے ماننے والے بھی اپنا دین، ثقافت بھول کر دنیا کی بد رنگیوں میں مبتلا ہو کر جہنم کے سزاوار ہوجائیں۔ قصور میں چھوٹی سی بچی کے ساتھ جو ہوا وہ پاکستان کے باسیوں کو شرم سے ڈوب مرنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اب پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا فحاشی، بے حیائی کا باوا آدم ہے، جو ڈرامے دکھائے جارہے ہیں، جو پروگرام صبح آتے ہیں، خبروں کے درمیان بھی برہنہ اشتہارات دکھائے جاتے ہیں، ان کو بار بار دیکھ کر اکثر لوگ نفس امارہ کے شر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ وہ خبریں جو بے حیائی کو فروغ دیتی ہیں ان کو تین چار دن تک مسلسل دکھایا جاتا ہے اور ساری دنیا میں پاکستان کو بدنام کیا جاتا ہے۔
میڈیا کے کرتا دھرتا شاید دین اور اس کی سخت سزاؤں سے واقف نہیں ہیں اور ان کو اپنے انجام کی پروا نہیں کیوں کہ یہود و نصاریٰ ان کو مدد فراہم کرتے ہیں اور یہ ان پیسوں سے دنیا کو جنت بنانا چاہتے ہیں لیکن اللہ کے غضب کو بھول جاتے ہیں۔ چھوٹے بچوں اور معصوم کلیوں کے ساتھ اتنا بدترین سلوک۔ عرش کانپتا ہوگا، آسمان روتا ہوگا اور زمین لرزہ براندام ہوتی ہوگی اور اللہ سے ڈرنے والے توبہ کرتے ہیں اور وطن عزیز کی سلامتی کی دُعا اور ربّ کے قہر سے کانپتے ہوں گے۔ سب سے زیادہ ذمے داری حکمران طبقے کی ہے، ان کو عوام کی کوئی فکر نہیں چھرا گھونپنے والا اپنی کارروائی کرتا رہا اور پولیس بے بسی سے تماشا دیکھتی رہی۔ پیسے کی حرص و ہوس نے اپنے فرائض سے غافل کردیا۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ معصوم زینب کے گھر اس کے والدین سے تعزیت کے لیے گئے اور کچھ پیسے بھی تھما کر آگئے۔ کیا حکمرانوں کی ذمے داری صرف اتنی ہی ہے۔ مجرم کو پکڑ کر اسلامی قانون کے مطابق سزا کیوں نہیں دی جاتی، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’کسی پاک دامن خاتون پر الزام لگانے والے کو 80 کوڑے مارے جائیں اور زنا کی سزا رجم ہے۔ اور جب یہ سزا مجرم کو دی جائے تو شہریوں کا ایک گروہ اس کو دیکھے اور عبرت حاصل کرے‘‘ دو چار کی گردن سرعام اُڑائی جائے تو آئندہ یہ فعل کرنے والے محتاط ہوجائیں گے۔ مجرم اول تو پکڑا نہیں جاتا۔ اگر پکڑا جاتا ہے تو سزا نہیں دی جاتی، وہ جیل میں جھوٹے گواہ پیسے دے کر خرید لیتا ہے۔ وہ عدالت میں جھوٹی گواہی دیتے ہیں اور مجرم آزاد ہوجاتا ہے۔ یہ اس کی نامراد زندگی کا خوش کن لمحہ ہوتا ہوگا۔
علما سے درخواست ہے کہ خدارا اپنی حیثیت پر غور کریں، ان معاملات میں سب سے پہلی پوچھ آپ ہی سے ہوگی۔ ہر جمعہ کو خطبہ اور وعظ میں معاشرے کے اصلاحی عنوانات کو موضوع کیوں نہیں بنایا جاتا۔ امام مسجد کی ذمے داری صرف نماز پڑھانا نہیں بلکہ معاشرے کی برائیوں کو اُجاگر کرنا بھی آپ کا کام ہے۔ آج علما دین اور وہ فرد جو دین کا فہم رکھتا ہے، اللہ کے احکامات اور اسوۂ حسنہ کے بارے میں لوگوں کو بتائیں، جنت کی خوشخبریاں اور جہنم کی آگ سے ڈرائیں، دلسوزی سے لوگوں کو آگہی دیں، علما کرام اور مذہبی اسکالر بھی اپنی ذمے داری کو سمجھیں، مختلف مساجد میں جا کر لوگوں کو دین کے تمام احکامات بتائیں۔ پوچھ تو ہم سب کی ہوگی لیکن علمائے دین سب سے پہلے آپ سے پوچھا جائے گا۔ اللہ ہم تجھ سے توبہ کرتے ہیں، تو ہماری توبہ کو قبول کرکے سیدھے راستے پر چلا۔ آمین

Print Friendly, PDF & Email
حصہ