سندھ ہائی کورٹ ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کا 15 دن میں فیصلہ کرے،چیف جسٹس

237

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سندھ ہائی کورٹ کو آئندہ ہفتے فوری بنچ تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایگزیکٹ مقدمات کا 15 دن میں فیصلہ کیا جائے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے3رکنی بینچ نےایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی سماعت کی ۔دوران سماعت عدالت نے ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کاحکم دیدیا تاہم شعیب شیخ اور دیگر ملزمان کی ملک سے باہر نہ جانے کی یقین دہانی پر حکم واپس لے لیا۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ سندھ ہائی کورٹ میں مقدمات زیرالتوا کیوں ہیں؟ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کو آئندہ ہفتے فوری بینچ تشکیل دینے اور ایگزیکٹ مقدمات کا 15 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ کیاایگزیکٹ کا کسی یونیورسٹی سے الحاق ہے ؟۔ڈی جی ایف آئی اے بشیرمیمن نے کہا کہ کسی یونیوسٹی کاایگزیکٹ سے الحاق نہیں تھا، یونیورسٹیوں کاصرف ویب پیج تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کیمپس نہیں تو کلاس رومز بھی نہیں ہوں گے۔ڈی جی ایف آئی بشیرمیمن نے بتایا کہ ایگزیکٹ سے ڈگری1گھنٹے میں مل جاتی تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے یہاں بھی ورچوئل یونیورسٹی ہے،کیاورچوئل یونیورسٹی کوئی پروگرام کنڈکٹ بھی کرتی تھی؟۔ڈی جی ایف نے بتایا کہ5ہزار ڈالرز میں ایگزیکٹ ڈگری مل جاتی ہے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ سندھ ہائی کورٹ میں مقدمات زیرالتوا کیوں ہیں؟سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کو آئندہ ہفتے فوری بنچ تشکیل دینے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ ایگزیکٹ مقدمات کا15دن میں فیصلہ دے۔ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے بتایا کہ تجربہ پر ایگزیکٹ والی ڈگر ی مل جاتی تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ میرا قانون کا تجربہ ہے مجھے پی ایچ ڈی کی ڈگری مل سکتی ہے؟۔بشیر میمن نے کہا کہ تجربہ کی بنیاد پر آپکو قانون اور انگلش کی ڈگری مل سکتی ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میری انگلش اتنی اچھی نہیں ہے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ یونیورسٹیاں تو کسی قانون کے تحت بنتی ہیں؟۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کام 2006 سے ہو رہا ہے، 2006 سے 2015 تک یہ کاروبار ہوتا رہا،اگر یہ درست ہے تو لوگوں سے فراڈ ہوا،جب میڈیا میں خبریں آئیں تو ایف آئی اے نے معاملات کو دیکھنا شروع کیا،اس جرم کو ثابت کرنے کے لیے ایف آئی اے کیا کر سکتا ہے؟۔ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے بتایا کہ اسلام آباد کے مقدمے میں ملزم بری ہو چکے ہیں۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے پوچھا کہ کیااسلام آباد ہائی کورٹ میں ایف آئی اے نے ثبوت پیش کیے ؟۔جس پر ڈی جی ایف آئی اے بشیرمیمن نے جواب دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل زیرالتوا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ