عالمی امن کیلئے کشمیر اور فلسطین کے مسائل جلد حل ہونے چاہئیں،ممنون حسین

520

صدر مملکت ممنون حسین اور اردن کے شاہ عبداللہ نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ، تعلیم اور ثقافتی شعبوں میں تعاون میں اضافے پر اتفاق کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اور اردن مختلف شعبوں میں اپنے خصوصی تجربے سے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔

دونوں رہنماں کے درمیان یہ اتفاق رائے ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آیا۔ اس موقع پر صدر مملکت کی معاونت وفاقی وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر ، سیکریٹری خارجہ اور دیگر اعلی حکام نے کی جبکہ شاہ عبداللہ کی معاونت اردن کے وزیر خارجہ ایمن سفادی ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمودفریحات اور دیگر اعلی حکام نے کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ امریکا کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے معاملے میں اردن نے جرت مندانہ موقف اختیار کیا ، پاکستان اس کی قدر کرتا ہے ۔ اس موقع پر اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے مسلم امہ کے مسائل کے حل کے لیے جو موقف اختیار کیا گیاہے وہ ہمارے لیے باعث تقویت ہے ۔

صدر مملکت نے مزید کہا کہ کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ مسائل کا حل عالمی امن و استحکام کے لیے ضروری ہیں ۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور اردن انتہائی گہرے سیاسی ، ثقافتی اور تاریخی رشتوں میں منسلک ہیں۔انھوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت دونوں ملکوں کے انتہائی گہرے اور برادرانہ تعلقات کی درست عکاسی نہیں کرتی۔

انھوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان اور اردن کے درمیان زیادہ سے زیادہ تجارتی وفود کا تبادلہ ہونا چاہیے۔ شاہ عبداللہ نے صدر مملکت کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی معیشت کے استحکام کے لیے باہمی تجارت میں اضافہ ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں مارچ میں مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں غور ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ