صحت مند زندگی کے 10 ستون

286

-1 پھیپھڑوں کو تازہ ہوا سے بھریے
ہم لگاتار کئی ہفتوں تک بغیر خوراک کے زندہ رہ سکتے ہیں۔ کئی دن اگر پانی نہ پییں تو بھی کام چل سکتا ہے لیکن ہوا کے بغیر تو کچھ منٹ تک جینا بھی دشوار ہے تو اپنے پھیپھڑوں کو مسلسل چھوٹے چھوٹے مگر تیز سانس سے بھر لیجیے۔ یہ سانس زندگی کے سانس ہیں۔ یاد رکھیے اگر کھل کر سانس نہ لے کر آدھا سانس ہی لیتے ہیں تو آپ آدھے زندہ ہیں۔
-2 زیادہ میٹھا اور سٹارچ نہ کھایئے
ہم سب اتنی چینی استعمال کرتے ہیں کہ ایک طرح سے اپنے جسم کو چینی کے زہر ہی سے بھر دیا ہے۔ بس تین چوتھائی چینی کا کوٹا اپنی خوراک سے نکال دیجیے۔ ایسی خوراک جس میں زیادہ سٹارچ ہو، نہ استعمال کیجیے۔ کھاتے وقت خوب چبا چبا کر کھائیے اور خوش رہیے۔
فکر مندی یا غصے کی حالت میں کبھی نہ کھائیے۔ ایسی حالت میں بجائے اس کے کہ کھا کر ہم کھانے کو زہر بنادیں اس سے تو نہ کھانا ہی اچھا ہے۔
-3 پانی خوب پییں
باہر کی صفائی سے جسم کی اندرونی صفائی زیادہ ضروری ہے۔ اتنا پانی ضرور پییں کہ جسم دھل جائے۔ ویسے انسان کا جسم بھی تو پانی ہی ہے۔ 5 میں سے 6 حصے پانی۔ نظام جسمانی کے ہر پُرزے کو ٹھیک سے اپنا کام انجام دینے کے لیے پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ جسم سے گندے مواد کا اخراج جسم میں پانی کی کافی مقدار کی موجودگی پر بھی منحصر ہے۔
بس روزانہ کم از کم دو سیر پانی ضرور پییں اور تندرست رہیے۔
-4 ورزش کیجیے
بغیر حرکت کے جسم میں لاغری آتی ہے اور پھر انجام موت یا پر یہ بھی حقیقت ہے کہ جسم کے جس حصے کو آپ جتنا کم ہلاتے جُلاتے ہیں اتنا ہی وہ ناکارہ اور نکما ہوتا جاتا ہے۔ ڈنڈ پیلنے اور اسی قسم کی دوسری ورزشوں سے سیر کرنا اور دوڑ لگانا کہیں اچھا ہے۔ روزانہ کم سے کم 3 میل ضرور چلیے۔
-5 آرام کرنا سیکھیے
کام سے کوئی نہیں مرتا۔ فکر و تفکرات ہمیں مارتے ہیں۔
فکر اور تفکرات سے غافل ہونا ہی حقیقتاً آرام ہے۔ اس سخت محنت اور مسلسل جدوجہد کی زندگی میں غافل رہنا بھی سیکھیے۔ روز 3 منٹ تک کے لیے اپنے آپ کو جسمانی اور دماغ آرام دیجیے۔
اپنی توجہ کسی خوش طبع خیال یا چیز پر مرکوز کیجیے اور پھیپھڑوں کو تازہ ہوا سے بھر لیجیے اور پھر پییں پانی کا ایک گلاس اور دیکھیے کہ پھر سے اپنے کام پر جت جانے کے لیے آپ کیسے تروتازہ ہوجاتے ہیں۔
رات کو 8 گھنٹے کی نیند لیجیے اور ہاں دیکھیے کہ سونے سے پہلے اپنے دل و دماغ سے دنیا کے جھمیلے اور تفکرات کو نکال دینا ہر گز نہ بھولیے گا۔ سوتے وقت خوش طبع اور اچھے خیالات دماغ میں لے کر سونے سے یقینا صبح آپ تروتازہ اُٹھیں گے۔
-6 خیالات پر قابو پائیے
ہمارے خیالات ہی ہماری تقدیر کے مالک ہیں۔ ہم جیسا سوچنے کے عادی ہیں، ویسے ہی ہم بن جاتے ہیں، اپنے نواح، اپنی دنیا، اپنی کامیابی اور ناکامی کے ہم خود خالق ہیں۔ تصور کیجیے کہ آپ تندرست ہیں بس سب روگ اور شکایات غائب، خوشحالی کا تصور باندھیے کہ طالع وری آپ کی باندی، خوشیوں کو خیال میں لائیے کہ آسودگی آپ کے تفکرات اور بے آرامی کا خاتمہ کردے۔
-7 جذبات کو سمجھیں
جذبات کو کئی لوگ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے، لیکن یہ تو منور زندگی کی روح ہیں۔ محبت، ہمدردی، خوشی اور غمی۔ ان کے بغیر تو انسان صرف ایک مشین ہو کر ہی رہ جاتا ہے۔
لیکن تباہ کن جذبات روانی، خون میں زہر بھرتے ہیں۔ دماغی نور کو بے نور کرتے اور جسم کی رگوں کو ماردیتے ہیں۔ حسد، نفرت، فکر اور ڈر۔ یہ ہیں موت کے سامان یہ ہماری جسمانی اور دماغی قوت کو چاٹ جاتے ہیں اور ان ہی کے کرم سے ہر طرح کی بیماریاں ہمیں ہوتی ہیں تو ہماری جذباتی موت کا مطلب ہے ہماری نفسیاتی خودکشی۔
-8 پیار کیجیے
زندگی کی تمام رنجشوں، دل خراشیوں اور بیزاریوں کا مرہم ہے پیار، پیار زندگی کی مہک ہے، روشنی وہ دل فریبی ہے جس سے زندگی حقیقتاً تازہ ہوجاتی ہے اور یوں بھی تہذیب اور تمدن کا سرچشمہ، زندگی کی طرح گزارنے کے لیے اپنے خاندان سے محبت کیجیے۔ یاد رکھیے محبت زندگی کا کوئی قانون، کوئی مجبوری نہیں ہے، یہ تو زندگی کا ایک سلجھا ہوا رُوپ ہے۔ اپنی زندگی میں محبت کو جگہ دیجیے اور پھر دیکھیے صحرا میں نخلستان کی طرح لوگ آپ کو چاہنے لگیں گے۔ بس محبت ہی تندرستی ہے، پیار ہی خوشی ہے اور محبت ہی خوش حالی ہے۔

-9 اپنے پر بھروسا رکھیے
بھروسا شکست کو کامیابی میں، نااُمیدی کو اُمید میں اور ناممکن کو ممکن میں بدل دیتا ہے۔ جسے اپنے پر بھروسا ہے اسے کچھ بھی مشکل نہیں۔ ہزاروں میل کا سفر بھی ایک قدم سے شروع ہوتا ہے اور یہ پہلا قدم آپ تبھی اُٹھا سکیں گے جب آپ کو اپنے پر بھروسا ہوگا۔ بھروسا ہمارے اندر کی ایک ایسی طاقت ہے جو میدان زندگی میں ہمیں ہر جگہ فتحیاب کرتی ہے اپنے کو پہچانیے، اپنے مقصد کو جانیے، اپنے اردگرد لوگوں کو، اپنی اس دنیا کو جس میں آپ رہتے ہیں، جسے اپنے پر بھروسا ہے، دنیا کی کوئی طاقت اس کے مقصد میں حائل نہیں ہوسکتی۔ بھروسا ہی روح صحت ہے، بھروسا ہی سب دکھوں اور بیماریوں کی شفا ہے۔
-10 کام کیجیے
صحت، خوشی اور کامیابی اُس کی باندی ہے جو کام سے گھبراتے نہیں، ڈرتے نہیں اور معاوضے سے زیادہ کام کرنے میں اپنی شان سمجھتے ہیں۔ کام کبھی کسی کو دکھ نہیں دیتا، کام کبھی کسی کو مارتا نہیں، کام تو زندگی دیتا ہے، یہ زندگی میں پاکیزگی اور پختگی لاتا ہے، تفکرات کو مارتا اور تباہ کن جذبات سے بچاتا ہے اگر اسی دنیا میں آپ کو جنت کی جستجو ہے تو کام کیجیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ